کوہلی جیسا کوئی نہیں: انڈین بیٹسمین کی زبردست اننگز کے پاکستانی مداح

184

آج کل انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وراٹ کوہلی زبردست فارم میں ہیں۔ ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ سے شروع ہونے والی ان کی شاندار فارم کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ سچن ٹنڈولکر ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں 49 سینچریوں بنا کر سب سے زیادہ سینچریاں بنانے کا ریکارڈ رکھتے ہیں جبکہ وراٹ کوہلی نے اب تک اپنے کیرئر میں 46 سینچریاں بنائیں ہیں۔

کرکٹ کو سمجھنے اور اسے پسند کرنے والے موجودہ اور سابق کھلاڑیوں نے دل کھول کر وراٹ کوہلی کی تعریف کی ہے اور اس کامیابی پر سرحد پار پاکستانی کھلاڑیوں نے بھی کوہلی کو بھرپور داد دی ہے۔ بلکہ کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ کرکٹ کے مداحوں نے بھی اُن کی اننگز کو سراہا ہے۔ اتوار سے انڈیا کے علاوہ پاکستان میں بھی کوہلی ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ کرکٹر احمد شہزاد نے ٹویٹ کی کہ کوہلی کی زبردست واپسی ہوئی ہے۔ کوہلی کی چھیالیسویں سینچری اور مجموعی طور پر چھترویں۔ پچھلے 4 میچوں میں 3 سینچریاں۔ اور لوگ کہتے تھے کہ وہ ختم ہو چکے ہیں۔

پاکستانی کرکٹرز کے علاوہ کرکٹ کے شائقین بھی اپنی کوہلی کی شاندار فارم کے بارے میں اپنی رائے دے رہے ہیں۔ فرید خان نے لکھا کہ سال 2023 کوہلی کا سال ہوگا۔

طاہر خان نے وراٹ کی انڈین بیٹسمین شبمن گل کے ساتھ کھیلی گئی حالیہ اننگز کا پاکستانی مڈل آرڈر کے ساتھ موازنہ کیا اور اننگز کا سکور کارڈ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان اور انڈیا کے مڈل آرڈر میں بہت بڑا فرق ہے۔

برا وقت کوہلی کے کیریئر میں کچھ عرصے پہلے ایک ایسا دور آیا تھا جب اُن کی فارم بہت خراب تھی۔ اُس وقت پاکستان کے کپتان اور سٹار بیٹسمین بابر اعظم نے وراٹ کوہلی کاحوصلہ بڑھانے کے لیے انھیں ٹوئٹر پر ایک پیغام دیا تھا۔ انھوں نے لکھا تھا کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ پرہمت رہیں۔ وراٹ کوہلی نے بابر اعظم کی جانب سے نیک تمناؤں کا شکریہ اد کرتے ہوئے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا شکریہ۔ آپ بلندیوں کو چھوئیں اور چمکتے دمکتے رہیں۔ آپ کے لیے نیک تمنائیں۔

راولپنڈی ایکسپریں کے نام سے مشہور پاکستانی سٹار بولر شیعب اختر نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’وراٹ کوہلی دنیا کے سب سے عظیم کھلاڑی ہیں۔ پچھلے 10 سال میں اگر کوئی عظیم کھلاڑی پیدا ہوا ہے تو وہ کوہلی ہے۔ ایک آدھا سال ان کا برا گزرا ہے۔‘ سنہ 2021 میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ لپ میں پاکستان نے ٹورنامنٹ کی تاریخ میں پہلی بار انڈین کرکٹ ٹیم کو ہرایا تھا۔ لیکن میچ کے بعد کوہلی کی جاب سے پاکستانی ٹیم کو مبارکباد دینے اور پچ پر اُن کے رویے کو پاکستانی فینز نے سراہا تھا۔

انڈیا کے ہارنے کے بعد وراٹ کوہلی پاکستان کے کھلاڑیوں سے مسکراکر ہاتھ ملاتے اور انہیں گلے لگاتے نظر آئے۔ پاکستانی کرکٹر محمد رضوان کا اُن سے گلے ملنا اور کوہلی کا گرمجوشی سے مبارک دینا، پاکستانی شائقین کو جذباتی کر گیا تھا۔ اس وقت پاکستان میں کرکٹ کے چاہنے والوں نے یہاں تک کہا تھا کہ واقعی کوہلی بہت اچھے ہیں جو جانتے ہیں کہ یہ کھیل ہے جنگ نہیں۔

کچھ سال پہلے پاکستان میں کوہلی کے ایک فین نے اپنے جذبے کا اظہار کرنے کے لیے اپنے گھر پر انڈیا کا جھنڈا لگایا تھا اور اس کا سوشل میڈیا پر کافی چرچا ہوا تھا۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے رہنے والے اس شخص نے کہا کہ انھوں نے کوہلی کے لیے اپنا پیار جتانے کے لیے انڈیا کا جھنڈا لگایا تھا۔