بھوپال:(ایجنسیز) مدھیہ پردیش کے گھرگون میں رام نومی کے جلوس کے دوران اتوار کے روز ہونے والے تشدد کے لئے ریاست کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے براہ راست مسلمانوں مورد الزام ٹھہرا دیا ہے۔ انہوں نے جلوس پر پتھر پھینکنے کے ملزمین کے گھروں کو منہدم کرنے کی حکومتی کارروائی کا بھی دفاع کیا۔این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے مسلم طبقہ پر فساد برپا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے نروتم مشرا نے کہا ’’اگر مسلمان اس طرح کے حملے کریں گے تو انہیں انصان کی امید نہیں کرنی چاہئے۔ ریاستی حکومت فسادیوں اور غیر قانونی قبضہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرک رہی ہے۔‘‘

خیال رہے کہ اتوار کو کھرگون میں اس وقت تشدد پھوٹ پڑا تھا جب رام نومی کا جلوس مسلم اکثریتی علاقے سے گزر رہا تھا۔ پولیس کے مطابق لاؤڈ سپیکر کے ذریعے بلند آواز میں بھجن بجانے کے بعد جلوس پر پتھراؤ کیا گیا۔ پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے۔ اس وقت ہونے والے تشدد میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سدھارتھ چودھری سمیت کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے، چار مکانات کو نذر آتش کیا گیا اور مندر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔وزیر داخلہ نے کہا، "94 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایس پی، جنہیں گولی لگی تھی وہ اب بہتر ہیں۔ جو لڑکا وینٹی لیٹر پر تھا، اس کی حالت بھی پہلے سے بہتر ہے۔‘‘ اس کے بعد وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے پتھراؤ میں ملوث افراد کی ‘غیر قانونی عمارتوں’ کو گرانے کا حکم دیا۔

45 کے قریب مکانات اور دکانوں کو مسمار کرنے کے لیے بلڈوزر کا استعمال کیا گیا۔ پیر کے روز تقریباً 16 مکانات اور 29 دکانیں منہدم کر دی گئیں۔وزیر نے کہا، "اصل بات یہ ہے کہ حملہ آوروں کو بچایا جا رہا ہے۔ ہمیں اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ مدھیہ پردیش حکومت پر کسی ایک کمیونٹی کے لیے کام کرنے کا الزام ہے لیکن اگر کوئی بھی فساد بھڑکاتا ہے تو اسے کچل دیا جائے گا۔ یہ تمام فسادی ایک ہی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