ممبئی: کورونا وائرس کی ویکسین تیار بناکر ملک کے سائنسدانوں نے ملک کے عوام کی زندگی بچانے کی کوشش کی لیکن ہمارے ملک کی وزیرمالیات نے اپنے قومی بجٹ کے ذریعے ایک بار پھر عوام کو موت کی کگار پر پہونچادیا ہے۔ دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کرنے والے کسانوں سے لے کر کورونا کے دور میں اپنے روزگار گنوانے والے کروڑوں نوجوانوں تک کے ہاتھوں میں اس بجٹ سے مایوسی ہاتھ آئی ہے۔ یہ سخت تنقید آج یہاں ریاست کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار نے کی ہے۔ وہ یہاں مرکزی وزیرمالیات کے ذریعے پیش کردہ بجٹ پر میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کررہے تھے۔

نے کہا کہ اس بجٹ میں مرکزی حکومت نے پسماندہ طبقات، اقلیتوں، آدیواسیوں نیز محنت کشوں کے ساتھ نا انصافی کی اپنی روایت کو برقرار رکھا۔ خواتین کی ترقیاتی وفلاحی اسکیموں کے لیے اس بجٹ میں کچھ خاص نظر نہیں آرہا ہے۔ انکم ٹیکس کی حدوں میں اضافہ کے ذریعے اوسط طبقے کو راحت کی امید تھی ، لیکن ا س بجٹ نے ان کی امیدوں پر بھی پانی پھیردیاہے جس کی وجہ سے ان میں اس بجٹ سے ناراضگی صاف طور پر محسوس کی جارہی ہے۔ ملک کے خزانے میں سب سے زیادہ محصول دینے والے مہاراشٹر کے ساتھ اس بار بھی ناانصافی کی گئی ہے۔ مہاراشٹر کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کو دور کرنے کے لیےمیں تمام پارٹیوں کے ممبرانِ پارلیمنٹ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مرکزی وزیرمالیات سے ملاقات کرکے ریاست کی عوام کو انصاف دلانے کی کوشش کریں۔

 

اجیت پوار نے کہا کہ ممبئی وپونے سمیت مہاراشٹر کے حصے میں اس بجٹ سے کچھ نہیں ملا ہے جس سے مہاراشٹر کے ساتھ مرکزی حکومت ناانصافی ایک بار پھر ظاہر ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں چونکہ الیکشن ہیں اس لیے مغربی بنگال کو ۲۵ہزار کروڑ روپیے دیے گئے ہیں ،گوکہ اس بات کا یقین نہیں ہے کہ یہ ۲۵ہزار کروڑ مغربی بنگال کو ملیں گےبھی، لیکن مغربی بنگال الیکشن کے پیشِ نظر مرکزی وزیرمالیات کو رابندرناتھ ٹیگور کی یادآگئی مگر ٹیگور کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے ملک کی معیشت کی تباہی اور مرکزی حکومت کی بھی ناکامی کو بھی ایک طرح سے اجاگر کردیا ہے۔