کیا بال ٹھاکرے کی ہندو قوم پرست جماعت شیوسینا اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے؟

10

انڈیا کی سب سے امیر ریاست مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ اودھو ٹھاکرے نے کئی دن سے جاری سیاسی غیریقینی کے بعد گزشتہ بدھ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔لگتا ہے انھیں معلوم ہو گیا تھا کہ اگلے روز سپریم کورٹ انھیں صوبائی ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کا حکم دے گی اور وہ شاید اپنی وزارتِ اعلیٰ نہ بچا سکیں۔اپنی ہی جماعت کے متعدد ارکانِ اسمبلی کے باغی ہو جانے کے بعد اودھو ٹھاکرے کے پاس کوئی دوسرا راستہ بچا بھی نہیں تھا۔ یہ ارکان واضح طور پر بتا چکے تھے کہ انھیں نہ تو اودھو ٹھاکرے پر اعتماد رہا ہے اور نہ ہی اس مخلوط حکومت پر جس میں نیشنل کانگریس پارٹی جیسی معتدل جماعت اور کانگریس پارٹی شامل ہیں۔ان باغی ارکان کا کہنا تھا کہ اودھو ٹھاکرے اور ان کی جماعت شیوسینا نے دوسری جماعتوں سے اتحاد کی خاطر شیوسینا کی ہندو قوم پرستی کے نظریہ کو نظر انداز کر دیا تھا۔یہ ارکان کئی دن تک اپنی آبائی ریاست سے ہزاروں کلومیٹر دور شمال مشرقی ریاست آسام کے کے ایک ہوٹل میں دبک کر بیٹھے رہے۔اب یہ باغی ارکان اپنے رہنما اور مہاراشٹر کے سینیئر وزیر اکناتھ شِندے کی قیادت میں واپس ممبئی پہنچ چکے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ اب وہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی کوشش کریں گے۔

یہ بات حیران کن ہے کہ شیوسینا کے ارکان کی ایک بڑی تعداد ایک مرتبہ پھر بی جے پی سے ہاتھ ملانے جا رہی ہے۔ ان دونوں جماعتوں نے 30 برس سے زیادہ عرصے تک اتحادی رہنے کے بعد آخر کار سنہ 2019 میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار پر اتفاق نہ ہونے کے بعد راہیں جدا کر لی تھیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب شیوسینا ایک دوراہے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ بی جے پی اس سے پہلے ہی ناراض تھی کہ شیوسینا نے معتدل جماعتوں سے ہاتھ ملا لیا تھا لیکن اب شیوسینا کے ہاتھ سے حکومت بھی چھن گئی ہے۔ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ انڈیا کی اس سب سے بڑی علاقائی جماعت کا مستقبل کیا ہے؟ ہو سکتا ہے اس سوال کا جواب ہمیں شیوسینا کی اپنی تاریح میں نظر آ جائے گا۔شیوسینا کی بنیاد اودھو ٹھاکرے کے والد بال ٹھاکرے نے سنہ 1966 میں رکھی تھی۔ بال ٹھاکرے ایک کرشماتی لیکن متنازعہ شخصیت کے مالک تھے۔شیوسینا میں تنازعات کوئی نئی بات نہیں۔ مثلاً یہ جماعت سنہ 1991 میں اس وقت دو دھڑوں میں بٹ گئی تھی جب اس کے سینیئر رہنما چھگن بھجبال کئی ارکان اسمبلی اور کارکنوں کے ساتھ جماعت سے الگ ہو گئے تھے۔ سنہ 2005 میں شیو کے ایک اور رہنما نارائن رانے پارٹی سے الگ ہوئے تو وہ بھی کئی ارکان اسمبلی کو اپنے ساتھ لے گئے۔ اور پھر سنہ 2006 میں اودھو ٹھاکرے کے اپنے کزن، راج بھی بہت سے ارکان اسمبلی اور کارکنوں کے ساتھ جماعت چھوڑ گئے۔لیکن مصبرین کہتے ہیں کہ شیوسینا کو جو دھچکہ اِس مرتبہ پہنچا، اس سے امکان یہی ہے کہ جماعت کے حوصلے پست ہو جائیں گے۔ مثلاً سیاسی تجزیہ کار، سوہاس پالشیکر کے بقول جماعت کے اندر بغاوت سے ’شیو سینا کا زوال شروع ہو چکا ہے۔‘شیوسینا کے سابق رکن اسمبلی بھارت کمار روت کی باتوں میں بھی ہمیں یہی بازگشت سنائی دیتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’آج سے پہلے جماعت کو کبھی اتنے بڑے بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ (اب تو) مقامی سطح پر بھی جماعت کے حامی اور کارکن اسے چھوڑ کر جا چکے ہیں۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مرتبہ ’اودھو ٹھاکرے اور ان کی جماعت کے لیے آج نہیں تو کبھی نہیں والی صورتِحال پیدا ہو چکی ہے۔‘انڈیا میں شیوسینا جیسی علاقائی جماعتوں کا ہمیشہ نہ صرف اچھا خاصا سیاسی اثرو رسوخ رہا ہے بلکہ یہ جماعتیں ریاستی انتخابات میں قومی سطح کی بڑی بڑی جماعتوں کو شکست سے دوچار بھی کرتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ جب کوئی بڑی جماعت وفاق میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے تو یہی علاقائی جماعتیں قومی سطح پر بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

