کیا آپ صرف ایک منٹ میں کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں جو آپ کے تناؤ کو کم کریں، آپ کو چاق و چوبند کر دے اور آپ کی قوت مدافعت کو بڑھا دے؟ لیکن اس کے لیے حوصلہ چاہیے اور اگر آپ پرعزم ہیں تو کسی ندی، دریا یا سمندر کے کنارے کھڑے ہو جائیں جب اس کا پانی ٹھنڈا ہو۔

 

اگر آپ اتنے خوش قسمت نہیں ہیں تو کسی ٹھنڈے پانی کے پول، باتھ روم شاور یا نلکے کے پاس ہی چلے جائیں۔ لمبی سانس لیں، اپنی قوت ارادی کو یکجا کریں اور خود کو ٹھنڈے پانی کے سپرد کر دیں۔ اپنے جسم کو یک دم سے ٹھنڈا پانی محسوس کرنے دیں۔لیکن جب گرم پانی سے نہانا کی سہولت میسر ہے تو پھر اتنا کشت کیوں اٹھائیں؟تو جناب ٹھنڈے پانی میں تیراکی کرنا یا ٹھنڈے پانی سے نہانا مقبولیت پکڑتا جا رہا ہے کیونکہ اس کے متعلق یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ آپ کے جسم اور دماغ کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔

 

لہذا سائنسدان انسانی جسم اور دماغ پر ٹھنڈے پانی سے نہانے کے اثرات پر تحقیق کر رہے ہیں۔ اور اس تحقیق سے ابتک یہ بات سامنے آئے ہیں کہ اس کے انسانی جسم و دماغ پر حیران کن فوائد مرتب ہوتے ہیں۔

تحقیق کے اس شعبے میں ممکنہ طور پر انسان کی مختلف جسمانی و ذہنی حالتوں کے لیے بہت کچھ نیا ہے جیسا کہ بلند فشار خون کے مسئلہ سے لے کر ذیابطیس کی دوسری اقسام کے علاج تک اور ڈپریشن سے انسانی جسم میں سوزش اور اشتعال کے مسئلے تک کا ممکنہ علاج موجود ہے۔

 

چلیں ٹھنڈے پانی سے نہانے کی سائنس کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیوں یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ آپ کے موڈ میں بہتری لاتا ہے، آپ کے دماغ کو فائدہ پہنچاتا ہے اور آپ کی دل اور قوت مدافعت کو مضبوط بناتا ہے۔ٹھنڈا پانی جسم میں تناؤ پیدا کرتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کے جسم میں تناؤ کا ایک ایسا نظام بن جاتا ہے جو آپ کو خطرے کا احساس ہونے پر خودکار طور پر کام کرتا ہے تاکہ آپ کے جسم کو جگائے رکھے۔ یہ قدرت ہے ایک انتہائی بہترین اور مؤثر نظام ہے جس میں ایک ہی وقت میں پیر کی انگلیوں سے لے کر دماغ تک پورا جسم ردعمل دیتا ہے۔

ٹھنڈے پانی سے نہانے کے فوائد کی تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسانی جسم ٹھنڈے پانی کو ایک خطرہ سمجھتا ہے اور اس کے خلاف جسم میں تناؤ کا ابتدائی ردعمل دیتا ہے۔ یہ آپ کے رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے، آپ کی دل کی دھڑکن تیز کرتا ہے اور آپ کے اندر بجلی دوڑتی ہے۔آپ کی خون کی نالیوں میں خون تیزی سے دوڑنا شروع کر دیتا ہے اور چند ہی لمحوں میں پورے جسم میں خون کا بہاؤ آپ کے کچھ جسمانی اعضا کو سائز میں دگنا کر دیتا ہے۔ یہ تمام عمل آپ کے جسم کا قدرتی ردعمل ہے جو اسے زندہ رہنے میں مدد دیتا ہے۔

 

