انڈیا کی مغربی ریاست کیرالہ کی ایک عدالت کووڈ ویکسین سرٹیفکیٹ پر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر کے معاملے پر دائر ایک درخواست کی سماعت اگلے ہفتے سے کرے گی۔یہ درخواست پیٹرایم نامی ایک شہری نے دائر کر رکھی ہیں جو اپنے سرٹیفیکٹ پر وزیر اعظم نریندر مودی کی تصویر نہیں چاہتے۔پیٹرایم چاہتے ہیں کہ انھیں نریندر مودی کی تصویر کے بغیر والا ایک نیا ویکسین سرٹیفکیٹ دیا جائے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔‘

62 برس کے پیٹرایم انڈیا کی حزب اختلاف کی جماعت کانگرس کے رکن ہیں۔
پیٹر ایم نے اپنے آبائی ضلع کوٹیام سے بی بی سی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سرٹیفکیٹ پر اپنی تصویر لگا کر وہ شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت کر رہے ہیں اور میں محترم وزیر اعظم سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ یہ شرمناک اور غلط کام فوری بند کر دیں۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ ایک نامناسب جمہوری قدم ہے اور عوام یا کسی انفرادی شخص کا اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔‘انڈیا میں وزارت صحت کی جانب سے جاری کیے جانے والے کووڈ ویکسین کے سرٹیفکیٹ میں شہریوں کی ذاتی معلومات کے علاوہ وزیر اعظم مودی کی تصویر اور انگریزی اور مقامی زبانوں میں دو پیغامات شامل ہیں۔

اگست میں نائب وزیر صحت بھارتی پروین پوار نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ کووڈ ویکسین پرانڈیا کے وزیر اعظم کی تصویر اور ان کی جانب سے پیغامات ’مفاد عامہ‘ کے لیے شامل کیے گئے ہیں تاکہ لوگوں کو ویکسین لگوانے کے بعد کووڈ کی حفاظتی ہدایات پر عمل درآمد کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔لیکن پیٹر ایم کی دلیل تھی کہ ’جو لوگ ویکسین لے چکے ہیں وہ پہلے ہی اس کی افادیت کے قائل ہیں۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مودی ہمارے پہلے وزیر اعظم نہیں ہیں اور یہ انڈیا کا پہلا ویکسینیشن پروگرام نہیں لیکن کووڈ 19 کے خلاف مہم اور ویکسین پروگرام کو ون مین شو کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو کہ وزیر اعظم کے لیے پروپیگنڈا کا ذریعہ ہے۔‘
پیٹر ایم اس لیے بھی ناراض ہیں کیونکہ انھیں ایک پرائیویٹ ہسپتال میں جا کر یہ ویکسین لینا پڑی اور اس کے لیے انھوں نے قیمت ادا کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سرکاری ہسپتالوں میں مفت ویکسین کے لیے لمبی قطاریں تھیں۔‘
وہ پوچھتے ہیں کہ ’میں نے ہر ویکسین کے لیے 750 روپے ادا کیے تو پھر مودی کی تصویر میرے سرٹیفکیٹ پر کیوں ہونی چاہیے۔‘
کیرالہ ہائی کورٹ نے وفاقی اور ریاستی حکومتوں کو جواب دینے کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔ ہم نے نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے دو ترجمانوں سے رابطہ کیا لیکن انھوں نے پیٹرایم کی درخواست پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔
ویکسین سرٹیفیکیٹ پر وزیر اعظم کی تصویر کو ان کے سیاسی حریفوں نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حزبِ اختلاف کی حکمرانی والی کچھ ریاستوں نے ان کی تصویر کو ان کے اپنے وزرائے اعلیٰ کی تصاویر سے بدل دیا ہے۔
کانگریس پارٹی کی سینیئر لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا نے مودی پر ’ذاتی تشہیر‘ کے لیے ویکسین استعمال کرنے کا الزام لگایا۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے ایک پریس کانفرنس میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مان لیں میں آپ کی حامی نہیں ہوں اور آپ کو پسند نہیں کرتی لیکن مجھے یہ سرٹیفیکیٹ اپنے ساتھ رکھنا لازم ہے۔ کیوں؟ میری ذاتی آزادی کہاں گئی۔‘
