کھانسی مرض نہیں بلکہ ایک علامت ہے

0 69

کھانسی مرض نہیں بلکہ ایک علامت ہے قصبتہ الریہ (ہوا کی نالی) سے پیدا شدہ آواز ہے جو اعضاۓ صدر کی غیر طبعی حرکات سے پیدا ہوتی ہے جس سے پھیپھڑوں اس کے پردوں اور دیگر اعضاۓ صدرکی بے چینی تکلیف اوراذیت رفع کرنے کے لیے وقوع میں آتی ہے کھانسی کی حرکت بالکل ایسافعل ہے جیسے معدہ کے لیے ہچکی اور دماغ کے لیے چھینک ہے-

اسباب:-

اس کے تین قسم کے اسباب ہوتے ہیں(کیفیاتی و نفسیاتی) (مادی و سوزشی) (شرکی اور اضی)

غلط فہمی:

عام طور پر یہ کوشش کی جاتی ہے کہ کوئ ایسی دوا تیار ہو جاۓ ہرقسم کی کھانسی میں مفید ہو ایسی کوشش عام طور پر دوافروش اور غیر معالج کرتے ہیں-یہ سبق فرنگی طب سے لیا گیا ہے کیونکہ فرنگی کمپنیاں ہرعلامت کو مرض بنا کرپیش کرتی ہیں اس لیے اپنی بے معنی دوا کا پروپیگنڈا کرتی رہتی ہیں حیرت اس بات کی ہے کہ فرنگی میڈیکل کونسل ایسی ادویات کو کیسے پاس کردیتی ہے فرنگی میڈیکل کونسل کی گزشتہ پچاس سال کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ اس نے ایک مرض کے لیے سینکڑوں نہیں ہزارو ادویات پاس کی ہیں لیکن ان کا حشر کیا ہوا عرصہ دس سال کے اندر ان کا نام و نشان نہ رہا اور اس مرض کی نئ ادویات مارکیٹ میں آگئیں اس کی وجہ اس کے سوا کیا ہو سکتی ہے کہ وہ ادویات ناکام تھیں اور تجارتی زاویہ نگاہ سے نئ ادویات مارکیٹ میں بھیجنی پڑیں-

کھانسی کے اقسام:

قانون طب میں کھانسی کی تیں صورتیں ہیں-

ا-رطوبات کی زیادتی کی وجہ سے کھانسی جس میں جسم ٹھنڈا اکثرزکام سفید اور رقیق بلغم سرمیں درد اگر مزمن صورت اختیار کر جاۓ تو کالی کھانسی بن جاتی ہے-
علاج: تخم پیاز کاکڑاسنگی اور دارچینی کا سفوف اور قہواہ دن میں تین بار استعمال کریں۔

2-صفراوی کھانسی:
اس کا تعلق پھیپھڑوں کے غشاۓ مخاطی سے ہوتا ہے بلغم گاڑھا رقیق ملا جلا گلے میں سوزش زیادتی کی صورت میں ضعف قلب پیدا ہو جاتا ہے بلغم زردی مائل ہوتا ہے-

علاج:
بادام 9 حصہ ست ملٹھی احصہ گوندکیکر 3 حصہ سفوف بنالیں ایک ماشہ دن میں تین مرتبہ پانی سے استعمال کریں-

3-خشک کھانسی
اس کا تعلق پھیپھڑوں کے ساتھ ہے اس میں قبض کی زیادتی شکم ریاح کی کثرت دل کا گبھرانا سانس کی تنگی بلغم کا غلیظ ہو کر اخراج بمشکل ہونا

سبزی مائل بلغم-
علاج:
گل بانسہ گل بنفشہ بادیان کا سفوف اور قہواہ استعمال کریں۔

کھانسی احتیاط، پرہیز، علاج

ماہرین کے مطابق کھانسی کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ادرک ،شہد، وٹامن سی الائچی اور دارچینی کا استعمال مفید ہے جب کہ ساتھ ہی ماہرین کھانسی کے دوران بعض چیزوں سے بچنے کا بھی مشورہ دیتے ہیں۔

دودھ کے استعمال سے پرہیز:

دوران کھانسی دودھ کا استعمال مضر ہے اس لیے اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔ دودھ پینے سے بلغم میں اضافہ ہوتا ہے جو کہ پھیپھڑوں اور سینے کی تکلیف کا باعث بنتا ہے اور ساتھ ہی اس سے گلے میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔

ماہرین صحت مشورہ دیتے ہیں کہ کھانسی کے دوران تمام ڈیری اشیا سے احتیاط کرنا چاہیے۔

پانی زیادہ پئیں:

کھانسی کے دوران پانی کا استعمال زیادہ کریں اور جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔ پانی کا زیادہ استعمال گلے کو خشک رکھنے سے بچاتا ہے جب کہ نیم گرم پانی پینے سے گلے کی خشکی بھی دور ہوتی ہے اور ساتھ ہی گلے کی سوجن بھی ختم ہوجاتی ہے۔

کھانسی کے دوران چائے کافی اور ایسے مشروبات سے پرہیز کرنا چاہیئے جن میں کیفین شامل ہو ۔

میٹھی اشیا سے پرہیز:

دوران کھانسی زیادہ میٹھی غذا نہیں کھانی چاہیے کیوں کہ اس سے کھانسی میں اضافہ ہوتا ہے۔وائٹ بریڈ ،پاستہ، چپس اور مصنوعی ذائقے کی مٹھائیوں کے بجائے پتے والی سبزیوں کا استعمال کرنا چاہیے۔

تلی ہوئی غذا نہ کھائیں:

کھانسی کے دوران تلی ہوئی غذا کا سختی سے پرہھیز کرنا چاہیئے کیونکہ تلی ہوئی چیزیں گلے میں چکناہٹ پیدا کردیتی ہیں جو مزید تکلیف کا سبب بنتا ہے۔

کھٹی چیزوں سے پرہیز:

ماہرین کے مطابق دوران کھانسی کھٹی چیزیں کھانے اور پینے سے پرہیز کرناچاہیے کیونکہ اس میں موجود ایسیڈک ایسڈ گلے کے غدود کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین اور ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ علاج سے بہتر پرہیز ہے اس لیےکوشش کی جائے کہ دوران کھانسی ان تمام اشیاء سے پرہیز کیا جائے۔

شربت بانسہ براے امراض سینہ

نزلہ زکام کیرا کھانسی. دمہ میں بہت فاھدہ مند ہے۔

اجزاء نسخہ
برگ بانسہ آدھا کلو فلفل دراز ایک تولہ. چینی 5 کلو پانی 6 کلو کے اندر برگ بانسہ بھگو دیں 6 گھنٹے کے بعد جوشاندہ بناہیں پانی آدھا رہ جاے تو چینی شامل کرکے شربت بنا لیں نیم گرم رہ جاے تو فلفل دراز پیسی ہوی شامل کرکے مکس کریں۔ دن میں تین بار ایک ایک چمچ استمال کریں۔