لیکن ہمیں تو آج تک بتایا گیا تھا کہ تناؤ ایک بری چیز ہے تو پھر ہم ہر صبح ٹھنڈے پانی سے نہانے کے لیے انسانی جسم کو اس حالت میں کیوں ڈال رہے ہیں جس میں زندہ رہنے کے لیے قدرتی ردعمل کے نتیجے میں جسمانی تناؤ پیدا ہو جبکہ اس کی جگہ ہم ایک گرما گرم چائے کی پیالی کا لطف بھی اٹھا سکتے ہیں۔
چونکہ زیادہ تناؤ یقیناً انسانی صحت یا جسم کے لیے اچھا نہیں ہے لیکن ایسے شواہد مل رہے ہیں کہ تھوڑا سا تناؤ انسانی جسم کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

بس تھوڑا سا
حالیہ برسوں میں مختلف تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مختصر دورانیہ کا تناؤ انسانی صحت کے لیے اچھا ہو سکتا ہے۔ اس بات کا سائنسدانوں نے عوامی سطح پر خطاب کرنے سے لے کر دباؤ میں ذہنی طور پر ریاضی کے سوالات حل کرنے تک کے حالات میں جائزہ لیا ہے اور اس سے یہ بات درست ثابت ہوتی ہے۔

جیسا کہ ٹھنڈے پانی سے نہانا انسانی جسم میں مختصر دورانیے کا تناؤ پیدا کرنے کا ایک پراثر طریقہ ہے اور اس پر تحقیق سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ اس کے فوائد ہیں۔

اس وقت سائنسدان اس بات پر تحقیق کر رہے ہیں کہ پانی کتنا ٹھنڈا ہونا چاہیے تاکہ جسم میں مطلوبہ تناؤ پیدا کیا جا سکے جو انسانی جسم کی قوت مدافعت سے لے کر انسانی رگوں میں جمے چکنائی کے ہارمونز میں تبدیکی پیدا کر سکے۔ فی الحال یہ تحقیق کی ایک نئی شاخ ہے لیکن اب تک اس حوالے سے خوش کن نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

آپ کو کتنی دیر ٹھنڈے پانی میں رکنا ہے؟
اس بارے میں شواہد بڑھتے جا رہے ہیں کہ سردیوں میں تیراکی کرنے والے افراد میں کچھ بیماریاں کم ہوتی ہے جیسا کہ سانس کی نالی میں انفکیشن وغیرہ۔ اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ انھیں ان انفیکشنز کا کم سامنا کرنا پڑتا ہے یا انھیں معمولی انفکیشن ہوتا ہے۔

اس بارے میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ تیراکی نہیں بلکہ ٹھنڈا پانی ہے۔

موسم سرما کے دوران نیدرلینڈ میں کیے گئے ایک سائنسی مشاہدے میں یہ معلوم ہوا ہے کہ ایسے افراد جنھیں 60 دن تک ہر صبح 30 سیکنڈ تک ٹھنڈے پانی سے نہانے کا کہا گیا تھا وہ ان ٹھنڈے پانی سے نہ نہانے والے افراد کے مقابلے میں 30 فیصد کم دن بیمار ہوئے۔

انگلینڈ کی یونیورسٹی آف پورسماؤتھ کے پروفیسر مائیک ٹپٹن اس بارے میں تحقیق کر رہے ہیں کہ جب انسانی جسم پر ٹھنڈا پانی پڑتا ہے تو اس وقت اس میں کیا تبدیلی رونما ہوتی ہیں اور اس کے انسانی ذہن اور جسم پر دور رس مثبت اثرات کیوں مرتب ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘ہم تک ہم نے جو تحقیق کی ہے اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جو لوگ ٹھنڈے پانی سے نہاتے ہیں یا اس میں تیراکی کرتے ہیں ان کی قوت مدافعت بڑھ جاتی ہے۔ مزید یہ کہ قوت مدافعت کی نظام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لمبے غوطے کے مقابلے میں مختصر دورانیے کے غوطے کے زیادہ فوائد ہیں۔‘

یہ بات ان کی لیے اچھی ہیں جو ٹھنڈے پانی میں نہانے یا تیراکی سے زیادہ لطف اندوز نہیں ہوتے۔

