کیا میرٹھ میں واقعی 400 ہندوؤں نے مذہب اختیار کر لیا ہے؟

909

انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے میرٹھ ضلعے کا منگتا پورم علاقہ ان دنوں شہ سرخیوں میں ہے۔ یہاں 400 ہندوؤں کے مبینہ طور پر مسیحی مذہب اختیار کرنے کی شکایت میرٹھ پولیس سے کی گئی ہے۔اس کے بعد پولیس نے تین خواتین سمیت نو افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔آخر معاملہ کیا ہے؟:دراصل، مبینہ تبدیلی مذہب کا یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی کے میٹروپولیٹن وزیر دیپک شرما اور سخت گیر ہندو تنظیم ہندو جاگرن منچ سے وابستہ ایک سابق لیڈر سچن سروہی نے گذشتہ ہفتے میرٹھ پولیس سے تقریباً 400 ہندوؤں کی مبینہ تبدیلی مذہب کی شکایت کی۔

اس دوران ان کے ساتھ کئی لوگ نظر آئے جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگوں کو زبردستی عیسائی بنایا گیا ہے۔دیپک شرما نے بی بی سی کو بتایا: ‘منگتا پورم کالونی کے بہت سے لوگ میرے پاس شکایت کرنے آئے تھے۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ یہاں ہمارا مذہب تبدیل کیا جا رہا ہے، لیکن ہم اپنا مذہب نہیں چھوڑنا چاہتے۔ دیوالی (ہندوؤں کا تہوار) منانے سے یہ کہہ کر روک رہے ہیں کہ خدا پر یقین رکھو اور عیسائیت کو مانو۔
دیپک نے مزید کہا: ‘کچھ لوگوں نے ان باتوں پر احتجاج کیا اور وہ میرے پاس آئے۔ پھر ہم نے ان کی شکایت پولیس سے کی، پولیس نے مناسب قدم اٹھایا اور معاملے کو درج کر لیا۔دیپک شرما نے بی بی سی کو کچھ ویڈیوز اور تصاویر بھی دکھائیں۔ ان میں سے کئی ایک مبینہ چرچ کے اندر ستسنگ (اجتماع) اور دعائیہ میٹنگوں میں شرکت کرتے ہوئے دیکھے جا رہے ہیں۔ دیپک شرما نے دعویٰ کیا کہ یہ ویڈیوز کچھ عرصے پہلے کی ہیں۔اس معاملے پیش پیش اور سرگرم ایک دوسرے ہندو رہنما سچن سروہی نے بی بی سی کو بتایا کہ کچی آبادی میں چلنے والے مبینہ چرچ سے کچھ مواد اور مضامین برآمد ہوئے ہیں۔ان کا الزام ہے کہ جن لوگوں نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہے وہ اس راز سے پردہ اٹھانے کو تیار نہیں ہیں کہ یہاں کوئی چرچ ہے۔ پولیس نے اب اس معاملے میں رپورٹ درج کر لی ہے۔میرٹھ کی برہمپوری پولیس نے مقامی کچی آبادی کے رہائیشی وکرانت کی شکایت کے بعد نو مرد اور خواتین کے خلاف رپورٹ درج کی ہے۔ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (برہمپوری) برجیش سنگھ نے بی بی سی کو بتایا: ’28 اکتوبر کو وکرانت نامی شخص کی شکایت پر نو افراد کے خلاف رپورٹ درج کی گئی ہے۔’

ان سب کے خلاف اتر پردیش کے قانون ‘مذہب امتناع ایکٹ 2021’ کی دفعہ 3 اور سیکشن 5(1) کے تحت رپورٹ درج کی گئی ہے۔ان میں تین خواتین اور چھ مرد شامل ہیں۔ آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، اس میں کچھ اور لوگوں کے نام بھی شامل ہو سکتے ہیں۔پولیس کے مطابق ایک شخص تاحال فرار ہے۔انھوں نے کہا کہ شکایت نامہ میں کچی آبادیوں میں رہنے والے کچھ دوسرے لوگوں کے دستخط اور انگوٹھوں کے نشانات بھی موجود ہیں۔

اس پورے معاملے کو سمجھنے کے لیے بی بی سی نے منگت پوری کے علاقے کا دورہ کیا۔یہاں تک کہ منگت پوری کے علاقے میں کوئی بھی شخص تبدیلی مذہب کی بات کو قبول نہیں کر رہا ہے۔جن لوگوں کے خلاف مبینہ تبدیلی مذہب کے سلسلے میں رپورٹ درج کرائی گئی ہے ان کے اہل خانہ کا کچھ اور کہنا ہے۔بی بی سی سے بات چیت کے دوران انھوں نے تبدیلی مذہب کی باتوں کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ یہ سب کچھ ان سے زمین خالی کرانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ان لوگوں میں سے ایک ممتا دیوی ہیں۔ہم لوگ چھوٹی چھوٹی جھونپڑیوں اور کچرے سے ڈھکی تنگ گلیوں سے ہوتے ہوئے ایک بہت ہی گندی جگہ پر ممتا کے گھر پہنچے۔میرٹھ پولیس نے ممتا کی ساس تتلی، سسر سردار اور ان کے شوہر انیل کے خلاف مبینہ طور پر مذہب تبدیل کرنے کے الزام میں رپورٹ درج کی ہے۔

