• 425
    Shares

بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) میں انیمل سائنس محکمہ کے سینئر ماہر جینیات پروفیسر گیانیشور چوبے کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر کم سنگین اور کم خطرناک ہوگی۔ خصوصاً ان لوگوں کے لیے جنھیں ٹیکہ لگایا گیا ہے اور جو اس وائرس سے ٹھیک ہو چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جن لوگوں کو کووڈ-19 کا ٹیکہ لگایا گیا ہے اور وہ ٹھیک ہو گئے ہیں، وہ تیسری لہر کے دوران محفوظ گروپ کے تحت آئیں گے۔

پروفیسر گیانیشور کا کہنا ہے کہ تیسری لہر کا امکان کم از کم تین مہینے بعد دیکھنے کو ملے گا، لیکن کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے جاری ٹیکہ کاری مہم سے لوگوں کی مدافعتی صلاحیت بڑھے گی اور انھیں لہر کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’’جیسا کہ ہر تین مہینے میں اینٹی باڈی کی سطح گرتی ہے، تیسری لہر کا امکان ہوتا ہے۔ اس معنی میں اگر اگلے تین مہینوں میں اینٹی باڈی کی سطح گرتی ہے تو تیسری لہر آ سکتی ہے۔

لیکن موجودہ ٹیکہ کاری مہم سے وائرس کے خلاف لڑائی میں مدد ملے گی۔ اگر مرض سے لڑنے کی ہماری صلاحیت 70 فیصد سے زیادہ ہے تو اس گروپ میں کووڈ کا اثر کم ہوگا اور دھیرے دھیرے اس کی رفتار کم ہونے لگے گی۔‘

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