کیا اعظم خان نے رامپور لوک سبھا سیٹ بی جے پی کے حوالے کر دی؟

لکھنو:(ایجنسیز)رامپور لوک سبھا سیٹ کے لیے ضمنی انتخاب 23 جون کو ہے۔ بی جے پی نے اس سیٹ سے اپنا امیدوار گھنشیام سنگھ لودھی کو بنایا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گھنشیام سنگھ اعظم خان کے بے حد قریبی ہیں اور جنوری 2022 میں سماجوادی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے۔ ایسے ماحول میں لوگوں کے درمیان چہ می گوئیاں شروع ہو گئی ہیں کہ کیا اعظم خان کے اشارے پر بی جے پی نے گھنشیام سنگھ کو امیدوار بنایا ہے؟

کیا اعظم خان نے سماجوادی پارٹی کو جھٹکا دینے کے لیے بی جے پی کی جیت کا راستہ ہموار کر دیا ہے؟ایسے کئی سوالات کے درمیان ایسی بھی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ سماجوادی پارٹی رامپور لوک سبھا سیٹ سے کمزور امیدوار اتار سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر یہی مانا جائے گا کہ اعظم خان ہی نہیں، سماجوادی پارٹی بھی بی جے پی کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہے۔ ایسی صورت میں کانگریس کے لیے بھی مقابلے کی راہ کھل جائے گی۔ اگر کانگریس اس سیٹ پر مضبوط امیدوار اتارتی ہے تو مقابلہ بی جے پی اور کانگریس کے درمیان براہ راست ہوگا اور اس کا فائدہ کانگریس کو مل سکتا ہے۔چونکہ 6 جون پرچہ نامزدگی بھرنے کی آخری تاریخ ہے، اس لیے دو دنوں میں یہ صاف ہو جائے گا کہ کون سی پارٹی کس امیدوار کو اتار رہی ہے۔

لیکن اتنا تو طے ہے کہ بی جے پی امیدوار گھنشیام سنگھ کو اعظم خان کا قریبی رہنے کا فائدہ ملے گا۔جہاں تک گھنشیام سنگھ کے سیاسی سفر کا سوال ہے، تو وہ 1992 سے 1998 تک بی جے پی یوتھ وِنگ کے ضلعی صدر رہے تھے۔ 1999 میں انھوں نے بی جے پی چھوڑ کر بہوجن سماج پارٹی کی رکنیت اختیار کر لی۔ 2004 میں بہوجن سماج پارٹی چھوڑ کر وہ راشٹریہ کرانتی پارٹی میں شامل ہوئے، اور پھر 2009 میں دوبارہ بہوجن سماج پارٹی کی رکنیت اختیار کر لی۔ 2010 میں گھنشیام سنگھ نے سماجوادی پارٹی جوائن کی اور جنوری 2022 میں وہ پھر اسی پارٹی (بی جے پی) سے جڑ گئے جس کے ساتھ اپنا سیاسی سفر شروع کیا تھا۔