امریکی گلوکارہ ریحانہ کسانوں کی حمایت میں بیان دینے کے بعد بھارتیوں کے ریڈار پر آگئیں، جس کا ثبوت گوگل پر ان کا نام لے کر ہونے والی تلاش ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق شہری گوگل پر یہ سرچ کرنے لگے ہیں کہ آخر کار امریکی گلوکارہ ریحانہ مسلمان تو نہیں؟ کیا ان کا تعلق پاکستان سے تو نہیں ہے؟

واضح رہے کہ بھارت میں جاری احتجاج عالمی شہرت یافتہ سیلیربیٹرز کی نگاہوں کا مرکز بھی بن گیا جہاں ایک کے بعد ایک نامور شخصیت احتجاج کرنے والے کسانوں کی حمایت میں آواز اٹھارہے ہیں۔

اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے کسان اب بھارتی ریاست نئی دلی میں موجود ہیں، جہاں بھارتی حکومت نے انٹرنیٹ سروس معطل کرکے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے ہیں۔

انٹرنیٹ سروس کی معطلی سے متعلق جب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے رپورٹ شائع کی تو ٹوئٹر پر اسے بارباڈوس سے تعلق رکھنے والی امریکی گلوکارہ ریحانہ نے ری ٹوئٹ کیا۔

ساتھ میں اپنے پیغام میں ریحانہ نے سوال اٹھادیا کہ ’ہم کیوں اس معاملے پر بات نہیں کر رہے؟‘۔

ٹوئٹر پر 10 کروڑ 10 لاکھ سے زائد فالوورز رکھنے والی ریحانہ کا ٹوئٹ جنگل میں آگ کی طرح پھیل گیا، جس پر انھیں کچھ بھارتیوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا جبکہ کچھ نے کسانوں کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

ریحانہ کے بھارتی حکومت کے خلاف وار اور کسانوں کی حمایت کے بعد انتہاپسند بھارتیوں کی ذہنیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے امریکی گلوکارہ کو پاکستانی ایجنٹ قرار دے دیا تھا۔

تاہم اب نئی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گوگل پر بھارتیوں نے ریحانہ سے متعلق یہ سرچ کرنا شروع کردیا کہ کیا کہیں وہ مسلمان تو نہیں؟۔

اسی طرح بھارتیوں نے ریحانہ سے متعلق یہ بھی سرچ کیا کہ کہیں ان کا تعلق پاکستان سے تو نہیں ہے؟۔

گوگل ٹرینڈز میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھارتیوں نے گزشتہ دنوں میں ’ریحانہ کا مذہب کیا ہے؟‘ گوگل پر سرچ کیا۔

اس ساتھ ساتھ مختلف لفظوں کے ساتھ ریحانہ کا نام سرچ ہوتا رہا، لیکن سب سے اوپر اور سب سے دلچسپ یہ تھا کہ ’کیا ریحانہ مسلمان ہیں‘۔

واضح رہے کہ 20 فروری 1988 کو پیدا ہونے والی’رابین ریانہ فینٹی‘ بالمعروف ’ریحانہ‘ کا تعلق کیریبیئن کی ریاست بارباڈوس سے ہے جو امریکا میں مقیم ہیں۔