نئی دہلی :ہندوستان میں کورونا کی دوسری لہر کا عروج ابھی گزرا بھی نہیں ہے اور تیسری لہر کو لے کر تشویش بڑھ گئی ہے۔ حالات اس قدر فکر انگیز ہیں کہ مودی حکومت نے اس بات پر غور کرنا شروع کر دیا ہے کہ تیسری لہر سے بچنے کے لیے ’قومی لاک ڈاؤن‘ لگایا جائے یا نہیں۔ مرکزی وزارت صحت کے ذریعہ ایسے کسی بھی امکان سے انکار نہیں کیا گیا ہے۔ دراصل نیتی آیوگ کے رکن وی کے پال نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ قومی لاک ڈاؤن کے متبادل پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس بیان سے ظاہر ہے کہ مودی حکومت ضرورت پڑنے پر قومی لاک ڈاؤن کا اعلان کر سکتی ہے۔

وی کے پال کا بیان اس لیے بھی بے حد اہم تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ نیشنل کووڈ-19 ٹاسک فورس کے ہیڈ ہیں۔ انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ تازہ حالات کو لے کر ایڈوائزری جاری کی گئی ہے، ساتھ ہی اگر پابندیوں کی بات کریں تو اگر سخت پابندیوں کی ضرورت پڑتی ہے تو ہمیشہ متبادل پر تبادلہ خیال ہوتا ہے۔ ایسے میں جن فیصلوں کی ضرورت پڑے گی، انھیں لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کو لے کر بحث ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب کئی ریاستیں پہلے ہی اپنے یہاں لاک ڈاؤن، نائٹ کرفیو، ویکینڈ لاک ڈاؤن جیسے قدم اٹھا چکی ہیں۔ مہاراشٹر، کیرالہ، راجستھان، کرناٹک، دہلی، اتر پردیش، مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں پہلے سے ہی سخت پابندیاں نافذ ہیں۔ بہار میں بھی 15 مئی تک لاک ڈاؤن نافذ ہے اور کیرالہ میں بھی 8 مئی سے 16 مئی تک لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود ماہرین نے ملکی سطح پر لاک ڈاؤن لگائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بھی مرکز کی مودی حکومت سے مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکہ کے سرفہرست طبی ماہر ڈاکٹر اینٹنی فاؤچی بھی کہہ چکے ہیں کہ ہندوستان کو موجودہ حالت سے نمٹنے کے لیے اپنی تمام طاقت کو جھونک دینا ہوگا۔ اگر لاک ڈاؤن لگایا جاتا ہے تو وہ ٹرانسمیشن کی رفتار کو روکے گا، ایسے وقت میں حکومت کو اپنی پوری تیاری کرنی چاہیے۔