کچھ لوگ صرف چار گھنٹے سو کر بھی بہتر کام کیسے کر لیتے ہیں؟

1,108

ایک انسان کو صحت مند رہنے کے لیے روزانہ کتنی نیند چاہیے ہوتی ہے؟ مجھے یقین ہے کہ آپ کا جواب آٹھ گھنٹے ہو گا مگر جدید ترین سائنسی تحقیقات کے مطابق یہ بات پوری طرح درست نہیں ہے۔امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں نیورولوجی کے پروفیسر لوئس ٹاچیک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ایک غلط فہمی ہے۔ یہ کہنا ایسا ہی ہے جیسے ہر کسی کو 1.65 میٹر لمبا ہونا چاہیے اور اگر آپ اس سے چھوٹے ہیں تو مطلب کوئی مسئلہ ہے۔‘

ہم میں سے ہر کسی کو تر و تازہ محسوس کرنے اور دن بھر کے کام کرنے کے لیے ایک جتنی نیند کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور یہ رویے یا ذاتی انتخاب کی بات نہیں بلکہ اس کا تعلق جینیات سے ہے۔

کچھ لوگوں کی جینیاتی بناوٹ ایسی ہوتی ہے کہ وہ قدرتی طور پر کم سوتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ روز رات کو صرف چار سے چھ گھنٹے سو کر بھی وہ بالکل تازہ دم اٹھتے ہیں۔ڈاکٹر ٹاچیک کہتے ہیں کہ ’یہ وہ لوگ ہیں جنھیں ہم ‘ایلیٹ سلیپرز’ کہتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ یہ قابلِ فہم ہے۔ وہ لوگ بہت کم نیند کے ساتھ بھی اپنے کام کاج بھرپور طریقے سے کرتے ہیں۔ اور یہ درست بات ہے کہ ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہاں یہ بات ایک فائدہ ہے۔‘

گذشتہ 25 برسوں سے ڈاکٹر ٹاچیک اور ان کی ٹیم نے 100 سے زائد خاندانوں کے سونے کے رجحانات کا مطالعہ کیا ہے۔

‘شروعات میں ہمارے کام کی پوری توجہ اس بات پر تھی کہ کسی کو ’گہری نیند سونے والا‘ کہنے کے لیے معیار کیا ہونا چاہیے۔‘

جو لوگ رات کو جلدی سو جاتے ہیں اور جلدی اٹھ جاتے ہیں اُنھیں سحر خیز کہا جاتا ہے۔ ’یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے ہمیں متوجہ کیا۔ یہ لوگ انتہائی سحر خیز تھے مگر یہ لوگ ہمارے معیار کے مطابق بہت دیر سے سوتے تھے۔‘

چنانچہ ڈاکٹر ٹاچیک کو معلوم ہوا کہ ایسے خاندان بھی ہیں جو رات دیر سے سوتے ہیں مگر صبح بھی جلدی اٹھ جاتے ہیں۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں شعبہ نیورولوجی کی ٹیم نے پایا کہ وہ لوگ جو کچھ ہی گھنٹے سوتے ہیں، دراصل ایک مختلف کنڈیشن کے حامل ہوتے ہیں۔

یہ وہ سونے والے ہوتے ہیں جن کی ‘قدرتی طور پر مختصر نیند’ ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ دیر سے سو کر بھی جلدی اٹھ جاتے ہیں۔

اب تک قدرتی طور پر مختصر نیند کا تعلق چار جینز سے پایا گیا ہے مگر اور بھی ہو سکتے ہیں۔

چیلنج یہ ہے کہ یہ جینز بہت نایاب ہیں۔ ڈاکٹر ٹاچیک کا اندازہ ہے کہ ایک ہزار میں سے ایک شخص ایسے ‘ایلیٹ سلیپرز’ میں سے ہوتا ہے۔

مگر اچھی خبر یہ ہے کہ یہ لوگ ہم سب کے لیے مؤثر نیند کے راز افشا کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر ٹاچیک کی ٹیم کے مطالعوں سے معلوم ہوا ہے کہ ایسے لوگوں میں خود کو ماحول کے حساب سے ڈھالنے کی صلاحیت دوسرے لوگوں کی بہ نسبت زیادہ ہوتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارا قوی خیال ہے کہ ایسے افراد اوسط لوگوں کے مقابلے میں زیادہ صحت مند ہوتے ہیں۔‘

‘یہ لوگ کم سوتے ہیں اور پھر بھی متحرک رہتے ہیں چنانچہ شاید یہ زیادہ مؤثر انداز میں سو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔‘

ہو سکتا ہے کہ ہم اس سوال کے جواب کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

ایک نئے مطالعے میں ‘قدرتی طور پر مختصر نیند’ والے جینز کو الزائمرز کے حامل چوہوں میں متعارف کروایا گیا اور پایا گیا کہ یہ اس بیماری کے خلاف زیادہ مزاحم ہو گئے۔

‘یہ بہت دلچسپ بات ہے کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس حیاتیاتی معلومات کو علاج کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں، نہ صرف ذہنی صلاحیتوں کو متاثر کرنے والے امراض کے لیے بلکہ نفسیاتی امراض، ذیابیطس، موٹاپے اور کئی اقسام کے کینسرز کے علاج کے لیے بھی۔‘

ڈاکٹر ٹاچیک کے نزدیک نیند کا مطالعہ ایک بہت بڑے پزل کی طرح ہے اور ہمیں اب بھی مکمل معلومات حاصل نہیں ہیں۔

’ہم اب بھی دریافت کے مرحلے میں ہیں اور پزل کے جتنے ممکن ہو سکیں اتنے حصے ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس یہ خاندان ہیں اورہر خاندان میں ہم ایک جین اور جینیاتی تبدیلی کی شناخت کر سکتے ہیں اور یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ان خصوصیات کے پیچھے یہ جینز ہیں۔‘

ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنی زندگیوں کا ایک تہائی حصہ سوتے ہوئے گزارتے ہیں اور اب بھی ہمیں اس حوالے سے بہت کچھ سمجھنا باقی ہے۔

ڈاکٹر ٹاچیک کہتے ہیں کہ ’جب ہم سوتے ہیں تو کچھ ایسا ہوتا ہے جو ہماری صلاحیتوں کو بحال کرتا ہے تاکہ ہم اگلے دن اٹھیں اور کام پر لگ جائیں۔ اگر ہم یہ جان پائیں کہ مؤثر نیند کیسے حاصل کی جا سکتی ہے اور اس پر عمل کر سکیں، تو اس کا انسانی صحت پر مجموعی طور پر بہترین اثر ہو سکتا ہے۔‘