کوویڈ19کے پیش نظر ہجوم میں ماسک استعمال کریں۔چین کے حالات کے مدنظر مرکزی کمیٹی کا اجلاس

674

نئی دہلی:21/ڈسمبر۔ چین میں کورونا (کووڈ) کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر ہندوستان بھی محتاط ہوگیا ہے۔ مرکزی حکومت کورونا کے معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ مرکزی وزیر صحت منسکھ منڈاویہ نے بھی آج اعلیٰ حکام اور ماہرین کے ساتھ وبائی صورتحال پر ایک جائزہ میٹنگ کی۔

کووڈ-19 پر مرکزی وزیر صحت منسکھ منڈاویہ کی میٹنگ میں کورونا پر ہر ہفتے وزارت صحت کی جائزہ میٹنگ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت نے لوگوں کو بھیڑ والی جگہوں پر ماسک پہننے کا مشورہ دیا ہے۔ میٹنگ میں نیتی آیوگ ممبر ڈاکٹر وی کے پال نے کہا کہ ابھی گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ہر کسی کو بھیڑ میں ماسک پہننے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ ہر ہفتے وزارت صحت میں جائزہ اجلاس ہوگا۔

کافی مقدار میں جانچ کی جا رہی ہے۔ اس درمیان وزارت صحت فیصلہ کرے گی کہ مزید کیا اقدامات اٹھانے ہیں۔ فی الحال کوئی نئی گائیڈ لائن جاری نہیں کی جا رہی ہے۔ مرکزی حکومت نے پہلے ہی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر INSACOG جینوم سیکوینسنگ لیب کو تمام کوویڈ مثبت کیسوں کے نمونے بھیجیں۔ انڈیا میں INSACOGیہ وزارت صحت کے تحت کووڈ کی مختلف اقسام کا مطالعہ اور نگرانی کرنے کا ایک پلیٹ فارم ہے۔

صحت کے سکریٹری راجیش بھوشن کی طرف سے تمام ریاستوں کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’’جاپان، امریکہ، جمہوریہ کوریا، برازیل اور چین میں کورونا کیسز میں اچانک اضافہ کے پیش نظر، کووڈ پازیٹیو کے نئے ویرینٹ کا پتہ لگانا ضروری ہے۔ مرکزی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 131 نئے کووڈ پازیٹیو معاملے سامنے آئے ہیں۔تاہم، یہ پیر کے 181 سے نیچے ہے۔

فی الحال ایکٹو کیسز کی تعداد 3,408 ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا سے تین اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ دو کیرالہ سے اور ایک مغربی بنگال سے۔ وزارت کی ویب سائٹ کے مطابق ملک گیر مہم کے تحت اب تک کووڈ ویکسین کی تقریباً 220 کروڑ خوراکیں دی جا چکی ہیں۔ چین مبینہ طور پر اپنی صفر کوویڈ پالیسی میں تبدیلی کے بعد سے کوویڈ سے متعلقہ اموات میں اضافے پر قابو پانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

زیرو کوویڈ پالیسی میں سخت لاک ڈاؤن اور بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کا نفاذکیا تھا۔ چین میں ایک اپارٹمنٹ میں مبینہ طور پر آگ لگنے سے 10 افراد کے ہلاک ہونے کے بعد زیرو کوویڈ پالیسی کو بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگوں نے الزام لگایا کہ اس سخت پالیسی کی وجہ سے فائر انجن آگ کے شعلوں پر مؤثر طریقے سے قابو نہیں پا سکے۔ رپورٹس کے مطابق چین میں کورونا کیسز میں اضافے کے بعد ہسپتالوں پر بوجھ بڑھ گیا ہے اور دواخانوں میں ادویات ختم ہو گئی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو آخری رسومات کے لیے شمشان بھی نہیں مل پا رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق،چینی حکام کا کہنا ہے کہ وائرس کی پیش رفت کا پتہ لگانا ناممکن ہے۔ بیجنگ میں مقامی حکام نے پیر کو دو کے مقابلے منگل کو صرف پانچ کوویڈ اموات کی اطلاع دی۔