ہندوستان میں کورونا قہر سے خوفزدہ لوگ جلد سے جلد ٹیکہ لینے کی کوشش میں سرگرم ہیں۔ لیکن کیا آپ کو پتہ ہے کہ کورونا ویکسین آپ کے جسم میں کتنے دنوں تک کورونا سے لڑنے کی طاقت پیدا کرتا ہے؟ اگر نہیں، تو آپ جان لیجیے کہ دونوں خوراک لینے کے بعد بھی آپ کے جسم میں کچھ ماہ یا ایک سال تک ہی کورونا سے لڑنے کی طاقت پیدا ہو پاتی ہے۔ حالانکہ اس سلسلے میں ابھی تک کوئی حتمی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے، لیکن سائنسدانوں اور محققین نے ایک اندازے کے مطابق یہ بتایا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ڈاکٹر کیتھرین او برائن کے مطابق کورونا کی پہلی خوراک لینے کے دو ہفتے بعد سے جسم میں قوت مدافعت (امیونٹی) بننی شروع ہوتی ہے۔ لیکن دوسری خوراک لینے کے بعد قوت مدافعت مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔ یہ قوت مدافعت جسم میں کتنے دنوں تک باقی رہتی ہے، اس سلسلے میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ابھی کچھ بھی واضح طور پر کہنا ممکن نہیں ہے۔ ڈاکٹر کیتھرین کے مطابق ہمیں ابھی تک نہیں پتہ ہے کہ ویکسین سے بنی قوت مدافعت کب تک رہتی ہے، اس کے بارے میں پوری جانکاری ملنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔

ڈاکٹر کیتھرین کا کہنا ہے کہ ’’ہم ٹیکہ کاری کروا چکے لوگوں پر نظر رکھ رہے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان لوگوں میں وقت گزرنے کے ساتھ کب تک قوت مدافعت رہتی ہے اور وہ کب تک بیماری سے بچے رہتے ہیں۔ اس لیے ہمیں واقعی کچھ وقت تک انتظار کرنا ہوگا، جس سے ہمیں پتہ چلے گا کہ ویکسین کب تک اپنا اثر رکھتی ہے۔‘‘بہر حال، ابھی تک جو جانکاری ملی ہے، اس کے مطابق فائزر ویکسین کی دو خوراک کے بعد ویکسین کا اثر چھ مہینے یا اس سے کچھ زیادہ دنوں تک رہتا ہے۔ اسی طرح ماڈرنا ویکسین کی بھی دوسری خوراک کے بعد اینٹی باڈی چھ مہینے تک رہتی ہے۔ ہندوستان میں جو کووی شیلڈ ویکسین لگ رہی ہے، اس سے قوت مدافعت ایک سال یا اس سے کچھ زیادہ دنوں تک رہ سکتی ہے۔ ڈاکٹر کیتھرین کا کہنا ہے کہ ’’ہم کہہ سکتے ہیں کہ آکسفورڈ کی ChAdOx1 تکنیک جس ویکسین میں استعمال کی جا رہی ہے، اس سے بنی اینٹی باڈی ایک سال یا اس سے اوپر تک رہ سکتی ہے۔‘‘اس درمیان ’نیویارک ٹائمز‘ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق دو مختلف اسٹڈی میں اخذ کیا گیا ہے کہ ویکسین کے بعد ایک سال تک امیونٹی یعنی قوت مدافعت جسم میں برقرار رہتی ہے۔ اس کے ایک سال سے زیادہ وقت تک رہنے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