دبئی، 24 جون (یو این آئی) دنیا میں پیش آنے والے ہر مواقع،سانحات، حادثات یا وبا کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ اس میں کسی کا نقصان ہوتا ہے تو کسی کے لئے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے تو کو ئی آفات کو مواقع میں تبدیل کردیتا ہے۔آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ جہاں نہایت مہلک ثابت ہونے والے کرونا وائرس، جس سے دنیا بھر میں اب تک 39 لاکھ 8 ہزار لوگ ہلاک جب کہ 18 کروڑ متاثر ہوئے، وہاں یہ وبا لاکھوں افراد کے لیے خوش قسمتی کا باعث بن گئی۔

غیر ملکی میڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرونا وبا کے دوران لاکھوں افراد لکھ پتی بن گئے، جہاں وبا نے دنیا بھر کی معیشت کو نقصان پہنچایا، وہیں 52 لاکھ افراد آمدنی میں اضافے کے بعد لکھ پتی بن گئے۔رپورٹ کے مطابق کرونا وبا کے دوران سال 2020 میں ایک فی صد سے زیادہ بالغ افراد کا نام پہلی بار لکھ پتی افراد کی فہرست میں آیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کی بحالی اور گھروں کی قیمتوں میں اضافے نے لوگوں کی دولت میں اضافہ کیا۔کورونا کے دوران کھرب پتی افراد کی خوش قسمتی میں 27 فی صد اضافہ ہوا اور 10 افراد تو ایسے تھے کہ جن کی دولت اتنی بڑھی کہ وہ سب کے لیے ویکسین خرید سکتے تھے۔

اس سلسلے میں تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ دیکھا گیا کہ لوگوں کی دولت میں اضافہ وبائی بیماری کی پریشانیوں سے بالکل الگ تھی۔گزشتہ سال 2020 میں عالمی وبا کے دوران امیر لوگوں کی دولت میں مشترکہ طور پر 21.7 فیصد اضافہ ہوا جو مجموعی طور پر اضافے کے ساتھ 597.2 ارب پاؤنڈ تک جا پہنچی ہے۔

برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کی جاری کردہ امیر افراد کی فہرست کے مطابق وبا کے باوجود برطانیہ کے ارب پتی افراد کی دولت میں گذشتہ سال کی نسبت 21 فیصد اضافہ ہوا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعے کو جاری کردہ اعداد و شمار میں یوکرینی نژاد تاجر لیونارڈ بلوانک 23 ارب پاؤنڈ کی دولت کے ساتھ ملک کے امیر ترین فرد قرار پائے ہیں۔امیر افراد کی اس فہرست کو برطانیہ کے امیر ترین افراد پر سب سے مستند ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی بدحالی کے باوجود گذشتہ سال برطانیہ کے ارب پتی افراد کی تعداد 24 فیصد اضافے کے ساتھ 171 ہو گئی ہے، جبکہ اسی دورانیے میں ارپ پتی افراد کی مجموعی دولت 21.7 فیصد اضافے کے ساتھ 597.2 ارب پاؤنڈ تک جا پہنچی ہے۔

اس حوالے سے امیر افراد کی اس فہرست کو مرتب کرنے والے رابرٹ واٹس کا کہنا ہے کہ وبا نے بہت سے آن لائن ریٹیلرز، سوشل نیٹ ورکنگ ایپس اور کمپیوٹر گیمز ٹائیکونز کے لیے منافع بخش مواقع پیدا کیے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ بہت امیر ترین افراد ایسے وقت میں بہت زیادہ امیر ہوئے جب ہم میں سے ہزاروں افراد نے اپنے پیاروں کو دفن کیا اور لاکھوں افراد کی معاش کے لیے پریشانی نے اسے بہت ہی پریشان کن عروج بنا دیا ہے۔

تیل اور میڈیا کے سرمایہ کار لیونارڈ بلوانک کی دولت میں سات ارب پاؤنڈ سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے انہوں نے کاروباری شخصیت جیمس ڈیسن کی جگہ اول مقام حاصل کیا ہے۔جیمس ڈیسن کی دولت 10 کروڑ پاؤنڈ اضافے کے ساتھ 16.3 ارب پاؤنڈ ہو گئی ہے۔ امیر افراد کی اس فہرست میں شامل دوسرے مشہور افراد میں علیشر عثمانوف، جن کی دولت میں آرسنل فٹبال کلب میں اپنے شیئرز بیچ کر1.7ارب پاؤنڈ اضافہ ہوا ہے اور چیلسی کے روسی مالک رومن ابراموویچ بھی شامل ہیں۔واضح رہے کہ امیر افراد کی فہرست کی مکمل تفصیلات اتوار کو جاری کی جائے گی۔