کیا فائرنگ اور گرفتاریوں سے شاہینوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے؟

محمد شمیم دارالعلوم حسینیہ بوریولی ممبئی

ستر سال کی تاریخ میں ایسا ولولہ انگیز منظر پہلی بار نگاہوں کے سامنے آیا ہے کہ جب غیور شاہین صفت خواتین اپنے حقوق کی لڑائی کے لیے دھرنے پر بیٹھ گئی ہیں.

ان کی تعداد میں روز بروز اضافے کو دیکھ کر آر ایس ایس کے خیمے میں ہلچل مچ گئی ہے ،آج ان خواتین کو چوطرفہ مقابلہ اپنے بدخواہوں سے ہے،ایسے عفریت کے پیروکار جو اپنے مقصد کی حصول یابی کیلئے کسی کو بھی تشدد کا نشانہ بنا سکتے ہیں ، ایک طرف انسانیت کے دشمن،ان نہتی عورتوں پر ظلم و ستم کے ہر حربے استعمال کر رہے ہیں، یوپی، بہار میں انہوں نے لاٹھی ڈنڈے کا استعمال کرکے خواتین کو زخموں سے لہولہان کر دیا، جامعہ ملیہ ،شاہین باغ میں بزدلانہ فائرنگ کئے یہ سلسلہ تا ہنوز جاری ہے.

دوسری طرف حکومت کے کارندے جو نفسیاتی طور پر شکست خوردہ دکھائی دے رہے ہیں ، لیکن وہ انا کے شعلے میں جل بھن کر ہزیمت کو برداشت نہ کرتے ہوئے،

اپنی ذریت کو واضح طور پر پیغام دے رہے ہیں کہ ان خواتین کو ہر طرح سے ہراساں، اور دہشت زدہ کیا جائے، انوراگ ٹھاکر، کا بیان اسی جانب اشارہ کرتا ہے( دیس کے غداروں کو، گولی مارو سالوں کو) یوپی کے سی ایم نے کہا کہ یہ بولی سے نہیں مانیں گے، تو گولی سے ضرور مانیں گے، ان متشدد بیانوں میں جو زہر بھرا ہوا ہے اس سے ان کی تخریبی ذہنیت کا ثبوت واضح ہو جاتا ہے.

ان متعصب بیانوں کی وجہ سے کچھ ناعاقبت اندیش نوجوان ایسے راستے کا انتخاب کرتے ہیں جو انسانیت سے ہٹ کر حیوانیت پر گامزن کر دیتا ہے، اسی راستے پر چلتے ہوئے یہ لوگ گولیاں چلاتے ہیں یہ تشدد کا راستہ حکومت کے کارندوں نے دکھایا ہے،

وقت کی ستم ظریفی تو دیکھئے کہ عدالت کتنی کمزور ہو گئی ہے اس کی بے بسی لاچارگی پر سینہ کوبی کرنے کو دل کرتا ہے، منصف عدلیہ سے لوگوں کا اعتماد رفتہ رفتہ ختم ہو رہا ہے، انصاف کی دیوی شرمندہ ہو رہی ہے یہ کیسی مجبوری ہے کہ حکومت کے متشدد لوگ کھلے عام گولی مارنے کی دھمکی دے رہے ہیں اور عدالت ان کے خلاف لب کشائی کی ہمت نہیں کر پا رہی ہے،

تیسری طرف اپنی صفوں میں کچھ دشمن عناصر موجود ہیں جو گاہے بگاہے اپنے آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے سی اے اے، کی موافقت میں بیان جاری کرتے رہتے ہیں، پہلی فرصت میں ان مال و دولت کے حریص لوگوں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے، کیوں کہ مدمقابل دشمن سے آستین کے سانپ زیادہ خطرناک ہوتے ہیں، ہماری جرآت مند خواتین نے دستور بچانے کے لیے جو تحریک شروع کی ہے اس کو یہ ایمان فروش لوگ اپنے اثرو رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے کمزور کرنا چاہتے ہیں.

چوتھی طرف اپوزیشن پارٹیوں کی نا اہلی پر افسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے سیکولر کا لیبل لگا کر ہمارے ووٹوں کا استعمال تو کر لیا لیکن یہ لوگ اپنی پارٹی کے مفاد کے لئے دستور بچاؤ خواتین کے ساتھ مکر و فریب سے کام لے رہے ہیں،
کانگریس جو کہ اپوزیشن میں سب سے بڑی سیکولر پارٹی ہے سی اے اے کے تعلق سے سپریم کورٹ میں اس کے وکیل مقدمہ لڑنے گئے،

