جیسے ہی بہار کے علاقہ سیوان سے تعلق رکھنے والے جناب شہاب الدین صاحب جو سابق رکن پارلیمنٹ بھی تھے کا 1/5/2021 بروز ہفتہ کو انتقال ہوا اس کے دوسرے ہی دن اور ایک خبر موصول ہوئی کے یوپی سے تعلق رکھنے والے سیاست کے افق کے جگمگاتے ہوئے ستارے اعظم خان صاحب کی بھی طبیعت ناساز ہے دونوں حضرات کے معاملے میں یکسانیت یہ ہیکہ دونوں ہی جیل میں تھے اور اعظم خان صاحب ابھی بھی جیل میں ہیں اور دونوں ہی صاحبان اپنے وقت کے قد آور لیڈر و حکومت وقت کے لیے ایک چیلنج تھے ،قوم کا درد ، ملی مسائل سےدلچسپی،حکومت کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ببانگ دہل آواز اٹھانا دونوں کا ہی خاصہ رہا ہے شاید اسی جرم نا کردہ کے سبب دونوں ہی حضرات کو فسطائ ذہنیت کی حامل حکومت وقت نے دیوار سے لگادیا اظہار خیال کی آزادی اور حکومت کی غلط پالیسیوں پر عوامی جلسوں اور پارلیمنٹ میں احتساب ہی دونوں پر مصائب اور قید بند کی صعوبتیں لیکر آیا شہاب الدین صاحب کی موت مشتبہ بتائی جارہی ہے جس میں قتل کا شبہ بتایا جا رہا ہے اسی کے دوسرے دن اعظم خان کی طبیعت بگڑنا جہاں اتفاق ہو سکتا ہے ساتھ ہی ایک سازش سے کم بھی نہیں ہو سکتا اور اسی طرح بلاکسی قانون و آئین کے خوف سے آزاد ہوکر سیاسی و مسلم دشمنی میں سازشوں کے ذریعے اتنے مظبوط و قد آور انسانوں کے ساتھ قیدو بند اور قتل کی وارداتیں کی جائیں گی تو عام انسانوں کا تو خدا ہی حافظ ہے یا دوسرے معنی میں عام مسلم جو آج تک ماب لنچنگ کا شکار ہو جا یا کرتے ہیں وہ متعصب اور اسلام دشمن طاقتوں کے لیے نرم نوالہ بن جائیں گے جن لوگو نے جن میں مشہور سوشل ایکٹوسٹ جیسے سمیع اللہ خان اور علی سہراب وغیرہ شامل ہیں نے سوشل سائیٹس پر ان مسلم قائدین کے لیے آواز اٹھائی ہے وہ شعور بیدار کرنے اور آنے والے خطروں سے آگاہ کرنے کی حد تک ٹھیک ہے لیکن اس سے بڑھ کر اس کے لیے عملی میدان میں کام کرنے کی ضرورت ہے جس میں قابل مسلم وکلاء ، با اثر سماجی و مذہبی راہنما اور سیاسی قائدین کے ایک ساتھ حکومت پر دباو کے ساتھ اعظم خان صاحب کی فی الفور رہائی کے لیے قانونی لڑائی لڑنے کی ضرورت ہے تبھی جاکر ایک اور ہمدرد و مسلمانوں کے حقوق کے لیے لڑنے والے رہنما کو تعصب پسند قاتلوں کی بھینٹ چھڑنے سے بچایا جا سکتا ہے

✍️:پرویز نادر