جونپور: کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران ایک طرف جہاں طبی نظام زمیں دوز ہو گیا ہے وہیں اس نے ہندوستانی سماج کی قلعی بھی کھول کر رکھ دی ہے۔ اس وبا کی آڑ میں تفریق کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے جس میں لوگ اپنے پڑوس میں رہنے والوں کو انسانی درجہ دینے کو تیار نہیں ہیں۔ اس کی مثال جونپور میں اس وقت نظر آئی جب یہاں ایک بزرگ اپنی فوت شدہ بیوی کو سائیکل پر رکھ کر ادھر سے ادھر گھومتا رہا، کوئی اس کے رنج و الم میں میں شریک تو کیا ہوتا، گاؤں والوں نے آخری رسومات تک ادا کرنے کی اجازت نہیں دی

نیوز پورٹل ’آج تک‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ جونپور کے مڈیاہوں کوتوالی علاقہ میں پیش آیا۔ یہاں کے تلک دھاری سنگھ کی بیوی راجکماری کافی دنوں سے بیمار چل رہی تھی۔ پیر کے روز ان کی طبیعت بگڑ گئی، ضلع اسپتال میں انہیں داخل کرایا گیا لیکن اس کی اسپتال میں موت واقع ہو گئی۔ اسپتال نے امبولنس کے ذریعے لاش کو گھر پہنچا دیا۔

لیکن اس کے بعد جو ہوا اس سے بھی زیادہ المناک تھا۔ کورونا کے خوف سے کوئی بھی گاؤں والا تلک دھاری کے گھر نہیں پہنچا، نہ ہی کوئی مدد کی گئی اور نہ ہی کسی طرح کی تسلی دی گئی۔ ایسے حالات میں لاش کی حالت خراب نہ ہو انہوں نے 27 اپریل کو خود ہی بیوی کی لاش کو سائیکل پر رکھا اور آخری رسومات ادا کرنے کے لئے دریا کنارے چل دیئے۔

تلک دھاری جب اپنی اہلیہ کی آخری رسوم ادا کر رہے تھے تو گاؤں والے وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے ایسا کرنے سے منع کر دیا، جس کے سبب آخری رسومات ادا نہیں ہو سکیں۔ جب پولیس کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے لاش کو کفن میں لپیٹا اور جونپور کے رام گھاٹ پر آخری رسومات ادا کیں۔ اس کے بعد پولیس نے اپنی نگرانی میں تمام رسومات ادا کرائیں۔