تاہم ماہرین نے خبردار بھی کیا ہے کہ ‘اب تک کی تحقیق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فائدہ مند اثرات جلد کو ٹھنڈا کرنے کا نتیجہ ہوسکتے ہیں ، لیکن اگر آپ جسم کے گہرے ٹشوز کو ٹھنڈا ہونے کے لیے کافی دیر تک ٹھنڈے پانی میں رہتے ہیں تو ، یہ ہائپوتھرمیا کا باعث بن سکتا ہے ، جو نقصان دہ ہے۔’

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہےکہ پروفیسر ٹپٹن کے مطابق ٹھنڈے پانی میں مختصر دورانے کا غوطہ لگانا یا نہانا سے مراد دو منٹ یا 120 سکینڈز ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یقینا یہ پر شخص کے لیے مختلف ہے لیکن ہم جو ایک عمومی مشورہ دیتے وہ یہ کہ اگر آپ اپنا سانس بحال رکھ سکتے ہیں تو آپ کم از کم 90 سکینڈ تک ٹھنڈے پانی میں رہیں۔‘

موڈ کو بہتر کرنا
ٹھنڈے پانی میں ڈبکی لگانے والوں یا نہانے والوں کے مشاہدے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کے جسم میں کیمیائی ردعمل کے نتیجہ میں ڈوپامائین، سیروٹائین اور بی اینڈورفین کیمائی مادوں کی تعداد میں اصافہ ہوا ہے۔

اس تحقیق میں یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ ٹھنڈے پانی میں نہانے یا تیراکی کرنے والے افراد میں ڈپریشن کی دوا کا استعمال کم کرنے میں مدد ملی ہے۔ اور اس تحقیق میں ایک دلچسپ پہلو پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ کیسے ٹھنڈے پانی سے نہانا اشتعال کےعمل کو بھی وقت کے ساتھ کم کر رہا ہے۔

یہ انتہائی اہم بات ہے کیونکہ’اشتعال یا غصہ ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ہماری بہت سی جسمانی بیماریوں جیسا کہ ڈپریشن ، الزائمر ، ٹائپ 2 ذیابیطس وغیرہ کی وجہ بنتا ہے۔ ‘

اس کے اثرات کتنے دیر رہتے ہیں؟
اس تحقیق میں ابھی مزید بہت کچھ جاننے کی ضرورت ہے تاہم ابھی تک کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹھنڈے پانی کے طریقہ علاج کے حیران کن اور دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسے چھ افراد جو ٹھنڈے پانی سے نہاتے تھے ان میں ایسے جسمانی اثرات مرتب ہوئے جو ایک برس کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ان میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

پروفیسر ٹپٹن کے مطابق ‘بہر حال، یہ ایک بہت ہی خوش کن امکان ہے، کیوںکہ ہم نے برسوں سے سردی کے نقصان دہ اثرات کا مطالعہ کیا ہے ، لیکن اس دوہری تلوار کے دوسری طرف اس کے ممکنہ فوائد بھی ہیں۔’

لیکن اس کے ساتھ ساتھ پروفیسر ٹپٹن کا کہنا ہے کہ ‘ہمیں یہ ذہن میں ضرور رکھنا چاہیے کہ ہم گرم آب و ہوا کے عادی ہے جو عموماً 28 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر زندگی گزارتے ہیں۔ لہذا اگر نو یا دس ڈگری درجہ حرارت کا پانی آپ کے اوپر پڑے گا تو آپ کے جسم میں تناؤ کا سبب ہو گا۔’ اس لیے آپ قدم بہ قدم یا قطرہ بہ قطرہ جسم کو ٹھنڈے پانی کا عادی کر سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘یہ کچھ ایسا ہے کہ آپ جاگنگ شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں: آپ فوری طور پر متعدد کلومیٹرز تک نہیں بھاگتے، پہلے آپ وارپ اپ ہوتے ہیں اور پھر تھوڑا تھوڑا کر کے فاصلہ بڑھاتے جاتے ہیں۔‘

یقیناً کوئی بھی آپ کو منجمد دریا یا ندی میں کودنے کو نہیں کہے گا لیکن اگر آپ نے خود کو ذہنی طور پر تیار کر لیا ہے تو 30- 40 سکینڈز کے لیے ٹھنڈے پانی سے نہانا ممکن ہو سکتا ہے۔