کورونا وائرس کی وبا کے دوران حالیہ مہینوں میں یہ واضح ہوچکا ہے کہ کووڈ 19 یہاں تک کہ معمولی بیمار ہونے والے کچھ افراد کو صحتیابی کے بعد کئی ماہ تک مختلف طبی مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

ایسے افراد کے لیے لانگ کووڈ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے اور اس حوالے سے اب تک کی سب سے بڑی اور جامع تحقیق کے نتائج سامنے آئے ہیں۔
واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی اس تحقیق میں ثابت کیا گیا کہ کووڈ 19 کو شکست دینے والے بشمول ایسے مریض جن میں بیماری کی شدت معمولی تھی، میں وائرس کی تشخیص کے 6 ماہ بعد موت کا خطرہ ہوتا ہے۔اس تحقیق میں کووڈ 19 کے 87 ہزار سے زائد مریضوں اور لگ بھگ 50 لاکھ دیگر مریضوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تھا۔

طبی جریدے جرنل نیچر میں 22 اپریل کو شائع ہونے والی تحقیق میں شامل محققین کا کہنا تھا کہ تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ کووڈ کی تشخیص کے 6 ماہ بعد موت کا خطرہ موجود ہے، چاہے مریض میں بیماری کی شدت معمولی ہی کیوں نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 کے صحت پر مرتب ہونے والے طویل المعیاد اثرات یا لانگ کووڈ آنے والے مہینوں یا برسوں میں امریکا میں صحت کے بڑے بحران کا باعث ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ 3 کروڑ سے زیادہ امریکی شہری اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں اور لانگ کووڈ کا بوجھ یقینی ہے، درحقیقت بیماری کے اثرات کئی برسوں بلکہ دہائیوں تک موجود رہ سکتے ہیں۔
تحقیق کے دوران یہ تخمینہ لگایا گیا کہ وائرس کی تشخیص اور لانگ کووڈ سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ یہ تحقیق لانگ کووڈ پر ہونے والی دیگر تحقیقی رپورٹس سے مختلف ہے کیونکہ اس میں اعصابی یا دیگر پیچیدگیوں پرپ توجہ مرکوز کرنے کی بجائے کووڈ 19 سے متعلق تمام بیماریوں کی جامع فہرست مرتب کرنے پر کام کیا گیا۔

تحقیق میں ثابت ہوا کہ کووڈ 19 کو شکست دینے کے بعد (بیماری کے اولین 30 دن کے بعد) مریضوں میں اگلے 6 ماہ میں موت کا خطرہ عام آبادی کے مقابلے میں لگ بھگ 60 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ صحتیابی کے 6 ماہ بعد کووڈ کو شکست دینے والے ہر ایک ہزار مریضوں میں سے اوسطاً 8 افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق کووڈ 19 کے ایسے مریض جن کو ہسپتال میں زیرعلاج رہنا پڑا، ان میں ہر ایک ہزار میں سے 29 اضافی اموات کا امکان ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ بیماری کی طویل المعیاد پیچیدگیوں سے ہونے والی اموات ضروری نہیں کہ کووڈ 19 سے ہونے والی ہلاکتوں میں ریکارڈ کی جائین، کیونکہ اس وقت بیماری کے کچھ دنوں بعد ہونے والی ہلاکتوں کو ہی اموات کا حصہ بنایا جارہا ہے۔

محققین نے امریکا کے نیشنل ہیلتھ کیئر ڈیٹابیس کے ڈیٹا کا تجیہ کیا جس میں 73 ہزار سےس زیادہ افراد میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی تھی مگر انہیں ہسپتال میں زیرعلاج نہیں رہنا پڑا تھا جبکہ اس کا موازنہ لگ بھگ 50 لاکھ افراد سے کیا گیا جن میں کووڈ کی تشخیص نہیں ہوئی تھی۔

بعد ازاں کووڈ 19 سے بہت زیادہ بیمار رہنے والے افراد پر طویل المعیاد اثرات کو جاننے کے لیے مزید 13 ہزار سے زیادہ مریضوں کے ڈیٹا کا موازنہ لگ بھگ اتنی ہی تعداد کے فلو سے بیمار ہوکر ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے افراد سے کیا گیا۔

یہ سب مریض ہسپتال میں داخلے کے کم از کم 30 دن بعد بیماری کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے تھے اور پھر ان کے 6 ماہ کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

محققین نے تصدیق کی کہ لانگ کووڈ کے نتیجے میں جسمانی اعضا کا لگ بھگ ہر نظام متاثر ہوتا ہے جن میں نظام تنفس کے مسائل بشمول مسلسل کھانسی، سانس لینے میں مشکلات اور خون میں آکسیجن، نروس سسٹم کے مسائل بشمول فالج، سردرد، یادداشت کے مسائل اور چکھنے یا سونگھنے کے مسائل، دماغی صحت کے مسائل بشمول ذہنی بے چینی، ڈپریشن، نیند کے مسائل ، میٹابولزم کے مسائل بشمول ذیابیطس کی تشخیص، موٹاپا اور ہائی کولیسٹرول، دل کے مسائل بشمول ہارٹ فیلیئر، دھڑکن میں بے ترتیبی اور دیگر، نظام ہاضمہ کے مسائل بشمول قبض، ہیضہ اور سینے میں جلن، گردوں کے مسائل، ٹانگوں اور پھیپھڑوں میں بلڈ کلاٹس، جلد پر خارش، بالوں سے محرومی، جوڑوں میں درد مسلز کی کمزوری، خسرہ، تھکاوٹ اور خون کی کمی قابل ذکر ہیں۔

ویسے تو کسی مریض کو بھی ان تمام مسائل کا ایک ساتھ سامنا نہیں ہوا مگر بیشتر میں متعدد مسائل ضرور دریافت ہوئے جس سے صحت اور زندگی کا معیار منفی انداز سے متاثر ہوا۔