کچھ ہی گھنٹوں میں صاف ہو جائے گا کہ دہلی میں حکومت کس کی ہوگی

0 21

اب سے دو گھنٹے بعد دہلی اسمبلی انتخابات کےنتائج آنے شروع ہو جائیں گے جس کے بعد یہ طے ہو جائے گا کہ سہلی میں کس کی حکومت ہو گی۔دہلی اسمبلی انتخابات کے لئے8 فروری کو دہلی کے رائےدہندگان نےووٹنگ کی تھی اور ووٹنگ فیصد سال 2015 کے مقابلہ میں چار فیصد کم رہا۔ 70 اسمبلی سیٹوں کے لئے ہوئے انتخابات میں ریاست میں بر سر اقتدار عام آدمی پارٹی ، مرکز میں بر سر اقتدار بی جے پی اور دہلی میں پندرہ سال اقتدار میں رہی کانگریس کے بیچ مقابلہ تھا ۔ ووٹنگ کے بعد کئی چینلوں کے ذریعہ کرائے گئے ایگزٹ پول میں جو رجحانات سامنے آئےہیں اس کے مطابق عام آدمی پارٹی دہلی میں دوبارہ اقتدار میں آتی نظر آ رہی ہے ۔

انتخابی تشہیر کے دوران جہاں عآپ نے مفت بجلی ، مفت پانی اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں کئے گئے کاموں کو لے کر عوام کے بیچ گئی ، کانگریس نے مرحوم شیلادکشت کے کاموں کو یاد دلا کر ووٹ مانگے وہیں بی جے پی نے اپنی انتخابی تشہیرکو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی پوری کوشش کی ۔ بی جے پی کے رہنماؤں نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف شاہین باغ میں چل رہے خواتین کے مظاہرہ کو اپنی انتخابی تشہیر کا مرکزی موضوع بنایا ۔ ایگزٹ پول کے رجحانات کے مطابق دہلی کے عوام نے بی جے پی کے فرقہ وارانہ ایجنڈہ کو مسترد کر دیا ہے ۔

واضح رہے بی جے پی ایگزٹ پول کے رجحانات کو مسترد کرتے ہوئے دعوی کر رہی ہے کہ اس کو 70 سیٹوں میں سے 40سے زیادہ سیٹیں مل جائیں گی اور وہ آسانی سے حکومت بنا لے گی ۔ بی جے پی کے اپنی جیت کےدعوے کی وجہ سے سیاسی گلیاروں میں بے چینی پیدا ہو گئی ہے اس لئے سب کی نگاہیں اب نتائج پر لگی ہوئی ہیں ۔ واضح رہے اگر کچھ سیٹوں پر مقابلہ تین پارٹیوں میں ہو گیا اور کانگریس کو پندرہ فیصد یا اس سے زیادہ ووٹ مل گئے تو عآ پ اور بی جے پی کے درمیان مقابلہ سخت ہو جائے گا۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو