کیا واقعی کانگریس کو نئے صدر کی تلاش ہے؟سونیا گاندھی نے اس لیڈرکو صدرعہدے کے لئے کیا فون

0 5

کیا واقعی کانگریس کو نئے صدر کی تلاش ہے؟سونیا گاندھی نے اس لیڈرکو صدرعہدے کے لئے کیا فون

پارلیمانی انتخابات میں ہار کے بعد کانگریس صدر راہل گاندھی نے استعفیٰ کی پیشکش کی۔ حالانکہ انہیں منانے کے تمام دورچلے۔ کئی ریاستوں کی یونٹ سے دہلی استعفیٰ بھی آنے لگے۔ ان سب کے درمیان خبرہے کہ راہل گاندھی کی جگہ نئے صدرکی تلاش پوری ہوگئی ہے۔ ذرائع سے ملی خبرکے مطابق مہاراشٹر کے لیڈر سشیل کمارشندے کانگریس کے نئے صدرہوسکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق یوپی اے کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے سشیل کمارشندے کو فون کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پارلیمانی کے سیشن کے بعد کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ بلاکر اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ 

 

سونیا گاندھی کے بے حد قریبی لوگوں میں شمارکئے جانے والے سشیل کمارشندے یوپی اے دوراقتدارمیں کئی اہم عہدوں پررہ چکے ہیں۔ جب مہاراشٹر میں ان کے اورولاس راو دیشمکھ کے درمیان وزیراعلیٰ بننے کی قواعد شروع ہوئی تو پارٹی نے انہیں آندھرا پردیش کا گورنربنا دیا، لیکن انہوں نے ایک لفظ بولے بغیریہ عہدہ لے لیا۔

اس کے بعد انہیں کانگریس کی حکومت میں مرکزی حکومت میں اہم عہدوں پربلایا گیا۔ شندے کوکبھی بہت زیادہ حرص والے شخص کے طورپر نہیں دیکھا گیا۔ ان کو لے کریہ عام خیال ہے کہ انہوں نے پارٹی کے اصولوں اوراحکام کے اوپرجاکرکبھی اپنی خواہشات کو حاوی نہیں ہونے دیا۔ 

پولیس کی نوکری چھوڑ کرسیاست میں آنے کے بعد سشیل کمارشندے نے کبھی الٹ پھیرنہیں دیکھا۔ ان کی سیاسی اننگ اسمبلی الیکشن لڑنے سے ہوئی۔ وہ پانچ باراسمبلی کے رکن کے طورپرمنتخب ہوچکے ہیں۔ سال 1992 میں سشیل کمارشندے کو کانگریس نے راجیہ سبھا بھیجا تھا۔ اس کے بعد شندے نے سال 1999 میں پہلی بارلوک سبھا الیکشن جیتا اورپارلیمنٹ پہنچ گئے۔ اس سے قبل 2002  میں حالات ایسی بنی تھیں کہ شندے کو یوپی اے نے نائب صدرعہدہ کا امیدواربنا دیا۔ حالانکہ این ڈی اے کے امیدواربھیرو سنگھ شیخاوت سے وہ الیکشن میں ہارگئے تھے۔ اس کے بعد منموہن سنگھ حکومت میں سشیل کمار شندے کو مرکز بلا لیا گیا۔

پہلے سال 2009 سے سال 2012 تک وہ ملک کے توانائی کے وزیربنے جبکہ یوپی اے کی دوسری مدت کارمیں وہ 31 جولائی 2012 سے 26 مئی 2014 تک مرکزی وزیرداخلہ رہے۔ اس کے علاوہ سشیل کمارشندے مہا راشٹرپردیش کانگریس کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ حالانکہ سال 2014 اورسال 2019 دو بارسے انہیں عام انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 

 

 

Read More – یہ ایک سینڈیکیڈیڈ فیڈ ہے ادارہ میں اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. بشکریہ سیاست ڈاٹ کام-