کیا مہاراشٹرسرکار کی کابینہ میں توسیع کا فیصلہ دہلی میں ہوگا؟

249

ممبئی:۔(محمدیوسف رانا) مہاراشٹر میں شندے فڑنویس کو مہاراشٹر کے اقتدار پر براجمان ہوئے۲۲؍ دن گزر چکے ہیں لیکن ان سب کے باوجودحکومت کی کابینہ میں توسیع نہیں کی گئی۔نائب وزیر اعلی دیویندر فڑنویس کے مطابق کابینہ کی توسیع بہت جلد ہوگی۔ ابھی تک اس کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اس ’ایپی سوڈ‘ میں آج پھر مہاراشٹر کے وزیر اعلی ایکناتھ شندے اور نائب وزیر اعلی دیویندر فڑنویس دہلی جائیں گے۔ دونوں لیڈروں کی دہلی واپسی کے بعد کابینہ کی توسیع کی تاریخوں کو لے کر مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہو گیا ہے کہ مہاراشٹر حکومت کی کابینہ میں توسیع کا فیصلہ دہلی میں ہوگا؟دہلی کے دورے کے بعد مہاراشٹر کی نئی حکومت کی کابینہ کی توسیع کی تاریخ کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے ایکناتھ شندے نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے کے فوراًبعد دہلی گئے تھے۔ اس دوران انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بی جے پی کے کئی بڑے لیڈروں سے ملاقات کی۔مگر اس میٹنگ کے باوجود کابینہ میں توسیع کی تاریخ کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔اور شندے کو مایوس ہو کر الٹے پاوں واپس ممبئی آنا پڑا۔ایسے میں آج ہونے والی میٹنگ میں فیصلہ کیا جائے گا یا نہیں؟ اس کے علاوہ محکموں کی تقسیم کے حوالے سے فارمولہ طے ہوگا یا نہیں؟ تمام سیاسی جماعتوں کی نظریں اس پر جمی ہوئی ہیں۔سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ کابینہ میں توسیع میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ دونوں فریقین کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں کو سمجھا جاتا ہے۔ بدھ کو سپریم کورٹ نے فریقین کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ اس معاملے میں عدالت نے کوئی فیصلہ نہیں دیا لیکن دونوں فریقین کو۲۷؍ جولائی تک حلف نامے داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ساتھ ہی اس معاملے کی اگلی سماعت یکم اگست کو ہونی ہے۔ اس دوران سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ مہاراشٹر حکومت کو جوں کا توں برقرار رکھا جانا چاہیے۔ ایسے میں جہاں بی جے پی کہہ رہی ہے کہ عدالت نے کابینہ میں توسیع کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔

اس لیے جلد ہی کابینہ میں توسیع کی جائے گی۔ ساتھ ہی شیوسینا کے لیڈر کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کابینہ میں توسیع نہیں کی جا سکتی۔جبکہ شیو سینا کے ایکناتھ شندے دھڑے کے۱۶؍اراکین اسمبلی پر نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے۔ ان پر شیوسینا کے وہپ کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر غور ہے اگر سپریم کورٹ اس معاملے میں ادھو ٹھاکرے کے حق میں فیصلہ دیتا ہے تو ریاست کی نئی حکومت کی مشکلات میںاضافہ ہوسکتا ہے۔دوسری جانب اگر شندے دھڑے کے حق میں فیصلہ آتا ہے تو حکومت کو کوئی خطرہ نہیںہوگا۔ کہا جاتا ہے کہ کابینہ کی توسیع دو مرحلوں میں کی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں۱۲؍وزراء حلف لیں گے ان میں۷؍بی جے پی اور۵؍ شندے گروپ کے ہونگے۔سیاسی گلیاروں میں گفتگو جاری ہے کہ بی جے پی کی جانب سے چندرکانت پاٹل،سدھیر منگنٹیوار،گریش مہاجن،رادھا کرشن ویکھے پاٹل، آشیش شیلار،پروین دریکر اورچندر شیکھر باونکولے جبکہ شندے گروپ کےگلاب راؤ پاٹل،ادے ساونت،دادا بھوسے،شمبھوراج دیسائی اورعبدالستار کو موقع مل سکتا ہے۔کابینہ میں توسیع کے معاملے پر اپوزیشن نئی حکومت پر ڈور کھینچ رہی ہے۔ اقتدار کے قیام کے بعد پہلے ہفتے میں کابینہ میں توسیع متوقع تھی لیکن تین ہفتے گزرنے کے باوجود توسیع نہیں کی گئی تو کابینہ میں توسیع میں اصل مسئلہ کیا ہے؟ ایسا سوال مہاراشٹر میں اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دہلی اور مہاراشٹر کی اس سیاسی تگ و دو کےدرمیان کابینہ میں توسیع ہوتی ہے یا نہیں۔