کیا ایمازون کے روبوٹ انسانوں کی جگہ لے سکتے ہیں ؟

68

آن لائن بزنس کی دیوقامت کمپنی ایمازون نے امریکی ریاست میساچوسیٹس کے شہر بوسٹن کے مضافات میں قائم اپنی روبوٹکس لیبارٹری میں ’سپیرو‘ نامی روبوٹ تیار کیا ہے جو انسانی ہاتھ جیسی مہارت کے ساتھ صارفین کو بھیجنے کے لیے اشیا کا انتخاب کرتا ہے۔

یہ اب تک کا ایمازون کا جدید ترین روبوٹ ہے اور جلد ہی کمپنی کے ان لاکھوں ملازمین کا کام کر سکے گا جو سامان کو الگ الگ کر کے اسے سالانہ پانچ ارب خاندانوں کو ارسال کرتے ہیں۔’سپیرو‘ اور ’روبن‘ اور ’کارڈینل‘ نامی روبوٹس کی تیاری سے ایمازون کے گوداموں میں کام کرنے والے ملازمین میں تشویش پیدا ہو گئی ہے کہ ایک دن آئے گا جب گودام مشینیں چلائیں گی اور بڑے پیمانے پر لوگ روزگار سے محروم ہو جائیں گے۔

تاہم ایمازون کے شعبہ روبوٹکس کے سربراہ ٹائی بریڈی نے اس تشویش کا مسترد کر دیا جس کا اظہار لیبر یونینوں نے کیا۔گذشتہ سال اکتوبر میں ویسٹ بورو میں کھلنے والی لیبارٹی کے دورے کے موقعے پر صحافیوں سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ ’مشینیں لوگوں کی جگہ نہیں لے رہیں۔ دراصل مشینیں اور لوگ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ کام کو مربوط بنایا جا سکے۔

سپیرو کیمروں اور سلینڈر کی شکل کی ٹیوبوں سے آراستہ ہے۔ روبوٹ میں مختلف شکل اور سائز کی لاکھوں مصنوعات میں مخصوص شے کا انتخاب کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔یہ کنویئر بیلٹ پر آنے والے سامان کو اپنے روبوٹک بازو کی مدد سے آہستہ سے اٹھا کر اپنے سامنے موجود متعلقہ ٹوکری میں ڈال دیتا ہے۔روبن اور کارڈینل بھی سامان کو مخصوص جگہ پر پہنچا سکتے ہیں تاہم سپیرو ایمازون کا پہلا روبوٹ ہے جو الگ الگ اشیا کو سنبھال سکتا ہے۔

بریڈی کہتے ہیں کہ ’ہمارے گوداموں میں موجود مختلف قسم کے سامان سامنے رکھتے ہوئے، سپیرو ایک اہم کامیابی ہے۔‘

تین روبوٹوں کے ساتھ کام کرنا مشینوں کی ایک چھوٹی فوج کے ساتھ کام کرنے جیسا ہے۔ اس فوج میں پروٹیئس نام کا روبوٹ بھی شامل ہے جو گوداموں سے سینکڑوں کلوگرام اشیا لے جا سکتا ہے۔بریڈی کا کہنا تھا کہ روبوٹس کی بدولت ملازمین ایک ہی کام بار بار کرنے سے آزاد ہو کر اپنی حفاظت کو بہتر بناتے ہوئے توجہ زیادہ فائدہ مند اور دلچسپ کاموں پر مرکوز کر سکیں گے۔

ایمازون کی توجہ اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ صارف کے کسی چیز کا آرڈر دینے اور اس چیز کے اس کے دروازے پر پہنچنے کے درمیان جتنا ممکن ہو کم وقت لگے۔

اس مقصد کی وجہ سے کچھ کارکنوں نے کمپنی پر ان کے ساتھ ’غلاموں‘ جیسا سلوک کرنے اور انہیں کھانے اور بیت الخلا جانے کے وقفوں سے محروم کرنے کا الزام لگایا ہے۔ایمازون کی سامان کی تیز ترسیل کی خواہش آٹومیشن میں اس کی سرمایہ کاری کو آگے بڑھا رہی ہے۔

اس سال کے آخر تک یہ لاک فورڈ، کیلی فورنیا اور کالج سٹیشن، ٹیکسس کے گوداموں سے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں دو کلوگرام تک کے پیکیجوں کی فراہمی شروع کر دے گی۔کمپنی کا ہدف بوسٹن، اٹلانٹا اور سیاٹل جیسے بڑے امریکی شہروں سمیت دہائی کے آخر تک ڈرون کے ذریعے 50 کروڑ پیکج فراہم کرنا ہے۔

ایمازون روبوٹکس کے نائب صدر جو کوئن لیون کے مطابق کمپنی کے سالانہ پانچ ارب آرڈرز کا تقریباً 75 فیصد کسی نہ کسی مرحلے پر روبوٹ کے ذریعے ہینڈل کیا جاتا ہے۔

کئی دہائیوں سے روایتی سوچ یہ تھی کہ بڑھتی ہوئی آٹومیشن افرادی قوت کو تباہ کر دیتی ہے۔ اب مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ای کامرس میں روبوٹس کی طرف جانے سے طلب میں زبردست اضافے کی بدولت مختصر سے درمیانی مدت میں ملازمتیں بڑے پیمانے پر ختم نہیں ہوں گی۔

تاہم برکلے میں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے لیبر سینٹر کے 2019 کے مطالعے میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگرچہ کچھ ٹیکنالوجیز گودام کے مشکل کاموں کو آسان بنا سکتی ہیں لیکن وہ ’کام کے بوجھ اور کام کی رفتار‘ کو بڑھانے میں بھی کردار ادا سکتی ہیں۔

محققین نے مزید کہا کہ تکنیکی ترقی ’کارکنوں کی نگرانی کے نئے طریقوں‘ میں بھی حصہ ڈال سکتی ہے۔

انہوں نے ایمازون کی مشن ریسر نامی ویڈیو گیم کا حوالہ دیا ’جو صارفین کے آرڈرز کو تیزی سے جمع کرنے کے لیے کارکنوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرتی ہے۔‘

ایمازون کا کہنا ہے کہ اس کی اختراع نے 10 لاکھ سے زیادہ ملازمتیں اور ملازمت کی سات سو نئی کیٹگریاں پیدا کیں، نہ صرف خاص طور پر انتہائی مہارت والے انجینیئرنگ کے شعبےمیں بلکہ تکنیکی ماہرین اور آپریٹرزکے لیے روزگار کے مواقعے پیدا کیے۔

کوئن لیون کے مطابق: ’میں واقعی سوچتا ہوں کہ ہم اگلے پانچ سالوں میں جو کچھ کرنے جا رہے ہیں وہ گذشتہ 10 سالوں میں ہم نے جو کچھ بھی کیا ہے اسے گھٹا دے گا۔‘