کیا حرام کو حرام کہنا جرم ہے؟

766

تین روز قبل ایک غیر مسلم اداکارہ نما سوشل ایکٹوسٹ نے ایک مسلم سوشل ایکٹوسٹ سے کورٹ میرج کی، جمنا والوں نے مبارکبادی کا سلسلہ شروع کردیا۔ گنگا والے تلملائے کہ لڑکی اُدھر کی تھی۔ جمنا والے یہ بھول گئے کہ جب لڑکی ان کی طرف کی ہوتی ہے، تو ان کے پاس کف افسوس ملنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہوتا۔ یہ بتانے کی قطعا کوئی ضرورت نہیں ہے کہ اسلامی اعتبار سے یہ ایک حرام عمل ہے، لیکن اہل جمنا کی پیہم مبارکبادیوں نے اس حرام کو نارملائز کردیا۔

اگر آپ نے علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی اکفار الملحدین پڑھی ہو، تو آپ واقف ہوں گے کہ انھوں نے سلف صالحین کی نقول در نقول اس بات کو ثابت کرنے کے لیے جمع کی ہیں کہ حرام کو حلال کرنا ایک کفریہ عمل ہے۔ لیکن مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ جب سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کررہی اس خبر پر ہم نے مختصر تبصرہ کیا کہ یہ شادی اور اس کی مبارکباد دینا ایک غیر اسلامی عمل ہے، تو مسلم لبرلوں کو تو برا لگا ہی اور لگنا بھی چاہیے تھا، کیوں کہ ان کے نزدیک یہ معاملہ فرد کی آزادی سے جڑا ہوا تھا، لیکن باعث تعجب یہ تھا کہ کچھ روایت پسند حضرات کو بھی یہ بات ناگوار گزری اور اس ناچیز کو ناصحانہ مضامین موصول ہونا شروع ہوگئے۔

لیکن ایسا کیوں ہوا؟ میں ان حضرات کے بارے میں یہ ہرگز نہیں کہہ سکتا کہ انھیں دین کی کوئی فکر نہیں ہے، البتہ ان نصیحتوں کو پڑھ کر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ان کے نزدیک امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے زیادہ مصلحت کی اہمیت ہے۔ چناں چہ ایک صاحب نے یہ لکھا کہ میں بعض مرتبہ غیر ضروری موضوعات کو چھیڑتا ہوں جس سے میڈیا کو مواد مل جاتا ہے، لیکن اس سے اصلاح نہیں ہوتی۔ اطلاعا عرض ہے کہ ہماری ٹویٹ کا مقصد سورا بھاسکر کی اصلاح نہیں تھا، بلکہ مسلم نوجوانوں کی وہ فوج تھی، جو اس شادی پر پھولے نہیں سمارہی تھی۔ اگر آپ کے نزدیک ایسے موقع پر حرام کو حرام کہنا غلط ہے، تو اس کا اعتراف کریں، اگر یہ کہنا تو غلط نہیں ہے لیکن ٹائمنگ غلط ہے، تو صحیح ٹائمنگ سے مطلع کریں۔

واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی کسی منکر کو دیکھے تو اپنے ہاتھ سے روکے۔ یہاں آگے بڑھنے سے پہلے یہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ ہاتھ سے روکنے کا عمل اسی وقت ممکن ہے جب منکر موجود ہو، اگر منکر وجود میں آکر ختم ہوگیا تو اس کو روکنا ممکن نہیں ہے۔ ہمارے اختیار میں حدیث کے اس درجے پر عمل کرنا ممکن نہیں ہے، لیکن دوسرے درجے پر عمل کرنا بہرحال ممکن ہے۔ اگر آپ کے لیے اس درجے پر آنا بھی ممکن نہ ہو، تو کم از کم تیسرے درجے پر آکر دل سے ہی برا جانیں، لیکن ان ناصحین کا دوسرے درجے پر عمل پیرا شخص کو اس کے احقاق حق کے حق سے روکنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تیسرے درجے پر بھی عمل نہیں کرنا چاہتے۔ کیا مصلحت کا اصول اب نصوص قطعیہ سے بلند ہے؟

اس موضوع پر کی جانے والی میری ٹویٹس صرف ٹویٹر پر ہی ایک ملین سے زائد افراد نے دیکھیں۔ اس تشہیر سے لبرل طبقہ ہوش کھو بیٹھا، لیکن غیر مسلموں میں یہ پیغام گیا کہ لوو جہا*د محض ایک پروپیگنڈا ہے، مسلمان اس کی حمایت نہیں کرتے۔ لبرلز کے خلاف میری ٹویٹس کو زیادہ تر اہل گنگا نے ہی سراہا۔

البتہ ناصحین کی نظر میں اس سے نقصان یہ ہوا کہ وہ لبرل جو مسلمانوں کے حق میں بولتے آرہے تھے، ان کو برا لگا، لیکن ذرا رک کر ہم اپنے ضمیر سے پوچھیں کہ ہمارے حقوق کی لڑائی وہ لوگ لڑیں گے جن کے نظریات صرف اسلام ہی نہیں تمام ادیان کے خلاف ہیں، جن کے نزدیک فرد کی پسند ہی تقدیس کا درجہ رکھتی ہے، اور اس کی بنیاد پر ان کے یہاں ہم جنس پرستی بھی بالکل درست ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو فرد کی آزادی کا نعرہ لگا کر لیو ان ریلیشن کو فروغ دیتے ہیں۔ ان لوگوں کے نزدیک مذہب ایک فرد کا پرائیویٹ معاملہ ہے، لیکن ہمارے یہاں مذہب پرائیویٹ معاملہ نہیں ہے، یہ "پبلک افیر” میں آتا ہے۔ یہ لبرل چاہتے ہیں کہ وہ آپ کے حقوق کے لیے لڑیں گے اور آپ ان کے حقوق کے لیے۔ تو کیا آپ اس مقدس مصلحت کی خاطر ان لبرلز کے حقوق کے لیے جد وجہد کرنا پسند کریں گے؟