‘زمین خالی کرانا اصل مقصد ہے:بی بی سی سے بات چیت کے دوران ممتا کہتی ہیں کہ ’ہم یہاں 40-50 سال سے رہ رہے ہیں، تب یہ لوگ کچھ نہیں کہتے تھے اور اب یہ لوگ ہم پر مذہب کی تبدیلی جیسے الزامات لگا رہے ہیں۔ہمیں کہا گیا ہے کہ اگر تم یہاں سے نہ گئے تو ہم تم پر مذہب تبدیل کرنے کا الزام لگا کر پھنسائیں گے۔ اس میں یہاں کے کچھ ایسے لوگ ملوث ہیں جو چاہتے ہیں کہ ہم اس زمین کو خالی کر دیں۔’ایک سوال کے جواب میں ممتا کہتی ہیں: ‘جناب دیکھیں، ہم یسوع مسیح کو مانتے ہیں، لیکن ہمارا مذہب ہندو ہی ہے، یہاں ستسنگ، شادی بیاہ، دعائیں پوجا ہوتی ہیں اور بچوں کو پڑھایا بھی جاتا ہے۔ ہمیں زمین خالی کرنے کے لیے ڈرایا جا رہا ہے، جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔’ممتا ابھی بول ہی رہی تھی کہ پاس ہی کھڑے کولوا نے بات شروع کر دی۔وہ کہتے ہیں: ‘یہ جھوٹا الزام ہے، ہماری کچی آبادی ایک طرف تھی، وہاں سے بھی ہٹا دی گئی۔ پانچ چھ شراب مافیا، لینڈ مافیا ہیں جو ہمیں یہاں سے نکالنے کے لیے ناجائز قبضے کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے کہ کولوا مزید بات کرتے ممتا ہمیں مبینہ چرچ دکھانے کے لیے لے گئیں جس میں مبینہ طور پر مذہب تبدیل کرانے کی پولیس شکایت کی گئی ہے۔اس ہجوم میں کھڑے ایک نوجوان بوبی نے بی بی سی سے بات کی۔ردی کا کام کرنے والے بوبی کا کہنا ہے کہ ‘یہ سب جھوٹ کہا جا رہا ہے۔ یہ سب کہنے کے لیے لوگوں میں پیسے تقسیم کیے جا رہے ہیں تاکہ ہم یہاں سے ہٹ جائیں۔ کچھ لوگ باہر کے بھی ہیں اور کچھ مقامی لوگ بھی اس میں ملوث ہیں۔ ہمیں جھوٹے معاملے میں پھنسانے کی کوشش ہے۔ مندر میں توڑ پھوڑ کے جھوٹے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔’ وہاں رہنے والے زیادہ تر لوگوں نے بھی یہی شکایت کی۔میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں پر کئی لوگوں کو ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

مبینہ چرچ:جس مبینہ چرچ کی بات کی جا رہی ہے وہ دراصل تقریباً 20 فیٹ لمبی اور 12 فیٹ چوڑی ایک جھونپڑی ہے۔اس جھونپڑی کے ایک طرف حکمراں جماعت بی جے پی کا جھنڈا ہے اور پاس ہی ترنگا (انڈیا کا قومی پرچم) بھی نصب ہے۔’لوگ دعائیہ اجتماعات کرتے ہیں مذہب نہیں بدلتے:عیسائیت سے وابستہ اور مذہب تبدیل کرنے والوں کی وکالت کرنے والے ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا: ’دیکھیں، مذہب تبدیل نہیں کرایا جاتا ہے۔’لوگ دعائیہ مجلسں کرتے ہیں، ست سنگ کرتے ہیں جبکہ وہ ہندو ہی ہیں۔ یہاں تک کہ میرٹھ کے منگت پورم میں، بہت سے کچی آبادی والے ہندو ہی ہیں، لیکن وہ دعا کرتے ہیں اور ستسنگ بھی کرتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا: ‘کچی بستی میں بہت سے لوگ غلط راستے پر چل رہے تھے، شراب کا کاروبار کرتے تھے، کچھ دیگر غلط کاموں میں ملوث تھے، جب سے ست سنگ اور دعائیہ اجتماعات ہو رہے ہیں، بہت سے لوگ ان غلط راستوں کو چھوڑ چکے ہیں۔ صحیح راستے پر چل رہے ہیں۔ تبدیلی مذہب کی بات درست نہیں ہے۔