سپریم کورٹ نے ایک ماہ کا وقت کیوں دیا؟ اگر وکاس سنگھ کی باتوں پر غور کیا جائے جو اس وقت سپریم کورٹ میں موجود تھے، ان کا کہنا ہے کہ کانگریس کے کپل سبل اور ابھیشیک منو سنگھوی نے اسٹے لگانے کی مانگ کو مسترد کر دیا، انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر کورٹ اسٹے لگا دیتی تو دھرنا کا مقصد فوت ہو جاتا اور یہ کانگریس پارٹی کے حق میں نقصان دہ ثابت ہوتا، غور کریں لوگ بڑے فخریہ انداز میں کہتے ہیں کہ کانگریس کے لوگ سب سے زیادہ پڑھے لکھے ہیں لیکن میں کہتا ہوں کہ ان پر یہ محاورہ صادق آتا ہے (منہ میں رام رام بغل میں چھری) اگر کانگریس پارٹی کو عوام کی فکر ہوتی تو اسٹے لگانے کی مانگ کرتے، لیکن انہیں اپنے ووٹ بینک کی فکر ہے اسی لئے اُنہوں نے دھرنا اور احتجاج کو طول دیا ہے یہ کانگریس کی منافقت نہیں ہےتو اور کیا ہے، کیا کانگریس موقع کا فائدہ نہیں اٹھا رہی ہے!!
یقیناً ہماری خواتین کی بے مثال قربانیوں سے کانگریس کو نفع پہنچے گا، بی جے پی کے مقابلے میں کسی کی جیت ہمارے لیے خوشی کا باعث ہوگی، لیکن کنہیا کمار جیسے لوگ جب کانگریس کے حریف ہوں تو ہمیں کانگریسی سیکولر کا لبادہ اتار پھینکنا چاہیے اور اس مشکل گھڑی کو یاد کرنا چاہیے کہ دھرنے کو طول دینے میں کس کا فائدہ زیادہ تھا، میں پرانے زخموں کو کریدنا نہیں چاہتا ہوں لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی ایک بات نوک زبان پر آ جاتی ہے کہ اے کاش!!
اپنے دور حکومت میں کانگریس نے آر ایس ایس پر مکمل طور سے شکنجہ کسا ہوتا تو آج یہ ذلت کے دن ہماری قسمت میں نہ ہوتے۔
اور یہ کہاوت کے مصداق نہیں ہوتے (کہ دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا) افسوس اس پارٹی کے ساتھ ہمارے اسلاف کا گہرا تعلق تھا جس کی وجہ سے آج نسلوں کو کانگریسی ہونے کے سخت جملے برداشت کرنے پڑتے ہیں، دیکھا جائے تو بی جے پی کے ظاہری باطنی نشتر بھی اسی لیے ہمارے اوپر لگ رہے ہیں کہ ہم کانگریسی ہیں، لیکن اس بات کو اخلاص نیت اور صدق دل سے کبھی بھی کانگریس نے محسوس نہیں کیا،اور نہ ہی مسلمانوں کا ساتھ دیا،

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ،،
باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے،
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے،،
یہ بات قابل توجہ ہے کہ چوطرفہ خاردار کانٹوں سے گھری ہوئی شاہین صفت خواتین خدا کے سہارے دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہیں، ان کا بھروسہ اللہ کی ذات پر ہے، ان کے بلند ترین عزائم کو گولیاں، ہتھیار، پست نہیں کرسکتے ہیں، یہ خنساء رضی اللہ عنہا، خولہ رضی اللہ عنہا، سمیہ رضی اللہ عنہا، کی روحانی بیٹیاں ہیں تمہاری لاٹھیوں گولیوں سے ڈرنے والی نہیں ہیں، انہیں تم جتنا خوف زدہ کروگے ان کی ایمانی حمیت بیدار ہوگی اور مستقبل میں انہیں کے کوکھ سے جنم لینے والا بچہ جس نے آزادی کا نعرہ گود میں سنا ہو، جس کی پرورش آزادی کے نعرے پر ہوئی ہو، جس نے بچپن میں آزادی کا ترانہ سنا ہو، وہ بچہ جوالا مکھی بن کر تمہاری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریگا،
حکومت وقت یہ تمہاری بھول ہے تم غیور خواتین کو گولیوں سے ڈرا کر دھرنے کو ختم کر دوگے یہ دستور بچاؤ خواتین کا سیلاب ہے،، ایسا سیلاب جو پورے بھارت میں آ چکا ہے اور انشاءاللہ اسی میں تمہاری حکومت بہہ کر نیست و نابود ہو جائے گی،اور تم کیا”” تمہاری قبروں کا بھی نام و نشان تک مٹ جائے گا…. میں (جوش ملیح آبادی) کے ان اشعار پر اپنے قلم کو سکون دے رہا ہوں…..
جا گور غریباں پہ نظر ڈال بہ عبرت ،
کھل جائے گی تجھ پر تری دنیا کی حقیقت.
عبرت کے لیے ڈھونڈ کسی شاہ کی تربت،
پوچھ کہاں ہے وہ تری شان حکومت.
کل تک جو بھرا تھا وہ غرور کہاں ہے.
بول اے کاسئہ سر ترا، تاج کہاں ہے؟

HAJJ ASIAN

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me