ہندوستان میں کورونا کے معاملے لگاتار سامنے آ رہے ہیں۔ کورونا معاملوں میں نشیب و فراز دیکھنے کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ کورونا کی تیسری لہر آ چکی ہے۔ برطانیہ، امریکہ اور روس سمیت کئی بڑے ممالک میں کورونا کے بڑھتے اعداد و شمار ہندوستان کے لیے فکر بڑھانے والے ہیں۔ حالانکہ ملک میں تقریباً 68 فیصد لوگوں میں اینٹی باڈی ملی ہے، اس کے باوجود کورونا کے اعداد و شمار کا 40 ہزار کے آس پاس رہنا ایک خطرے کی نشانی ہے۔

ماہرین نے فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کورونا کے اعداد و شمار میں بہت جلد اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ فکر والی بات یہ ہے کہ ملک کی 13 ریاستوں میں کورونا متاثر مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ کیرالہ، آندھرا پردیش، اڈیشہ کے علاوہ شمال مشرق کی کئی ریاستوں میں جس رفتار سے کورونا کے معاملے بڑھ رہے ہیں وہ حیران کرنے والے ہیں۔

وردھمان مہاویر میڈیکل کالج کے کمیونٹی میڈیسن محکمہ کے ڈائریکٹر پروفیسر جگل کشور نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر کے بعد لوگوں میں جس طرح سے اینٹی باڈی بنی ہے، اس سے کورونا کی تیسری لہر پہلی جتنی خطرناک نہیں ہوگی۔ یہ ضرور ہ کہ کورونا کے معاملے جس تیزی سے گھٹ رہے تھے اس میں اب استحکام آگی اہے جو تیسری لہر کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ سیرو سروے کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 40 کروڑ لوگ کورونا انفیکشن سے بچے ہوئے ہیں اور انھوں نے ابھی تک ٹیکہ بھی نہیں لگوایا ہے۔ غور طلب ہے کہ ہندوستان میں کورونا کے 41383 نئے معاملے آنے کے بعد کل پازیٹو معاملوں کی تعداد 31257720 ہوئی۔ 507 نئی اموات کے بعد کل اموات کی تعداد 418987 ہو گئی ہے 38652 نئے ڈسچارج کے بعد کل ڈسچارج کی تعداد 30429339 ہوئی۔ ملک میں سرگرم معاملوں کی کل تعداد 409394 ہے۔ ملک میں کل ٹیکہ کاری کی تعداد 417851151 ہوا۔