دہلی: ملک میں کورونا کی دوسری لہر کے دوران نئے معاملوں کی تعداد وحشت ناک حد تک ہو چکی ہے۔ ممبئی، دہلی جیسے بڑے شہروں میں کورونا کا اثر بڑھ رہا ہے اور اس کے خلاف ٹیکہ کاری کی مہم کو تیز کرنے کا مطالبہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ دریں اثنا، ملک میں یکم اپریل سے ٹیکہ کاری کا تیسرا مرحلہ شروع ہو گیا ہے، جس کے دوران 45 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ٹیکہ لگایا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ 45 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کے ٹیکہ لگوانے پر اتنا زور کیوں دیا جا رہا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اعداد و شمار پر غور کریں تو ہندوستان میں کورونا سے ہوئی 90 فیصد اموات 45 سال سے زیادہ کے افراد کی ہوئی ہیں۔ لہذا ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ 45 سال سے زیادہ عمر کے تمام لوگوں کو ویکسین لگوانی چاہیے۔
کافی وقت سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ ویکسینیشن کے دائرے کو وسیع کیا جانا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی ٹیکہ کاری انجام دی جا سکے۔ کیونکہ اب دفتر، بازار اور دیگر ادارے کھل چکے ہیں اور 45 سے 60 سال کی عمر کے افراد کا زمرہ بڑی تعداد میں خدمات سے وابستہ ہے۔ ان لوگوں کی آمد و رفت بھی زیادہ ہوتی ہے، لہذا انہیں حفاظت فراہم کرنا ضروری ہے۔

قومی راجدھانی دہلی میں بھی کورونا کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے اور یہاں جو نئے معاملے منکشف ہو رہے ہیں ان میں بیشتر نوجوان شامل ہیں۔ ایمس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر گلیریا کے مطابق تاحال جن مریضوں میں کورونا کی تشخیص کی گئی ہے ان میں معمولی علامات ظاہر ہو رہی ہیں۔ تاہم کم عمر کے زمرے میں بھی کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے اور انفیکشن کے بزرگوں تک پھیلنے کے قوی امکان ہیں۔ ایسا ہی مہاراشٹر میں ہو چکا ہے، جہاں شروعات فوج کے معاملوں سے ہوئی تھی لیکن بعد میں دائرہ بڑھتا ہی چلا گیا۔