کورونا کے خلاف ابتک ٹیسٹ میچ کھیل رہے تھے، اصل میچ اب شروع ہوا ہے: اورنگ آباد پولس کمشنر

Aurangabad-police-commissioner-Chiranjeev-Prasadاورنگ آباد میں کورونا کے 47 نئے مریض؛ ابتک 85 ہلاکتیں، جملہ تعداد 1696 ہوئی

اورنگ آباد : 3 جون (یو این آئی)کورونا وائرس کو شکست دینے اور اس پر قابو پانے کے لیے ماہ رواں جون بہت اہمیت کا حامل ہے، اس ماہ ہمیں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ ہم اب تک کورونا کے خلاف ٹیسٹ میچ کھیل رہے تھے مگر اب اصلی میچ شروع ہوا ہے۔ اس لیے عوام کو بہت زیادہ احتیاط کرنےکی ضرورت ہےاس طرح کا اظیار خیال اورنگ آباد ڈیوژن کے پولس کمشنر چرنجیو پرساد نے عوام سے اپیل کرتےہوئے کیا۔انھوں نےکہا کہ ” آج سے یہ لاک ڈاؤن دھیرے دھیرے کھل رہا ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کورونا کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ کورونا کا خطرہ ابھی بھی برقرار ہے۔

گھر سے صرف ایک آدمی ہی باہر نکلے جو کمانے والا ہے۔اور وہ بھی صرف ایک بار باہر نکلے اور جب واپس آئے تو دوبارہ باہر نہ نکلے۔ باقی کے لوگ غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں اور بازار میں غیر ضروری بھیڑ نہ کریں” انھوں نے ماہ رواں میں بہت زیادہ احتیاط اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ” اگر آپ نے جون مہینہ اس طریقے سے کنٹرول اور احتیاط کے ساتھ نکال لیا تو مجھے پورا یقین ہے کہ ہم کورونا پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔اور ہم ساری چیزیں کنٹرول کے اندر رکھ پائیں گے۔ کورونا کو قابو میں رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ سب لوگ انتظامیہ کا تعاون کریں۔”

پولس کمشنر نے عوام کو تاکید کرتے ہوئے کہا کی ” یہ بات یاد رکھیں کی ابھی تک جو کچھ ہم نے کیا وہ پریکٹس میچ تھا،ہمارا اصلی میچ آج سے شروع ہوتا ہے۔ کورونا کو ہرانے کا اصلی میچ آج سے شروع ہو ررہا ہے۔ اور اس میں جون کا مہینہ بیت اہم ہے۔”اس موقع پر انھوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ” مجھے یقین ہے کہ اس پورے مہینہ میں ہم کورنا کو قابو میں رکھنے کے لیے تمام احتیاطی تدابیر ، ماکس لگانا، ایک دوسرے کے درمیان محفوظ فاصلہ برقرار رکھنے وغیرہ پر پورا پورا عمل کریں گے۔اوراس بیماری کو بڑھنے نہ دیں گے۔”

دریں اثناء اورنگ آباد ضلع میں کورونا وائرس کے مریضوں کے شفایاب ہونے کا سلسلہ جاری ہے 1696 مصدقہ مریضوں میں سے ابتک 1085 مریض صحتیاب ہو کر اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو چکے ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ نئے مریض بھی سامنے آتے جا رہے ہیں ، آج صبح تک ضلع میں 47 مصدقہ مریض پائےگئے۔ اس کے بعد ضلع میں مصدقہ مریضوں کی تعداد بڑھ کر 1696 ہو گئی ہے۔ جس میں سے 1085 صحتیاب ہو چکے ہیں اور اب ضلع کے اسپتالوں میں صرف 526 مریض زیر علاج ہیں۔اور 85 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں گورنمٹ میڈیکل اسپتال ( گھاٹی ) میں 68 ، 3 مختلف خانگی اسپتالوں میں 16، اور چکل ٹھانہ علاقہ میں واقع سیول اسپتال( مِنی گھاٹی)میں ایک مریض کی موت ہوئی ہے۔
آج پائے جانے والے مریضوں میں جسونت پورہ (1) ، سنجے نگر ، مکند واڑی (1) ، کھوکڑ پورہ (2) ، اجنکیا نگر (1) ، سمتا نگر (2) ، سمرودھی نگر ، این -4 سڈکو (1) ، جئے بھاوانی نگر (1) ، لیبر کالونی (2) ، مل کارنر (4) ، ہمال واڑی ، ریلوے اسٹیشن (1) ، بھاوسین پورہ (2) ، شیو شنکر کالونی (5) ، پیسادوی روڈ (1) ، کٹ کٹ گیٹ (1) ، سلی خانہ نیو کالونی (1) ، باری کالونی (1) ، الکا ناگری (1) ، این 6 ، سمھاجی کالونی ، سڈکو (1) ، شریف کالونی (1) ، کیلاس نگر (4) ، سوپن نگاری ، گار کھیڑا کمپلیکس (1) ، بھاوانی نگر ، جونا مونڈھا (1) ، پنڈالیک نگر روڈ ، گارکھیڑا (1) ، ودیانیکیتن کالونی (1) ، سورانا نگر (2) ، دیگر (3) اور اس کے علاوہ ضلع کے دوسرے مقامات ، یشونت نگر ، پیٹھن (3) ، عبد الشاہ نگر ، سلوڈ (1)۔ ضلع میں ہائے گئے ان مریضوں میں 21 خواتین اور 26 مرد مریض شامل ہیں۔