انھوں نے مزید کہا ’آپ نے اپنی تصویر کووڈ سرٹیفکیٹ پر لازمی قرار دی ہے۔ اب اسے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر بھی لگا دیں۔‘
یہ تصویر بیرون ملک سفر کرنے والے انڈین شہریوں کے لیے بھی پریشانی کا باعث بنی ہے۔
وائس نیوز نے حال میں خبر دی تھی کہ امیگریشن افسران، جو مودی کے چہرے سے واقف نہیں تھے انھوں نے کچھ مسافروں پر دھوکہ دہی کا الزام لگایا تھا۔
پیٹرایم کو خدشہ ہے کہ اگر یہ روکا نہ گیا تو ’اگلی بار مودی ہمارے بچوں کے سکول اور کالج کے سرٹیفکیٹ پر اپنی تصویر لگانا شروع کردیں گے۔‘
ان کی تشویش کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مودی کی تصویر بعض اوقات ایسی جگہوں پر آ جاتی ہے جہاں اس کا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔حال ہی میں سپریم کورٹ کے اعتراضات کے بعد سرکاری عدالتی ای میلز سے وزیر اعظم کی تصویر والا ایک سرکاری اشتہار ہٹایا گیا تھا۔وزیراعظم نریندر مودی کے تصویر کھینچنے اور سیلفیاں لینے کے شوق سے سب واقف ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کے بے شمار فالوورز ہیں ہے اور ان کی ریلیوں میں ہمیشہ ملک بھر میں دسیوں ہزار لوگ شریک ہوتے ہیں۔
مودی کا داڑھی والا چہرہ بل بورڈز اور گلیوں کے ہورڈنگز پر نظر آتا ہے، وہ اخباروں کے پورے صفحات کے اشتہارات میں مسکراتے دکھائی دیتے ہیں اور زیادہ تر سرکاری وزارتوں کی ویب سائٹس پر انکے چہرے کے ساتھ اشتہارات ہوتے ہیں۔
ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ویکسین سرٹیفکیٹ پر وزیراعظم کی تصویر آویزاں کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ ملک کے سب سے زیادہ پہچانے جانے والے چہروں میں سے ایک ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انڈیا میں کبھی بھی ایسے رہنماؤں کی کمی نہیں رہی جو خود ستائش میں یقین رکھتے ہیں۔ ماضی میں بی جے پی نے گاندھی نہرو خاندان کی قیادت والی کانگریس پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس نے سینکڑوں ہوائی اڈوں، یونیورسٹیوں، ایوارڈز اور فلاحی سکیموں کو ان کے خاندان کے افراد کے نام پر رکھا۔
دلت آئیکن اور اترپردیش کی سابق وزیراعلی مایا وتی ریاست میں اپنے بڑے بڑے مجسمے نصب کروانے کے لیے مشہور ہیں۔ تامل ناڈو کی سابق وزیر اعلیٰ جے للیتا نے سستے کھانے کی کینٹینز، دوا خانوں اور نمک کے پیکٹس پر اپنی تصویر لگوائی تھی۔
نریندر مودی کی سوانح عمری لکھنے والے صحافی نلنجن مکھوپادھیائے کا کہنا ہے ’لیکن مودی اس خود پسندی کو کسی اور سطح پر لے جاتے ہیں۔ ان کا تعلق آر ایس ایس سے ہے جو اس بات کی تبلیغ کرتی ہے کہ تنظیم کسی بھی شخصیت سے بڑی ہوتی ہے لیکن مودی کے راج میں ایک شخصیت تنطیم سے بڑی بن گئی ہے۔‘
’اگر اپ انھیں بولتے ہوئے سنیں تو وہ کبھی یہ نہیں کہتے ہماری حکومت وہ ہمیشہ میری حکومت یا مودی حکومت کہتے ہیں۔‘
مسٹر مکھوپادھیائے کا کہنا ہے کہ ‘نریندر مودی نے کووڈ کو اپنی شخصیت کی تشہیر کے ایک بہترین موقع کے طور پر استعمال کیا ہے’۔
مکھوپادھیائے نے کہا کووڈ 19 کے خلاف ویکسین ایک واحد تحفظ کے طور پر دستیاب ہے اور سرٹیفکیٹ پر اپنی تصویر لگا کر وہ خود کو لوگوں کے نجات دہندہ کے طور پر دکھانا چاہتے ہیں۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