• 425
    Shares

افغان طالبان کے کابل آنے کو ایک ماہ سے زیادہ کاعرصہ گزر چکا ہے اس دوران انہوں نے عبوری حکومت کا اعلان بھی کر دیا لیکن دنیا کے کسی ایک ملک نے بھی ان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔طالبان اب قوموں کے عالمی کلب یعنی اقوام متحدہ میں اپنی نشست حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔طالبان نے اقوام متحدہ کو ایک خط لکھ کر نیویارک میں جاری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرنے کی درخواست کی ہے۔عسکریت پسند گروپ کا اصرار ہے کہ وہ اپنی حکومت کو تسلیم کیے جانے کی تمام عالمی ضروریات کو پورا کرتے ہیں تاہم اقوام متحدہ نے مؤثر طریقے سے طالبان کی درخواست کا یہ کہہ کر جواب دیا ہے کہ ایسا جلد ہونا ممکن نہیں ہے۔

افغانستان نے 1946 میں اقوام متحدہ کی ابتدائی رکنیت حاصل کی تھی جس کے نمائندے کل (پیر کو) جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرنے والے آخری سفارت کار ہوں گے۔اقوام متحدہ کی کمیٹی جو سفیروں کی اسناد کے حوالے سے چیلنجز کا فیصلہ کرتی ہے، اس کا ابھی تک اجلاس نہیں ہوا جس سے یہ بات تقریبا یقینی ہے کہ یا تو افغانستان کے موجودہ سفیر (جو اشرف غنی حکومت کی نمائندگی کرتے تھے) اس سال جنرل اسمبلی میں افغانستان کی جانب سے خطاب کریں گے یا شاید کسی کو بھی اس کی اجازت نہ دی جائے۔

اقوام متحدہ طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم کرنے سے انکار کر سکتا ہے یا وہ انسانی حقوق، لڑکیوں کو تعلیم تک رسائی اور سیاسی مراعات کے بارے میں یقین دہانی حاصل کر کے انہیں تسلیم بھی کر سکتا ہے۔اقوام متحدہ کو افغانستان میں اپنے وسیع امداد اور ترقیاتی پروگراموں کے مستقبل کا تعین بھی کرنا ہے جہاں غیریقینی سیاسی حالات سے دوچار ملک میں انسانی بحران اور انتہائی غربت کا سامنا ہے۔

امداد کی فراہمی کو طالبان پر لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔وعدوں کے باوجود طالبان نے ابھی تک بالغ خواتین کو تعلیمی اداروں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی۔ مقامی میڈیا کی آزادی کو سلب کیا ہے اور شہر کی چوراہوں پر سرعام لاشوں کو لٹکانے جیسے طریقوں کو دوبارہ متعارف کرایا ہے۔

جنیوا میں اقوام متحدہ میں افغانستان کے اس وقت تسلیم شدہ سفیر ناصر اندیشا نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ طالبان افغان عوام کی نمائندگی نہیں کرتے۔انہوں نے کہا: ’اگر اقوام متحدہ طالبان کے اقتدار کے دعوے کو تسلیم کر لیتی ہے تو پھر یہ دوسروں کے لیے بھی ایک سنجیدہ پیغام ہو گا۔ چاہے وہ یمن ہو یا میانمار۔ کوئی بھی گروپ بندوق اٹھا سکتے ہیں، تشدد کر سکتے ہیں اور امریکہ کے نامزد دہشت گرد گروہوں کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’میرا خیال ہے کہ دنیا کے لیے اور اقوام متحدہ کے لیے اب وقت آگیا ہے کہ اسے اپنی قوت کا اثر دکھانے کے لیے استعمال کریں۔‘

طالبان کے مقرر کردہ اقوام متحدہ کے نمائندے اور سابق مذاکرات کار اور گروپ کے ترجمان ترجمان سہیل شاہین نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ان کی حکومت کو اقوام متحدہ میں شامل کیا جانا چاہیے اور یہ کہ ’افغانستان کی تمام سرحدیں، علاقے اور بڑے شہر ہمارے کنٹرول میں ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اپنے عوام کی حمایت حاصل ہے اور ان کی حمایت کی وجہ سے ہم اپنے ملک کی آزادی کے لیے ایک کامیاب جدوجہد جاری رکھنے میں کامیاب رہے ہیں جس کا اختتام ہماری آزادی کی صورت میں ہوا ہے۔‘

ان کے بقول: ’ہماری حکومت کو تسلیم کیے جانے کے لیے ہم تمام ضروریات پورا کرتے ہیں۔ لہذا ہم امید کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ ایک غیر جانبدار عالمی ادارہ کے طور پر افغانستان کی موجودہ حکومت کو تسلیم کرے گی۔‘

تمام طالبان کابینہ کے ایک درجن سے زائد وزرا اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل ہیں جن میں طالبان کا وزیر خارجہ بھی شامل ہیں۔ناصر اندیشا اشرف غنی کی امریکی حمایت یافتہ حکومت کے تحت جنیوا میں خدمات انجام دے رہے تھے۔

اندیشا اب بھی دنیا بھر کے ممالک کے نمائندوں کے ساتھ ملاقاتیں کرکے ان سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ بین الافغان امن مذاکرات کی بحالی پر زور دیں۔دریں اثنا قطر نے کئی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کا بائیکاٹ نہ کریں اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ طالبان کو الگ تھلگ کرنے سے گریز کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ دہشت گردی ترک کرنے اور شمولیت کے اپنے وعدوں پر قائم رہیں۔

1990 کی دہائی میں طالبان کی پہلی حکوت کو صرف پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے تسلیم کیا تھا اور اقوام متحدہ نے ان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