وائرس کا اسکولس ، کالجس ، دفاتر ، پبلک ٹرانسپورٹ میں سب سے زیادہ پھیلاؤ

نئی دہلی : کورونا وائرس کی دوسری لہر بچوں اور نوجوانوں کیلئے سب سے زیادہ خطرناک ہے ۔ کورونا کی یہ صورتحال دن بہ دن سنگین ہوتی جارہی ہے ۔ خاص کر دیہی اور قبائیلی علاقوں میں یہ وائرس اپنا قہر برسارہا ہے ۔ یہ علاقے پہلی لہر سے محفوظ رہے تھے ۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں کورونا کی دوسری لہر سے متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔ حکومت نے آج 45 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کیلئے ویکسینیشن کا آغاز کیا ہے لیکن وائرس کی دوسری لہر بچوں اور نوجوانوں پر اثر انداز ہورہی ہے ۔ یہ بچے اور نوجوان سب سے زیادہ حساس ہیں کیونکہ اسکولوں اور کالجوں میں ان پر وائرس کا تیزی سے حملہ ہورہا ہے ۔ کئی ریاستوں میں اسکولس اور کالجس کام کررہے ہیں ۔ نتیجہ میں وائرس ایک سے دوسرے کو پھیلتے جارہا ہے ۔ بچے اسکولوں میں قریب قریب بیٹھتے ہیں ۔ ہاتھ لگانے ، بات کرنے سے وائرس منتقل ہورہا ہے ۔ نوجوان افراد بھی دفاتر سے کام کرنا شروع کردیئے ہیں ۔ ان کیلئے یہ وائرس سب سے زیادہ خطرناک ہے ۔ ہیڈ آف لائف کورس ایپی ڈیومولوجی پبلک ہیلت فاؤنڈیشن آف انڈیا گریدھر آر بابو نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر کے ہمہ رخی واقعات تشویشناک ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کئی ریاستوں میں کورونا کے کسیس بڑھ رہے ہیں ۔ مئی 2021 ء تک یہ وائرس مزید شدت اختیار کرتا جائے گا ۔ اگر اس پر قابو نہیں پایا گیا تو عوام الناس کی صحت پر برا اثر پڑے گا ۔ مہاراشٹرا سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے ۔ ڈاکٹر بابو نے کہا کہ ویکسین لینے کا عمل جاری ہے لیکن اس میں تیزی پیدا کی جانی چاہئیے ۔ ویکسین سے اموات کی شرح کم ہوگی اور ایک بڑی آبادی وائرس کے اثر سے محفوظ رہے گی ۔ آئندہ دو ماہ کے دوران ہمیں زیادہ سے زیادہ افراد تک ویکسین پہنچانے کی ضرورت ہے ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں