ئی دہلی: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایس اے بوبڑے نے اپنی تقریباً 17 مہینے کی مدت کار کے آخری دن کورٹ روم سے وداع لینے سے پہلے کہا کہ انہوں نے اپنے دفتر کو ’بیسٹ‘ دیا ہے لیکن انہیں نہیں معلوم کہ وکلا اور عوام ان کی مدت کار کے بارے میں کیا کہیں گے۔وہیں بوبڑے کی سبکدوشی کے دن ایک دلچسپ انکشاف بھی ہوا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے چیئرمین وکاس سنگھ نے الوداعیہ کے موقع پر پیش کی گئی تقریر کے دوران بابری مسجد تنازعہ کی سماعت کے دوران پانچ ججوں کی خصوصی بنچ کے رکن جسٹس بوبڑے کے ثالثی کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔

وکاس سنگھ نے کہا کہ یہ مارچ 2019 کی بات ہے، تب بنچ نے ثالثی کے ذریعے اس حساس مسئلہ کو حل کئے جانے کی پیش کش کی تھی۔ ثالثی کمیٹی کے لئے نام طلب کئے تھے۔ پھر کمیٹی بھی قائم کی گئی لیکن اسی دوران جسٹس بوبڑے نے مجھ سے پوچھا کہ آیا شاہ رخ خان ثالثی کمیٹی میں شامل ہونے کے لئے تیار ہوں گے؟ دراصل بوبڑے اس تنازعہ کا ایسا حل چاہتے تھے، جس پر کسی کو بھی اعتراض نہ ہو۔ پھر میں نے شاہ رخ خان سے بات بھی کی۔ وہ اس کے لئے بخوشی تیار بھی تھے لیکن پھر بات آگے نہیں بڑھ پائی۔

وہیں، جسٹس بوبڑے نے اپنی الوداعیہ تقریر میں کہا کہ وہ پہلے بھی اس طرح کے لمحات کے گواہ رہے ہیں لیکن اپنے ریٹائرمنٹ کی بنچ پر بیٹھنا ایک ملے جلے احساسات فراہم کرتا ہے۔ میں اسے الفاظ میں بیان نہیں کر پا رہا۔ ایڈوکیٹ جنرل کے کے وینو گوپال نے چیف جسٹس بوبڑے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جب گزشتہ سال مارچ میں کورونا کی وبا نے خوف ناک صورتحال اختیار کر لی تھی تو انہوں نے کمرہ عدالت میں سماعت کو ورچوئل سماعت میں تبدیل کیا۔ وہیں سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ جسٹس بوبڑے بہترین شخص تو ہیں ہی ان میں ہنسی مذاق کا احساس بھی ہے۔

خیال رہے کہ جسٹس بوبڑے کا بطور چیف جسٹس آج آخری دن رہا۔ جمعہ کے روز وہ ریٹائر ہو گئے۔ ایسے میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ان کو شام کے تقریباً پانچ بجے ورچوئل تقریب میں الوداع کہا، بوبڑے پہلے ایسے چیف جسٹس ہیں جو ورچوئل تقریب میں وداع ہوئے۔