کورونا کے بعد اب ایبولا وائرس کا بھی حملہ، کانگو میں چار ہلاک

23

وسطی افریقہ کے ملک ڈیموکریٹک رپبلک آف کانگو میں حکام کے مطابق کورونا کے بعد اب ایبولا وائرس نے بھی دوبارہ سر اُٹھا لیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈی آر گانکو کے وزیر صحت ایٹنی لونگوڈو نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ ملک کے شمال مغرب میں ایبولا کی وبا سے چار افراد کی ہلاکت ہوگئی ہے۔

وزیر صحت نے مزید بتایا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بائیومیڈیکل ریسرچ (آئی این آر بی) نے تصدیق کی ہے کہ شمال مغربی شہر منبڈاکا میں مرنے والے افراد کے ایبولا ٹیسٹ کے لیے جو نمونے لیے گئے تھے ان کے نتائج مثبت آئے ہیں۔

ڈی آر کانگو کے شمال مغربی حصے کے علاوہ ایبولا وائرس مشرقی علاقوں میں بھی پھیل چکا ہے۔ حکام کے مطابق ملک کے مشرق میں اگست 2018 سے اب تک دو ہزار 280 افراد اس وبا کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔
حکام پُرامید ہیں کہ وہ رواں ماہ کی 25 تاریخ کو ملک کے مشرق میں وبا کے خاتمے کا اعلان کریں گے۔
سرکاری طور پر وبا کے خاتمے کے اعلان کے لیے لازمی ہے کہ یہاں 42 روز تک ایبولا کا کوئی کیس سامنے نہ آئے۔ رواں سال اپریل میں مقررہ وقت ختم ہونے سے صرف تین دن قبل یہاں ایک نیا کیس رپورٹ ہو گیا تھا۔
ملک کے وزیر صحت نے کہا ہے کہ وہ رواں ہفتے کے آخر میں ایبولا سے متاثرہ شمال مغربی علاقے کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ان کے بقول ‘ہم اس علاقے میں بہت جلد ویکسین اور ادویات بھیج دیں گے۔

دریائے کانگو کے ساتھ واقع منبڈا شہر ایکویٹور نامی صوبے کا دارالحکومت ہے جس کی آبادی لگ بھگ 10 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔قبل ازیں اس صوبے میں مئی سے جولائی 2018 تک بھی ایبولا وائرس کے کیسز سامنے آئے تھے جس کے نیتجے میں 33 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 21 اس وبا سے صحت یاب ہوئے تھے