نئی دہلی: ہندوستان میں ایک بار پھر کورونا وائرس نے خطرناک صورت حال اختیار کر لی ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے ملک بھر میں 60 ہزار سے زیادہ معاملے درج ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کورونا وائرس کی نئی لہر گزشتہ سال کی یاد دلا رہی ہے اور کئی معاملوں میں اس سے بھی زیادہ خطرناک نظر آ رہی ہے۔ دراصل اب لاک ڈاؤن نافذ نہیں ہے اور معاملوں کی رفتار بہت زیادہ تیز ہے۔

 

ایسے حالات میں کورونا کی پہلی اور اس لہر میں کیا فرق ہے جو ہر کسی کی تشویش کا باعث ہے، گزشتہ سال جب کورونا وائرس آیا تھا اس وقت لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا تھا اور اس کے بعد جب ان لاک کیا گیا تو کورونا کی رفتار تیز ہو گئی۔ ستمبر-اکتوبر 2020 میں ہندوستان میں 18 ہزار سے 50 ہزار فعال معاملے 32 دن میں ہوئے تھے لیکن اس بار 11 مارچ سے 27 مارچ تک ہی اتنی تعداد ہو گئی۔

 

پہلے کی طرح ہی اس بار بھی سب سے زیادہ خطرہ مہاراشٹر میں نظر آ رہا ہے۔ گزشتہ سال جہاں 11 ہزار سے 22 ہزار فعال کیسز پہنچنے میں 31 دن لگے تھے، اس مرتبہ یہ اعداد صرف نو دن میں عبور کر گئے۔ مہاراشٹر کی راجدھانی ممبئی کورونا کی مہلک لہر کا شکار ہے۔ اس مرتبہ یہاں ہر دن آنے والے کورونا کے کیسز کے اعداد 850 سے 2100 تک محض 24 دن میں پہنچ گئے، جبکہ گزشتہ سال اس تعداد تک پہنچنے میں ایک مہینہ لگ گیا تھا۔

 

مہاراشٹر جیسا ہی حال گجرات کا بھی ہوا ہے۔ جہاں گزشتہ سال ایک مستقل رفتار سے کورونا کے کیسز میں اضافہ ہوا تھا، تاہم اس مرتبہ یہ تعداد بے قابو نظر آ رہی ہے۔ گجرات میں اس بار گزشتہ ایک ہفتہ سے ہر روز 1500 سے زیادہ معاملے رپورٹ ہو رہے ہیں۔

شمالی ہندوستان میں پنجاب کے حالات تشویش ناک ہیں، جہاں گزشتہ ایک ہفتہ سے ہر روز 2500 کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں تشویش ناک بات یہ بھی ہے کہ پنجاب میں کورونا کے یو کے اسٹرین کے سب سے زیادہ کیسز ہیں۔