کورونا وائرس :ناندیڑ کے شاہین باغ کااہم فیصلہ

ناندیڑ:17مارچ (ورق تازہ نیوز) کورونا وائرس کے سبب ناندیڑ کے شاہین باغ کے احتجاجی دھرنے کے انتظامی امور میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہے ۔ضلع انتظامیہ کی جانب سے دی گئی ہدایت پرعمل کرتے ہوئے شاہین باغ روزانہ جمع ہورہے ہزاروں کی تعداد کے مجموعہ کو محدود کرکے ایک وقت میں صرف بیس تا پچیس افراد کو ہی احتجاجی میں شریک ہونے کا موقع دیا جارہاہے ۔ان تبدیلیوں کے بارے میں معلومات دینے کےلئے آج دفتر جماعت اسلامی میں کل جماعتی تحریک کے ذمہ داران کی جانب سے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔

میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے تحریک رکن مولانا سرور قاسمی ،مولانا آصف ندوی ،مولانا عظیم رضوی اور محمد عبدالجلیل نے کہا کہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے حکومت کی جانب سے بہت سے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔اور اس بات پر خصوصی توجہ دلائی جارہی ہے کہ کسی ایک مقام پر چالیس پچاس لوگوں کی بھی بھیڑ جمع نہ ہونے پائے اسلئے شاہین باغ ناندیڑ کی آواز احتجاجی دھرنے کے پنڈال میں بھی لوگوں کو جمع ہونے سے منع کیا گیا یہاں تک انتظامیہ نے دھرنے کو 15 دن کےلئے بند کرنے کی بھی گذارش کی تھی لیکن کل جماعتی تحریک کے ذمہ داران نے کہا کہ دھرنا کسی صورت میں بند نہیں ہوسکتا جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوجاتے ہم اپنا احتجاج جاری رکھے گے البتہ کرونا وائرس کے مسئلہ کو حل کرنے کےلئے احتیاتی تدابیر کو اختیار کرتے ہوئے دھرنے مین شریک ہونے والے والے افراد کی تعداد کو محدود کرنے کےلئے اقدامات کئے جائیں گے

اسی کے تحت یہ طے کیا گیا کہ پہلے کی طرح یہ دھرنا چوبیس گھنٹہ چلتا رہے گا لیکن دھرنے میںبیک وقت صرف بیس سے پچیس افراد کو ہی شریک کیا جائے گا۔آج ناندیڑ کے شاہین باغ کو قائم کئے گئے دو مہینہ مکمل ہوگئے ہیں آج سے کی جارہی تبدیلیوں کے مطابق خواتین کے لئے مقرررہ وقت دو پہر دو تا پانچ کے دوران حسب معمول کثیر تعداد میں خواتین دھرنے کے پنڈال میں پہنچ رہی تھی تاہم ان میں سے بیشتر خواتین کو واپس کردیا گیا اور محض بیس سے پچیس خواتین کو ہی دھرنے میں شرکت کا موقع دیا گیا ۔

دھرنے میں شریک افراد کی تعدادمیں کمی لانے سے اس کے اثرات میں آرہی کمی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر مولانا سرور قاسمی نے کہا کہ وقتی طورپر بھلے ہی اس کے اثرات میں کمی نظر آرہی ہو لیکن جیسے ہی پابندیاں ختم ہونگی پہلے کی طرح ہم اپنا یہ احتجاج جاری رکھے گے ۔کیونکہ شہریت ترمیمی قانون کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا۔جب تک حکومت اس قانون کو واپس نہیں لے لیتی ہم اپنا احتجاج بدستور جاری رکھے گے ۔