ویسے تو پورے ملک میں رام نومی کے دن ہندوتوا دہشت گرد رام کے نام کو دہشت کی علامت ،آنکھوں میں شرارت اور دل میں مسلمانوں کے لیے تعصب و نفرت اور دشمنی کو بسائے پوری تیاری کے ساتھ مسلم محلوں سے گزرتے رہے،مسلمانوں کی نسل کشی پر منحصر نعرے،شور شرابہ مسلمانوں کو جذبات میں لانے کے لیے ڈی جے جس میں نفرت پر مبنی گانے بجاتے رہے، جہاں موقع ہاتھ آگیا

اپنے دل کی حسرت پوری کردی ،اور پولس جس کو لاء اینڈ آرڈر برقرار رکھنا چاہیے وہ ہندوتوا دنگائیوں کی مددگار اور محافظ بن رہی،مسلم بستیوں کو ٹارگٹ کیا گیا ،مساجد کو نقصان پہنچایا گیا،مسلم تاجروں کے تجارتی مراکز اور املاک کو جلایا گیا،اس کے بعد جب دنگائی اپنا کام کر گئے پھر پولس کا کام شروع ہوا ،جس میں مسلم بستیوں میں دہشت، بیجا گرفتاریاں، گویا ایک کریک ڈان کیا گیا،اس مہینے ہونے والے فسادات میں راجستھان کے کرولی شہر میں برپا ہونے والے فساد کے بعد سب سے زیادہ بلکہ کرولی سے بھی بھیانک فساد کھرگون کا ہے۔

جس میں اتنی پختہ منصوبہ بندی کی گئی کہ فساد کے بھڑکنے کے کچھ ہی گھنٹوں میں انتظامیہ اور پولس کی طرف سے کریک ڈاؤن شروع کردیا گیا ،پہلے تو مسلم بستیوں میں ہندوتوا دنگائیو کی طرف سے نقصان پہنچایا گیا،پٹرول بم پھینکے گئے ،مکانات اور مساجد میں آگ زنی کی گئی پھر اس کے بعد ایک سفاکانہ اور ظالمانہ فیصلے کے ذریعے بےجا اور بے قصور نوجوانوں کی بے دریغ گرفتاریاں شروع کردی گئی۔

مسلمانوں کے مکانات انتظامیہ کے ذریعے پولس کی نگرانی میں منہدم کیے جارہے ہیں، بغیر ایف آئی آر درج کیے عدالت سے رجوع ہوئے بغیر کس دفع کے تحت یہ سب کیا جارہا ہے، یہ سوال پوچھنے کی کسی کی ہمت نہیں،ایک خبر کے مطابق کل180 مکانات کو منہدم کرنے کی تیاری ہے اگر سرکاری اعدو شمار یہ ہیں تو غیر سرکاری اعدادو شمار کے مطابق کیا قیامت ڈھائی جارہی ہوگی۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ کھرگون انتظامیہ نے جلوس کو ڈی جے بجانے کی اجازت نہیں دی تھی، ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جن مکانات کو ڈھایا جا رہا ہے،اس میں ٹین شرٹ پتروں کے مکانات ہیں، بھلا ان مکانات پر سے پتھر کیسے برسائے جا سکتے ہیں۔تماشہ یہ کہ میڈیا کی طرف سے ہندوتوادی دہشت گردوں کو مظلوم بناکر پیش کیا جارہا ہے جس کے ذریعے مزید انتقام کی آگ کو بھڑکا جارہا ہے۔

کرنے کے کام

اپنے آپ کو مُسلمانوں کی نمائندہ قیادت سمجھنے والی سبھی شخصیات اور جماعتوں کے مرکزی ذمہ داران کو اپنی قانونی ٹیم کے ساتھ فی الفور بلا کسی تاخیر کے کھرگون پہنچنے کی ضرورت ہے،ساتھ ہی ایم پی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ایسے وکلاء جو امت کے لیے درد دل رکھتے ہیں انہیں کھرگون پولس اسٹیشن پہنچنا چاہیے تاکہ ایک طرفہ گرفتاریوں اور سنگین دفعات کے تحت مقدمات کو روکا جا سکے،

ساتھ ہی Ground realities اورfinding facts کے لیے مسلم میڈیائی اداروں اور جرنلسٹ کو کھرگون پہنچنے کی ضرورت ہے۔

یہ ایسے کام ہیں جسے بر وقت کرنا چاہیے، پوری قیامت ٹوٹنے کے بعد باز آباد کاری اور ریلیف کے لیے پہنچنا یہ کوئی خدمت نہیں ہے ، بلکہ فرعون وقت کو بتانا پڑے گا کہ امت ابھی لا وارث نہیں ہوئی اور جمہوریت و بھائی چارے اور امن و امان کا ٹوکرا صرف مسلمانوں کے سر نہیں رکھا جا سکتا۔اگر یہ سب نہیں کیا گیا تو خبردار، ابھی تو قانون کو یرغمال بناکر گرفتاریاں اور مکانات کو منہدم کیا جارہا، وہ دن دور نہیں جب مسلمانوں کے لیے اجتماعی مقتل خانے بنیں گے

✍:پرویز نادر