بال ٹھاکرے سنہ 1960 کے عشرے میں اس وقت سیاسی افق پر نمودار ہوئے جب وہ مہاراشٹر کی مقامی مراٹھی برادری کے حقوق کے لیے جدوجہد میں پیش پیش نظر آئے۔ اس وقت ریاست کیرالہ اور دیگر جنوبی ریاستوں سے لوگ بڑے پیمانے پر ہجرت کر کے مہاراشٹر آ رہے تھے جس سے مقامی لوگ خوش نہیں تھے۔وہ جلد ہی اپنی شعلہ بیانی کی وجہ سے انڈیا کے متنازعہ ترین سیاستدان بن گئے۔ اپنے عروج کے دنوں میں ان کے حکم پر انڈیا کے معاشی دارالحکومت ممبئی میں بے شمار مرتبہ ہڑتال کی گئی۔جب حکومتی سطح پر سنہ 1992 اور 1993 میں ممبئی میں بڑے پیمانے پر ہونے والے فسادات کی تفتیش ہوئی تو شیوسینا کے کارکنوں کے علاوہ اس کے کئی رہنماؤں کو بھی مسلمانوں پر حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا لیکن ان فسادات کے حوالے سے بال ٹھاکرے کو کبھی بھی کسی جرم کا ذمہ دار نہیں قرار دیا گیا۔ممبئی فسادات کے برسوں بعد سنہ 2014 اور 2015 کے درمیانی مہینوں میں شیوسینا کو اس وقت خاصی بدنامی کا سامنا کرنا پڑا جب اس نے طاقت کے زور پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرکٹ کی بحالی پر ہونے والے مذاکرات کو منسوخ کرا دیا۔ اس کے علاوہ شیوسینا نہ صرف مشہور پاکستانی گلوکار غلام علی کے کانسرٹ کو منسوخ کرانے میں کامیاب رہی بلکہ سابق پاکستانی وزیرِ خارجہ کی کتاب کی تقریب رونمائی میں بھی ہنگامہ آرائی کی۔مبصرین کہتے ہیں کہ اب شیوسینا کو اپنے کارکنوں کو دوباہ متحرک کرنے اور انھیں یہ باور کرانے میں مشکل کا سامنا کرنے پڑے گا کہ جماعت میں ابھی تک وہی ولولہ موجود ہے، چاہے اس کے نتیجے میں ماضی میں جماعت کو عوامی مقولیت ملی ہو یا بدنامی۔بال ٹھاکرے اور ان کے بیٹے کی سیاست کے حوالے سے باخبر سمجھے جانے والے ایک سینیئر صحافی نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر کہا کہ شیو سینا ’شدید مشکل‘ میں ہے، اب جماعت کے سربراہ کو چاہیے کہ وہ ’بنیادی سطح سے جماعت کی تعمیر نو‘ شروع کریں۔اگر آج اس کے 39 باغی ارکان بی جے پی کے ساتھ مل کر ریاست میں نئی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہی تو شاید شیوسینا کو کچھ وقت کے لیے سیاسی منظرنامے سے غائب ہو جانا پڑے اور ایسے وقت میں اگر جماعت کے مقامی کارکن بھی باغیوں کی حمایت میں سامنے آ جاتے ہیں تو مسٹر ٹھاکرے کے مسائل میں اضافہ ہو جائے گا۔لیکن ابھی تک یہ بات واضح نہیں کہ باغی ارکان کے چلے جانے سے دیہات اور ضلعی سطح پر جماعت کے ڈھانچے کو کتنا نقصان پہنچا۔

