ملک میں بہت تیزی کے ساتھ کورونا وبا پھیل رہی ہے اور کئی ریاستوں میں اس وبا کو روکنے کے لئے لاک ڈاؤن جیسی سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ جن ریاستوں میں یہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں کرناٹک، مہاراشٹر، دہلی اور راجستھان شامل ہیں، لیکن جس طرح سے یہ وبا پورے ملک میں پھیل رہی ہے اب لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونے لگا ہے کہ کیا ملک میں ایک مرتبہ پھر مکمل لاک ڈاؤن لگانے کی ضرورت ہے؟ اس پر رائے منقسم نظر آ رہی ہے۔

نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق پرو فیسر گریدھر بابو کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ پورے ملک میں لاک ڈاؤن کی ضرورت ہے کیونکہ ہم اس وائرس کے پھیلنے کے طریقے کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں اور ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اس وائرس کا مرکز کہاں پر ہے۔ انہوں نے کہا جیسے کرناٹک میں بنگلورو ہے، ایسے میں پوری ریاست میں لاک ڈاؤن لگانے کا کیا مطلب ہے۔
پروفیسر گری دھر نے مزید کہا کہ ہم کنٹینمنٹ زون بنانے میں کامیاب نہیں ہو پائے ہیں، لاک ڈاؤن صرف ضلع یا شہر کےسطح پر نافذ کرنا ٹھیک ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تعداد گھٹانے پر زور دینا ہوگا تاکہ اسپتالوں پر بوجھ کم ہو۔ دوسری جانب کرناٹک حکومت کی کووڈ ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر وشال راؤ کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن تیاری کا ایک وقت دیتا ہے، لیکن لاک ڈاؤن کے لئے بھی تیاری ضروری ہے۔ واضح رہے لاک ڈاؤن کے دوران ٹیکہ لگوانے کی رفتار بھی سست پڑ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ لاک ڈاؤن کا سیدھا اثر غریب یومیہ مزدوروں پر سب سے زیادہ پڑتا ہے۔ ان کا نہ صرف روز کا ذریعہ معاش ختم ہو جاتا ہے بلکہ ضرورتیں پوری کرنے کے لئے کوئی راستہ نظر نہیں آتا اور ایسے میں بڑی تعداد میں یہ لوگ بڑے شہروں سے اپنے گاؤں کی جانب ہجرت کرتے ہیں۔ ان کی ہجرت کرنے کی وجہ سے چھوٹے موٹے کام بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