کچھ حادثے بھلائے نہیں جاتے

2,261

19اگست بروزبفتہ کی رات شاہ ہراہ عام اردھاپور پر ایک دلخراش ودلدوزواقعہ پیش آیا جس نے پورے شہر ناندیڑ کو غم میں ڈبودیا وہی محلہ کھڑکپورہ کی ہر آنکھ کو نم ہونے پر مجبور کردیا ۔واقعہ یوں ہواکہ چار دوست شام کھانے کیلے انڈین دھابہ پر جارہے تھے مگر ان میں سے دوافراد شہباز خان اور یونس خان کوکیامعلوم تھاکہ انکایہ سفر انکو کھانے کی طرف کانہیں بلکہ خدا کو ملانے والاسفر ہے ۔

عینی شاہدین کے بقول یہ افراد اپنی دنیامیں مگن اپنی منزل کی طرف بڑھ رہے تھے کہ اچانک ایک ہنگولی کی فورویلر گاڑی نے انہیں پیچھے سے اس شدت سے ٹکرماری کہ یہ دونوں اپنی گاڑی سے اچھل کر آگے سامنے سے گزر رہے راجستھان کے ٹرک کے پچھلے حصہ پر گرے جسکی وجہ سے انکے سر سے بھیجے نکل پڑے اور وہ اسی وقت داعی اجل کو لبیک کہہ بیٹھے۔


میں سمجھتاہوکہ یہ کل رات کاسب سے بڑا حادثہ ہوگا جواتناخطرناک وبھیانک تھا۔اگر بات کی جائے ان مرحومین کی زندگی پر تو صرف یہی کہاجاسکتاہیکہ ابھی انہوں نے صحیح معنی میں دنیاہی نہیں دیکھی تھی *مرحوم یونس ازدواجی زندگی کے پہلے مرحلہ میں پہونچ چکے تھے یعنی انکارسم ہوچکاتھاجبکہ مرحوم شہباز،صاحبِ اولاد تھے بلکل معصوم بچوں کے والد تھے۔

آج بچے اپنے باپ سے اور باپ اپنے بچوں سے جداہوچکاہے نہ جانے اب ان بچوں کی والدہ انہیں کیسے سمجھائیگی اب تمہارے والد آنے والے نہیں ہے کیسے احساس دلائیگی کہ وہ سفر آخرت کے مسافر بن چکے ہیں کل رات جب بچوں نے اپنی والدہ نانا نانی دادا دادی کوجنازہ کے سامنے زاروقطار روتا دیکھا ہوگا کہ توشاید وہ یہ بات سمجھ نہیں پائے ہونگے انکے والد اب دوبارہ اٹھنے والے نہیں ہے .

غم کی اس گھڑی میں ہم مرحومین کے افراد خانہ کے ساتھ شریک ہوتے ہوئے تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہوے دعاگوہیکہ میرے مالک مرحومین کے تمام ہی پسماندگان کوصبر جمیل نصیب فرما..انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطافرما..آمین
شریک غم:مفتی سلیمان رحمانی کھڑکپورہ، ناندیڑ