کورونا بحران کی وجہ سے ہندوستانی معیشت کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر لوگوں کے روزگار پر پڑا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ غریبی کے دلدل میں پہنچ گئے ہیں۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا بحران کی سب سے بڑی مار غریبوں پر پڑی ہے۔ گزشتہ سال مارچ سے اکتوبر 2020 کے درمیان اس سے 23 کروڑ غریب مزدوروں کی کمائی 375 روپے کی کم از کم مزدوری سے بھی کافی کم ہو گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہری علاقوں میں غریبی 20 فیصد اور دیہی علاقوں میں 15 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ حالانکہ کورونا کی دوسری لہر کے بعد غریب طبقہ کی حالت مزید خراب ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ ایک سال کا جائزہ لینے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وبا کا اثر غریب گھروں پر بہت زیادہ پڑا ہے۔ گزشتہ سال اپریل اور مئی میں 20 فیصد غریب فیملی اپنی پوری آمدنی سے محروم ہو گئی۔ اس کے برعکس امیر خاندانوں کو وبا سے پہلے کی اپنی آمدنی میں 25 فیصد سے بھی کم نقصان ہوا ہے۔ پورے آٹھ مہینے کی مدت (مارچ سے اکتوبر) کے دوران صرف دس فیصد کے ذیلی حصے میں ایک اوسط گھرانے کو 15700 روپے کا نقصان ہوا، یا صرف دو مہینے کی آمدنی میں گزارا کرنے کو مجبور ہونا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال لاک ڈاؤن کے دوران ملک بھر میں اپریل-مئی 2020 کے دوران تقریباً 10 کروڑ لوگوں کی ملازمتیں چلی گئیں۔ تقریباً 1.5 کروڑ مزدور 2020 کے آخر تک کام سے باہر ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کووڈ کا سب سے زیادہ اثر نوجوانوں پر پڑا ہے۔ 24-15 سال کی عمر والے طبقہ میں 33 فیصد لوگوں کو دسمبر 2020 تک روزگار نہیں ملا جب کہ 25 سے 44 سال کے درمیان کے 6 فیصد لوگ روزگار گنوا چکے تھے۔