نئی دہلی،2 مئی (یواین آئی)سپریم کورٹ نے پیر کو کہا کہ کووڈ 19 ٹیکہ کاری کےلئے کسی بھی شخص کو مجبور نہیں کیا جا سکتا جسٹس ایل ناگیشور راو اور جسٹس بی آر گوئی کی بینچ نے قومی ٹیکہ کاری تکنیکی مشیر گروپ کے سابق کن جیکب پولین کی عرضی اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف ٹیکہ نہیں لگایا جا سکتا لیکن عوامی صحت کے مفاد کے پیش نظر حکومت جزوی پابندی لگا سکتی ہے ڈاکٹر پولین نے حکومت کے کووڈ-19 ویکسینیشن کے حکم کو چیلنج کیاتھا۔
عدالت عظمیٰ نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت کی موجودہ ویکسی نیشن پالیسی کو من مانی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

کووڈ-19 کے پیش نظر عدالت میں پیش کیے گئے دستاویزات، ماہرین کی رائے وغیرہ کی بنیاد پر صحت عامہ کے پیش نظر حکومت کی موجودہ ویکسینیشن پالیسی کو آئین کے خلاف نہیں کہا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ مختلف اداروں، نجی تنظیموں اور ریاستی حکومتوں کی طرف سے عائد پابندیوں کو واپس لیا جانا چاہئے، کیونکہ وہ پالیسی کے مطابق نہیں ہیں۔سپریم کورٹ نے کہا کہ بچوں کو ٹیکے لگانے کا مرکزی حکومت کا فیصلہ بین الاقوامی معیارات کے مطابق ہے۔