کووڈ ویکسین کے اثرات کے بارے میں بہت سی باتیں کی جا رہی ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ انھیں بخار ہوا تو کوئی کہتا ہے کہ انھیں کچھ بھی محسوس نہیں ہوا جبکہ بہت سے لوگوں کو کچھ دوسرے قسم کا احساس ہوتا ہے جبکہ کچھ لوگ معمول سے زیادہ کچھ مختلف محسوس نہیں کرتے ہیں۔لیکن انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر کے ضلعے ناسک سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ویکسین لینے کے بعد ان میں ہونے والے چونکا دینے والے تغیرات کا دعویٰ کیا ہے۔


ناسک کے اروند سونار کا کہنا ہے کہ ویکسین کی دو خوراکوں کے بعد ان کا جسم مقناطیس کی طرح کام کر رہا ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن کی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکتا۔اپنے دعوے کی حقیقت کو ظاہر کرنے کے لیے اروند سونار نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو ڈالی ہے جس میں سکے اور لوہے کی چیزیں ان کے جسم سے چپکی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔انھوں نے بتایا: ‘میں اپنے بیٹے کے ساتھ یونہی طرح طرح کی باتیں کر رہا تھا کہ اس نے مجھے ایک خبر کے بارے میں بتایا کہ ویکسین لینے کے بعد لوہےکی اشیاء لوگوں سے چپکنے لگتی ہیں۔ میں نے بھی جانچنے کے لیے تجربہ کیا تو مجھے پتا چلا کہ ایسا ہو رہا ہے۔’سونار کے مطابق انھوں نے چار پانچ دن قبل ایک نجی ہسپتال میں کووڈ ویکسین کی دوسری خوراک لی تھی اور انھیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں رہا۔

ماہرین کا کیا کہنا ہے؟
اروند سونار نے کوویشیلڈ ویکسین کی پہلی خوراک 9 مارچ کو اور دوسری خوراک 2 جون کو لی۔دس سال قبل ان کی بائی پاس سرجری ہوئی تھی۔ وہ دو سال سے ذیابیطس کے بھی مریض ہیں۔جب لوہے اور فولاد کی چیزیں اروند سونار کے جسم سے چپکنے لگیں تو انھوں نے اپنے ڈاکٹر کو اس کے بارے میں بتایا۔سونار کا دعوی کتنا سچا ہوسکتا ہے یہ سمجھنے کے لیے بی بی سی مراٹھی نے آندھرشردھا نرمولن سمیتی کے ڈاکٹر حامد دابھولکر سے بات کی۔


ڈاکٹر دابھولکر نے کہا: ‘جسم سے سکوں اور برتنوں کا چپکنا طبیعیات کے قانون کے مطابق ممکن ہے۔ اگر جلد میں نمی ہو اور چپکنے والی جگہ پر کوئی خلا ہو تو یہ ممکن ہے۔ لیکن اسے ویکسینیشن سے منسلک کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ ہمارے ساتھ کام کرنے والے کئی بار اس طرح کے دعووں کی حقیقت سامنے لا چکے ہیں۔’دابھولکر کے مطابق ویکسینیشن مہم کووڈ کے خلاف ایک اہم ہتھیار ہے لہذا اس کے بارے میں کسی بھی سنسنی خیز دعوی سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔
جے جے میڈیکل کالج کے ڈین ڈاکٹر تتیاراوے لہانے نے بھی سونار کے دعوے کو مسترد کردیا ہے۔
انھوں نے کہا: ‘یہ ویکسین دنیا بھر میں ایک ارب سے زیادہ افراد کو دی جاچکی ہے۔ کووڈ ویکسین اور اسٹیل اور لوہے کی چیزوں کا جسم سے چپکنے کے درمیان کوئی ربط نہیں ہے۔ اسے ویکسین کے اثرات کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ویکسین میں ایسی کوئی چیز نہیں ہوتی ہے۔’دعوے کی جانچ کی جائے گی

ناسک کے ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر ڈاکٹر اشوک تھوراٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں میڈیا سے اس معاملے کے بارے میں معلومات ملی ہیں۔انھوں نے کہا ‘ہم اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم بھیج رہے ہیں جس کے بعد ہم اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کریں گے۔ پھر حکومتی ہدایات کے مطابق اس معاملے پر غور کیا جائے گا۔’اشوک تھوراٹ نے یہ بھی کہا کہ ایسی باتیں کووڈ ویکسین کا نتیجہ نہیں ہو سکتی ہیں۔انھوں نے کہا: ‘میرے طبی کیریئر میں آج تک ایسا معاملہ کبھی سامنے نہیں آیا۔ سونار کے جسم میں اس تبدیلی کی وجوہات جاننا ضروری ہے۔ یہ تحقیق کا موضوع ہے۔’

ویسے سونار کے دعوے کے منظرعام پر آنے کے بعد انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے ایک رکن سمیر چندراتے نے کہا ہے کہ کسی شخص کے جسم سے دھات چپکنے کا مطالعہ دھات کے ماہرین کو بھی کرنا چاہیے۔سمیر چندراتے نے کہا ‘اس کا کووڈ ویکسین سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ویکسین لینے سے درد اور بخار ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر ایسی کوئی بات ہوتی ہے تو اسے ویکسین کا نتیجہ نہیں کہا جاسکتا۔ ایسی افواہوں سے ویکسینیشن مہم متاثر ہوگی۔ علم طبیعیات کے ماہرین اور دھاتوں کے ماہروں کو یہ مطالعہ کرنا چاہیے کہ ایسے لوگوں کے جسم میں دھات کے مادے کس طرح چپک سکتے ہیں۔'(بہ شکریہ بی بی سی اردو)