شکایت کرنے والے کہاں ہیں؟:پولیس نے وکرانت نامی شخص کی شکایت پر مقدمہ درج کرلیا ہے۔ ایف آئی آر کی کاپی میں وکرانت کا موبائل نمبر بھی درج ہے۔ لیکن بستی میں ایسا کوئی شخص نہیں ملا جو وکرانت کو جانتا ہو۔وکرانت کے نمبر پر کال کی گئی تو اس کا نمبر بند تھا۔جب ہم نے بی جے پی لیڈر دیپک شرما سے یہ بات کہی کہ وہ کچھ دوسرے شکایت کنندگان سے رابطہ کرائیں تو انھوں نے شکایتی خط میں ذکر کردہ کچھ لوگوں کے نام اور نمبر بتائے۔بی بی سی نے ان لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کی جن کے نام اور موبائل نمبر تھانے کو دیے گئے شکایتی خط میں لکھے گئے تھے۔ان میں اقبال کا نام بھی شکایت کنندگان کے طور پر درج تھا۔ اقبال کے نمبر پر کال کی گئی تو پتہ چلا کہ یہ نمبر آدتیہ نامی کسی دوسرے شخص کا ہے۔تبدیلی مذہب کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے ہاں 100 سے 150 ایسے لوگ ہیں جنھوں نے مذہب تبدیل کر لیا ہے، لیکن ہمیں ان کے نام نہیں معلوم، صرف وہ لوگ جو جیل گئے ہیں، انھوں نے ہی مذہب تبدیل کرایا ہے۔’جب ایک اور مبینہ شکایت کنندہ سے رابطہ کیا گیا (اس نے اپنا نام عام نہ کرنے کی بات کہی) تو انھوں نے کہا: ‘ہم ہندو سماج میں ہیں، ہم نے مذہب تبدیل کرنے کی کوئی سازش نہیں کی۔’ہمیں کہا گیا کہ مذہبی تقاریر میں شامل لوگوں کے خلاف آواز اٹھائیں، ہماری طرف سے گواہی دیں تاکہ وہ زمین سے ہٹ جائیں۔لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ کس نے کہا ہے تو انھوں نے کہا کہ وہ اس کا نام نہیں جانتے۔

انھوں نے صرف بات کرنے والے شخص کا حلیہ بتایا۔ایک اور مبینہ شکایت کنندہ آکاش سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا: ‘یہ میرے بھائی کا نمبر ہے، میں اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ میرا بھائی شکایت کرنے گیا ہو گا۔ میں منڈپ (شامیانہ لگانے) میں کام کرتا ہوں، کہاں جاؤں گا۔ جن لوگوں پر مذہب کی تبدیلی کے الزام میں، وہ جیل جا چکے ہیں۔پولیس نے کچھ لوگوں کے کہنے پر مقدمہ درج کر کے آٹھ افراد کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔ لیکن نہ تو شکایت کنندہ میڈیا سے بات کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی 400 لوگوں میں سے کوئی ایسا شخص تھا جس نے مبینہ طور پر مذہب تبدیل کیا ہو۔ تو کیا یہ ساری باتیں بس کچی آبادی کی زمین خالی کرانے کے لیے ہیں؟ لیکن بی جے پی کے رہنما اپنے دعوے پر ٹکے ہوئے ہیں۔بی جے پی کے رہنما دیپک شرما نے کہا: ‘دیکھیں، بستی کے لوگ جہاں ہیں وہیں رہیں۔ ہمیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن تبدیلی مذہب کو بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مقامی لوگوں کی غربت اور کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انھیں عیسائیت اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔’وہ مزید کہتے ہیں: ’مجھے تقریباً چھ ماہ قبل بھی ایسی شکایت ملی تھی، لیکن تب ہمیں اس معاملے کی سنگینی کا علم نہیں تھا، ہندو لوگوں عیسائی مذہب اختیار کرنے کے لیے ڈرایا جا رہا ہے۔ لالچ دیا جا رہا ہے۔ دہلی سے بھی کچھ لوگ یہاں مذہب تبدیل کرنے آئے تھے۔ ان میں کچھ غیر ملکی بھی شامل تھے۔بہر حال مبصرین کا کہنا ہے کہ انڈیا میں تبدیلی مذہب کو سیاسی مفاد کے تحت اٹھایا جاتا ہے جبکہ حقیقت عام طور پر وہ نہیں جو پیش کی جاتی ہے۔شہباز انور۔ بی بی سی ہندی کے لیے