ضلع سولاپور میں جماعت کے سربراہ، گروشانت دھتاگاؤنکر کہتے ہیں کہ کچھ دیہات اور ضلعوں میں کارکنوں نے باغیوں کے ساتھ وفاداری نبھانے کے وعدے کرنا شروع کر دیے ہیں۔رکن اسمبلی، رام پٹیل ان چند ارکان میں سے ہیں، جو ابھی تک اودھو ٹھاکرے کے ساتھ وفاداری نبھا رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’شیو سینا ایک نظریہ اور ایک تحریک ہے۔ کوئی شخص بھی نظریے کو نہیں مار سکتا۔ ہم بالا صاحب (بال ٹھاکرے) کے بچے ہیں۔ ہم مرتے دم تک ان کے وفادار رہیں گے۔‘گروشانت دھتاگاؤنکر بھی یہی سمجھتے ہیں کہ شیوسینا کو جب بھی کوئی دھچکہ لگا ہے، یہ جماعت پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھری ہے کیونکہ ’ہم نے ہمیشہ بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت کی ہے۔‘لیکن لگتا ہے کہ اب شیوسینا اور بی جے پی کا اتحاد واقعی ختم ہو چکا ہے۔ گروشانت دھتاگاؤنکر تسلیم کرتے ہیں کہ شیوسینا کو آج سے پہلے اتنی بڑی مشکل کا سامنا کبھی نہیں کرنا پڑا۔وہ کہتے ہیں کہ ’جب آپ حکومت میں ہوتے ہیں، تو گاؤں کی سطح پر کام کرنے کے لیے آپ کو مسلسل پیسے ملتے رہتے ہیں لیکن اگر ہم کام جاری نہیں رکھ سکتے تو پھر ووٹر ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔‘مسٹر پٹیل پُر اعتماد ہیں کہ اگلے ریاستی انتخابات میں، جو دو سال بعد ہوں گے، ان میں ووٹر باغی ارکان کو سزا دیں گے۔ ووٹرز کو باغیوں پر غصہ ہے۔ لوگ انھیں انتخابات میں سبق سکھا دیں گے۔‘کچھ مبصرین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ شیوسینا کی شناخت ٹھاکرے خاندان کے ساتھ جُڑی ہوئی ہے اور یہ چیز جماعت کو دوبارہ ابھرنے میں مددگار ثابت ہو گی۔مسٹر پالشیکر کہتے ہیں کہ یہ جماعت ٹھاکرے خاندان کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ اودھو ٹھاکرے اور ادتیا ٹھاکرے ہی بال ٹھاکرے کے اصل سیاسی وارث ہیں۔ اسی لیے مصبرین سمجھتے ہیں کہ ان دونوں رہنماؤں کو اپنی جماعت کو دوبارہ کھڑا کرنے کے لیے اس دعوے کا خوب ڈھول پیٹنا ہوگا کہ بال ٹھاکرے کے حقیقی جانشین یہی دونوں ہیں۔

زبیر احمد بی بی سی نیوز، دہلی