حیدرآباد۔ مارچ کی ابتداء میں مرکزی وزیرصحت ہرش وردھن نے پرامید انداز میں اعلان کیاتھا کہ عالمی وباء کویڈ19ہندوستان میں ختم پر ہے۔ ملک میں یومیہ اساس پر11,000معاملات درج کئے جارہے ہیں‘ ٹیکہ اندازی کی مہم کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی جارہی تھی۔

ایک ماہ کا وقفہ بھی نہیں گذرا ہندوستان پیر(19اپریل) کے روز 24 گھنٹوں میں کویڈ 19کے 2,73,810نئے معاملات اور1619اموات درج کئے گئے ہیں۔ پچھلے سال مارچ میں وباء کے منظر عام پر آنے کے بعد ایک دن میں اب تک یہ سب سے زیادہ معاملات ہیں جو وباء کی شیطانی لہر کے سبب پیش آرہے ہیں۔

شمشان گھاٹ او رقبرستانوں میں کویڈ سے مرنے والوں کی نعشوں کے انبارلگے ہوئے ہیں جبکہ کویڈ مریض جس کی حالت تشویش ناک ہے اسپتال میں بیڈس کے حصول کے لئے جدوجہد معمول بن گیاہے۔

سوشیل میڈیا پر بیڈس‘ میڈیسن اور خون کی ضرورت پر درکار درخواستوں کی بھرمار ہے۔ درایں اثناء ٹیکہ کی قلت بھی سامنے آرہی ہے کئی ریاستوں میں ٹیکہ کی قلت پر مشتمل خبریں گشت کررہی ہے۔ ہزاروں لوگ جو ٹیکہ کی پہلی خوراک حاصل کرچکے ہیں انہیں اسپتال میں دوسری خوراک کی عدم سربراہی کی وجہہ سے واپس لوٹنے پر مجبور ہیں۔

وہیں وزیراعظم نریندرمودی ان کا پارٹی کیڈر اور منسٹرس مغربی بنگال کے انتخابات کی مہم میں مصروف ہیں

مذکورہ کنبھ میلا کو منظوری دی گئی ہے جہاں پر 5000لوگوں کوکویڈ کی جانچ میں مثبت پایاگیا ہے اور سینکڑوں لوگ اپنی اپنی ریاستوں کو واپس ہونے کے بعد رابطے میں آنے والوں کی جانچ میں مثبت پائے گئے ہیں۔

کافی انتشار کے بعد ہفتوں تک جاری رہنے والے مذہبی تہوار کو ”اب صرف علامتی رکھنے“ پر زوردیاجارہا ہے۔ مگر شو تو جاری رہے گا کہامہنت نارائن گری ترجمان جونا اکھاڑا نے

اس منافقت سے ناراض سوشیل میڈیا نے مودی استعفیٰ دیو ہیش ٹیگ پر مشتمل213کے ٹوئٹس اب تک پھیلا دئے ہیں اور اس بات کو اجاگر کیاہے کہ اس وائرس سے لوگ کس طرح مقابلہ کررہے ہیں وہیں وہ مسلسل عوامی ریالیوں میں مصروف ہیں

یہاں پر کچھ ردعمل پیش کئے جارہے ہیں


اپنی رائے یہاں لکھیں