انہوں نے کہاکہ وہ صبح 3بجے تلنگانہ گئے مگر وہاں پر بھی بیڈ نہیں ملا تو واپس مہارشٹرالوٹ ائے۔
ممبئی۔ چونکہ مہارشٹرا میں کویڈ19کے معاملات میں بے تحاشہ اضافہ ہونے کی وجہہ سے اسپتالوں میں مریضوں کو بیڈس حاصل کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

اسی طرح کے ایک معاملے میں ایک شخص نہار شاتواری شخص کو اپنے بیمار والد کے لئے چندرا پور اور وارورا کے متعد د اسپتالوں کے چکر کاٹنے کے بعد بھی بیڈ حاصل کرنے میں ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا ہے۔

این ڈی ٹی وی میں شائع ایک رپورٹ کے بموجب اچانک مریضوں کی آمد کے سبب اس علاقے کے کئی اسپتالوں میں خالی بیڈس موجود نہیں ہیں جس کے وجہہ سے کویڈ مریضوں کو زندگی اورموت کے درمیان جنگ لڑنے کے لئے ایمبولنس میں رہنے کے لئے کوئی دوسرا موقع نہیں ہے۔

نہارشاتواری نے ایک میڈیا نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ”انہیں اسپتال میں ایک بیڈ فراہم کریں یا پھر انجکشن دے کر انہیں مارہی ڈالیں“۔

اپنے تجربے کے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ”میں نے کل صبح3بجے شروعات کی۔ میں وارورا اسپتال اور چندرا پور کے یک اور اسپتال گیا۔

بعد میں میں خانگی اسپتالو ں کو بھی گیا“

انہوں نے کہاکہ وہ صبح 3بجے تلنگانہ گئے مگر وہاں پر بھی بیڈ نہیں ملا تو واپس مہارشٹرالوٹ ائے۔

مہارشٹرا کے ایک مقامی اسپتال کے باہر کھڑی ایمبولنس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہو ں نے کہاکہ ”یا تو انہیں بیڈ فراہم کریں یا پھر انہیں مردیں کیونکہ میں ان کو گھر واپس نہیں لے کر جاؤں گا“۔

درایں اثناء ہندوستان میں پچھلے 24گھنٹوں میں کویڈ19کے 2,00739نئے معاملات درج کئے گئے ہیں‘ ایک دن میں جو اب تک کا سب سے زیادہ معاملات ہیں‘ وزارت صحت کی تفصیلات کے بموجب جمعرات کے روز اس کی وجہہ سے ملک کے جملہ معاملات کی تعداد 1,40,74,564تک پہنچ گئی ہے۔

مہارشٹرا ملک کی سب سے متاثرہ ریاست ہوگئی ہے جہاں پر اسی وقت 58952معاملات درج کئے گئے ہیں۔


اپنی رائے یہاں لکھیں