کانگریس لیڈر راہو ل گاندھی نے ٹوئٹر پر مرکزی حکومت کی مبینہ ناانصافی کے لئے بات کی اور نئے ٹیکہ پالیسی کا موزانہ نوٹ بندی سے کیاہے
نئی دہلی۔ کانگریس کویڈٹیکہ کے مختلف قیمتوں پر مرکز کو اپنا تنقید کانشانہ بنایا او رکہاکہ یہ امتیازی سلوک پر مبنی ہے اور اس سے ”کچھ بڑی صنعت کاروں“کوہی فائدہ ہوگا وہیں عام لوگ اس سے متاثرہوں گے۔

کانگریس لیڈر راہو ل گاندھی نے ٹوئٹر پر مرکزی حکومت کی مبینہ ناانصافی کے لئے بات کی اور نئے ٹیکہ پالیسی کا موزانہ نوٹ بندی سے کیاہے۔ ایک ٹوئٹ میں ٹیکہ امتیاز ہیش ٹیگ کے ساتھ انہوں نے کہاکہ ”ملک میں آفات‘ مودی کے دوستوں کو موقع۔

مرکزی حکومت کی ناانصافی“اور سوریم انسٹیٹیوٹ کا ایک بیان شیئر کیا جس میں انہوں نے ریاستوں کے لئے ٹیکہ کی ایک خوراک کی قیمت400اور خانگی اسپتالوں کے لئے 600روپئے کا اعلان کیاہے۔مذکورہ مرکز نے پیر کے روز اعلان کیاہے کہ یکم مئی سے 18عمر سے زائد کے تمام لوگ ٹیکہ کے اہل ہوں گے۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس ترجمان اجئے ماکن نے کہاکہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ مرکز کو ٹیکہ150روپئے میں مل رہا ہے مگر اسی قیمت میں وہ ریاستوں کو دستیاب نہیں ہے۔

انہوں نے یکم مئی سے نوجوانوں او رغریبوں کو مرکز کی جانب سے ٹیکہ کی غیر منصوبہ بند فراہمی کے پیش نظر ملک بھر میں ایک ہنگامہ کا خوف ظاہر کیاہے۔انہوں نے مثال کے طور پر راجستھان کا حوالہ دیا او رکہااس کی4کروڑ میں سے نصف آبادی کو ٹیکہ دیا جاچکا ہے‘ اس کے لئے3200کروڑ روپئے کی لاگت ہوئی ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ ”کس طرح ریاستیں فینانس لائیں گے“۔

ٹیکہ 150میں مرکز کو حاصل ہونے اور 400روپئے میں ریاستوں کو دستیابی پر سینئر کانگریس لیڈر جئے رام رامیش نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے مانگ کی کہ مرکزی او رریاستی حکومتوں کے لئے ٹیکہ کی قیمت ایک ہی ہونا چاہئے۔چندمبرم نے بھی استفسار کیاکہ کتنی ریاستیں چاہیں گے کہ وہ ٹیکہ کے لئے پیسہ ادا کریں اور لوگوں کو رعایت میں فراہم کریں۔


اپنی رائے یہاں لکھیں