صوبائی سیاست میں ہلچل، قیاس آرائیاں تیز ،سیاسی مبصرین کا تجزیہ یہ حکومت ابھی نہیں گرے گی
ممبئی:۔(اسپیشل اسٹوری:محمدیوسف رانا) جب سے مہاراشٹر کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے سونیا گاندھی سے این سی پی کی شکایت کی ہے۔تب سے ریاست کی سیاست میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ مہاراشٹر کی سیاست میں اب یہ کہا جا رہا ہے کہ آنے والے وقت میں مہاوکاس اگھاڑی حکومت میں پھوٹ پڑ سکتی ہے۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ یہ حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرنے سے پہلے ہی گر سکتی ہے۔ اس کے پیچھے نہ صرف پٹولے (نانا پٹولے) کی شکایت ہے بلکہ ماضی میں بھی کئی معاملات ہیں۔ جب تینوں جماعتوں کے درمیان باہمی اختلافات ابھر کر میڈیا اور عوام کے درمیان پہنچ گئے۔ گزشتہ ہونےوالے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے شیوسینا،این سی پی اور کانگریس کا مضبوط اتحاد مہاوکاس اگھاڑی اس مقصد کے لیے قائم کیاگیا۔ایسے میں اس حکومت کے گرنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ لیکن آنے والے وقت میں تینوں پارٹیوں این سی پی، کانگریس اور شیوسینا میں ایک بار پھر آپسی جھگڑے، دوریاں اور الزامات اور جوابی الزامات کا دور دیکھا جا سکتا ہے۔

کیونکہ مستقبل قریب میں کئی جگہوں پر بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس دوران عموماً ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھار بھی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے سونیا گاندھی سے این سی پی کے بارے میں کی گئی شکایت میں کہا ہے کہ این سی پی مہاراشٹر بالواسطہ طور پر کانگریس کو تباہ کر رہی ہے۔ وہ بی جے پی کے ساتھ مل کر کانگریس کے خلاف سازش کر رہی ہے۔ پٹولے نے بھیونڈی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے۱۷؍کونسلروں کو توڑ کر این سی پی نے انہیں اپنی پارٹی میں شامل کیا۔ دوسری طرف امراوتی بینک کے معاملے میں کانگریس کا ساتھ دینے کے بجائے این سی پی نے بی جے پی کا ساتھ دیا۔ اس کے علاوہ بھنڈارا گونڈیا کے شہری انتخابات میں این سی پی نے کانگریس کے بجائے بی جے پی کی حمایت کی۔واضح رہےجب سے نانا پٹولے نے مہاراشٹر کانگریس کے ریاستی صدر کا عہدہ سنبھالا ہے۔ اس کے بعد سے انہوں نے یہ نعرہ دیا ہے کہ کانگریس اگلا اسمبلی الیکشن اپنے بل بوتے پر لڑے گی۔ نانا پٹولے کے بعد ممبئی کانگریس کے صدر بھائی جگتاپ نے بھی آنے والے بی ایم سی انتخابات میں اکیلے اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسے میں یہ مہاوکاس اگھاڑی میں علیحدگی کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔ پٹولے کے اس بیان کے بعد این سی پی نے کہا تھا کہ ادھو ٹھاکرے اگلے۲۵؍برس تک وزیر اعلیٰ رہیں گے۔

حالانکہ مہاوکاس اگھاڑی کی حکومت کے قیام کے بعد محکمہ خزانہ کی ذمہ داری این سی پی کے پاس ہے۔ اس کے علاوہ وزارت داخلہ بھی این سی پی کے پاس ہے۔ ایسے میں کئی بار کانگریس اور شیو سینا کے ایم ایل اے نے کھل کر این سی پی اور اجیت پوار پر الزام لگایا ہے کہ انہیں مناسب مقدار میں فنڈز الاٹ نہیں کیے گئے ہیں۔ ان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ جبکہ این سی پی ایم ایل اے کو فنڈز دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے کانگریس اور شیوسینا کے ایم ایل اے کے حلقے میں ترقیاتی کام نہیں ہو پا رہے ہیں۔ یہ معاملہ مہاراشٹر کی سیاست میں بھی بحث کا موضوع بنا۔ کانگریس کی کابینی وزیر یشومتی ٹھاکر نے خود اجیت پوار پر ایسے الزامات لگائے ہیں۔کانگریس ہی نہیں شیوسینا نے اتحادیوں کے کونسلروں اور کارکنوں پر بھی اپنی پارٹی میں شامل ہونے کا الزام لگایا ہے۔ جب مہاراشٹر میں مہا وکاس اگھاڑی کی حکومت بنی تھی۔ اس کے چند ماہ بعد ہی اجیت پوار نے ناسک میں شیوسینا کے کئی لیڈروں کو خود اپنی پارٹی میں شامل کر لیا تھا۔

اس واقعہ کی شیوسینا نے سخت مخالفت کی تھی۔ یہ معاملہ شرد پوار تک بھی پہنچ گیا تھا۔ اس وقت بھی مہاوکاس اگھاڑی میں اختلافات کی خبریں آئی تھیں۔ اس اختلاف کوختم کرنے کے لیے شرد پوار خود ادھو ٹھاکرے کے گھر ماتوشری پہنچے تھے۔جہاں ادھوٹھاکرے سے ان کی ملاقات۴۰؍منٹوں تک جاری رہی اس کے بعد یہ معاملہ حل ہوا۔نانا پٹولے نے گزشتہ برس مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار پر ان کی نگرانی کرنے کا الزام لگایا تھا۔ پٹولے نے الزام لگایا تھا کہ پوار ایسا کر رہے ہیں کیونکہ کانگریس نچلی سطح پر مضبوط ہو رہی ہے۔ شیوسینا اور این سی پی دونوں کانگریس کی اس طاقت سے خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے لوناوالا کی ضلعی کمیٹی کی میٹنگ کے دوران کہا تھا کہ شیوسینا اور این سی پی ریاستی حکومت میں وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ کے عہدوں پر فائز ہیں۔ مہاوکاس اگھاڑی حکومت میںجاری اختلاف اسسے بھی سمجھ میں آتا ہے کہ چند ماہ قبل مہاراشٹر کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا تھا کہ ادھو حکومت کا ریموٹ کنٹرول شرد پوار کے پاس ہے۔ پٹولے کے اس تبصرے کے بعد بھی کافی تنازعہ ہوا تھا۔