یہ بات اگر نہیں معلوم ہے تو معلوم ہونی چاہیے کہ لبرلزم درحقیقت الحاد کا زینہ ہے۔ لبرل خیالات کی تردید رد الحاد پر کام کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اگر ہم اس میدان میں کام کرتے ہیں، تو ہم ایک مرتبہ نہیں سو مرتبہ تجدد پسندوں کو آئینہ دکھائیں گے۔ ہمارے لہجے میں کبھی سختی ہوگی اور کبھی نرمی۔ ہماری آواز کا زیر وبم، ہم نہیں، مخالف کا رویہ طے کرے گا۔

ٹویٹر پر گرما گرمی اس لیے ہوئی کہ ایک ریڈیو چینل کی ملازمہ (جس کا نام مسلمانوں والا مگر کام پیرس اور نیویارک کے قمقموں کی روشنی میں ہوتے ہیں) نے لبرلوں کی عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوے بد تمیزی کی، جس کا جواب اس کے لبرل ازم کو ایکسپوز کرکے دیا گیا، جب اس کو اندازہ ہوا، تو خواہی نہ خواہی اس نے دبے لفظوں میں اپنی غلطی تسلیم کی۔

ناصح نے یہ بھی لکھا کہ میں جس ادارے سے فارغ ہوں، اس کا اسلوب یہ نہیں ہے۔ اس کا اسلوب داعیانہ ہے، لیکن آپ نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ داعیانہ اسلوب کا مطب مصلحت پسندانہ ہوتا ہے؟ کبھی حضرت نانوتوی کی آریہ سماجیوں کے خلاف لکھی گئی کتابیں اٹھا کر دیکھیں، آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان کا اسلوب کیسا تھا۔

ناصح کہتے ہیں کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے، بھارت میں کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی کی شادی کو پوری دنیا میں موضوع بحث بنائے۔ اگر اس سے مراد یہ ہے کہ بھارت کی جمہوریت آپ کو شریعت کا مسئلہ بیان کرنے سے روکتی ہے، تو آپ کو جمہوریت کا درس دوبارہ لینا چاہیے، ایک طرف آپ مسلمان کی مشرکہ سے شادی کو فرد کی آزادی قرار دیں، دوسرے ہی لمحے دوسرے فرد کی آزادی کی نفی کردیں، یہ کہاں کا انصاف ہے۔ ویسے بھی جمہوری سیٹ اپ میں قوانین صرف یہ بیان کرنے کے لیے ہوتے ہیں کہ کیا کرسکتے ہیں اور کیا نہیں۔ اخلاقیات کا جمہوری قوانین سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ جمہوریت میں بھی مذہب ہی اخلاقیات کی راہنمائی کرتا ہے۔

آپ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس کیا پروف ہے کہ سورا بھاسکر کی شادی نہیں ہوئی، ہوسکتا ہے کہ وہ مسلمان ہوگئی ہو۔ آپ کی بات درست ہے، لیکن آپ نے ہماری ٹویٹ صحیح سے پڑھی ہی نہیں، ہم نے خود لکھا ہے کہ اگر وہ مسلمان نہیں ہے تو قرآن کا حکم یہ ہے۔ اتنا تو ہر مدرسے کا فارغ جانتا ہے کہ اقرار دنیا میں اجرائے احکام کے لیے شرط ہے، وہ اقرار اگر اس خاتون نے کہیں کیا ہو، تو ہمیں بتایا جائے۔

ایک طعنہ یہ بھی دیا گیا کہ آپ تو امریکہ میں بیٹھے ہیں، آپ کیا جانیں کہ ٹویٹ کا اثر کیا ہورہا ہے؟ یہ طعنہ آپ مجھے نہیں، اپنے کو دیں، آپ تو بھارت میں بیٹھے ہیں، علم بھی رکھتے ہیں، سوشل میڈیا بھی چلاتے ہیں، اردو دنیا میں الحاد کی بنیاد یعنی لبرلزم پر آپ کیوں نہیں بولتے کہ آپ کے بقول سات سمندر پار بیٹھا ایک شخص بول رہا ہے۔ آپ بولیے، ہم خاموش ہو جاتے ہیں۔

خیر یہ ناصح اگرچہ اپنی ہی نصیحت کی خلاف ورزی کرگئے، مگر پھر بھی احترام ومحبت کے دائرے میں رہے۔ ان کے علاوہ ایک جوکر بھی اسٹیج پر خوب کودا، اس کے کودنے کی وجہ نہ سورا ہے نا سائمہ، نہ بھارت ہے نہ چائنہ۔ اس کے پھدکنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ گزشتہ کئی سالوں سے بلاکستان کا باسی ہے اور ہم اس کے شر سے محفوظ۔ لہذا ہم ایسے جوکروں کو صرف موتوا بغیظکم کہہ سکتے ہیں، باقی حساب کے لیے اللہ کی عدالت تو ہے ہی۔

یاسر ندیم الواجدی