کورونا وائرس ایک مہلک بیماری تعارف اور احتیاطی تدابیر

40

کورونا وائرس کی شروعات دسمبر 2019میں ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ عالمی وبا کی شکل اختیار کر گیا اور ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ یہ مو ز ی مرض سارے عالم کیلئے سے درد بن گیا ۔

اس بیما ری کی شروعات چین کے ووہان نامی شہر ہوئی اور میں سب سے پہلے نمونیا کہ اثرات دکھائی د ینے لگے ، آگے تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ وہ نمونیا نہیں بلکہ ایک نامعلوم وائرس کی وجہ سے یہ بیماری پھلنے لگی ہے ، اور وائرس کو سب پہلے نیول کورونا وائرس 2019 نام دیا گیا ۔

کورونا وائرس ، وائرس گروپ کی 1قسم ہے جس میں جینیاتی ماده 1 کوٹ۔ میں پیک ہوتا ہے جس پر پروٹین کی ایک جھیلی چڑی ہوتی ہے یہ پروٹین spike کا ڈیاں جیسی ہوتی ہے اور اس پروٹین۔ کا کام جینیاتی ماد ه کی حفاظت کرنے ہوتا ہے ، اور کاڈیوں کی وجہ سے اس وائرس کو کورونا وائرس 2019 نام دیا گیا ۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس میں جینیاتی ماد ہ RNA ہوتا ہے۔ اسکے کئی قسمیں ہے جو تنفسی اور ہا ظمی بیماریاں پیدا کرتی ہے ۔
تنفسی بیماریوں میں نمونیہ ، بخار، عمل تنفس میں پیچیدگی، سوکھی کھانسی وغیرہ کی شکایت ہوتی ہے ، اور یہ شکایت کسی شخص میں کام زیادہ سکتی ہے۔

اس وائرس کی شروعات چین میں 2003 میں ہوئی تھی جسے SARS Covi
Severe Acute Respiratory Syndrome Corona Viruse
نام دیا گیا ہے وائرس سیوڈ کایٹ کے ذریعے پھیلا
. اُسکے بعد سعودی عربیہ میں اسی وائرس کی ایک اور قسم 2012 میں ملی اسکا نام
MERS Covid
Middle East Respiratory Syndrome ۔ ہے
جو camel
اونٹ کے ذریعے پھیلاؤ میں آیا تھا۔

لیکن کووڈ 19 کس جانور کے ذریعے پھیلا اسکا ابھی تک کسی کو کوئی مکمل معلومات حاصل نہیں ہے۔ کو وڈ 19 یہ چین کے شہر ووہان سے پھیلا اور ایسا کہا جاتا ہے کے ووہان کے
live animal market
اسکا پھیلاؤ ہوا ہے ۔
وائرس کا پھیلاؤ عام طور سے ایک بیمار شخص سے صحت مند میں کافی آسانی سے ہوتا ہے ۔ یہ وائرس چھینک ، کھانسی ، کے ذریعے کافی آسانی سے پھیلتا ہے ، اور ایک صحت مند انسان بیمار ہوجاتا ہے ، اس بیماری میں پہلے ہلکے اثرات دکھائی دیتے ہیں اور پھر دھیرے دھیرے تیز ہوتے جاتے ہیں۔
اس بیماری میں بخار، سانس لینے تکلیف ، سوکھی کھانسی، نمونیا، اور گردے کی خرابی ، اور آخر میں موت واقعے ہو جاتی ہے ۔

اس بیماری کی جانچ کے لیے جو ٹیسٹ کیا جاتا ہے اُسے
PCR Polymarease Chain Reaction
کہا جاتا ہے ۔
ابھی تک بیماری کا کوئی خاطر خواہ علاج نہیں ملا ہے ۔ ساری دنیا کے سائنس دان اس بیماری کا علاج ڈھونڈنے میں لگے ہوئے ہیں ، لیکن خاطرخواہ کامیابی نہیں ملی ہے اور اس بیماری سے لڑنے کے لیے کوئی خاص دوا موجود نہیں ہے ، اس بیماری کا بہترین علاج گھر میں رہے ، ٹھنڈے اجزاء کے استعمال سے پرہیز کرے ، ایئر کنڈیشنگ کا استعمال نہ کرے کیونکہ یہ وائرس ٹھنڈک میں تیزی سے پنپتا ہے، صفائی کا خاص خیال رکھیں، بلا ضرورت گھر کے باہر نہ جائے ، اور اگر جانا ہی ہو تو چہرے پر ماسک کا استعمال کرے ، عوامی مقامات پر جانے سے پرہیز کرے ، چھینک یا کھانسی ائے تو رومال استعمال کرے ، ہر 1گھنٹے میں ہینڈ واش یا صابن کا استعمال کرکے ہاتھ دھوئے بھتر ہوگا ایسے صابن اور ہینڈ واش کا استعمال کر ے جس میں الکوحل ہو، سماجی دوری قائم رکھے،

باہر سے آنے کے بعد فوری چھوٹے بچوں کو گود میں نہ لے پہلے ہینڈ واش یہ صابن کا استعمال کرکے ہاتھ اچھے سے صاف کیجئے ۔ اُسکے علاوہ بوڑھے لوگوں کا خصوصی خیال رکھے کیونکہ بچوں میں اور بوڑھے لوگوں میں قوت مدافعت کم ہوتی ہے ۔ بہترین پروٹین والے غذاؤں کا استعمال کرے۔
خود بھی محفوظ رہے اور دوسرے کا بھی خیال رکھے۔

اگر کسی میں بخار ، کھانسی جیسی علامات دکھائی دے تو فوری ہسپتال سے رجوع ہو یہ ہیلپ لائن کا استعمال کرے۔ سفری معلومات ہو تو وہ ہسپتال کے ڈاکٹر سے شیئر کرے ،
حکومت کو سپورٹ کرے لاک ڈاؤن آپکی حفاظت میں لگایا گیا ہوا ہے اسے اپنا یے ، بلاوجہ باہر نہ گھومے، پولیس سے بحث نہ کرے صاف رہے محفوظ رہے ، نماز کی پابندی کرے اور نماز گھروں میں ہی ادا کرے ، کیونکہ یہ بیماری اگر 1 شخص ہوتی ہے تو اسکی زد میں کئی لوگ آ سکتے ہیں ، افوہے نہ پھیلے ، اور ایسی کوئی بھی حرکت نہ کرے جس سے پوری قوم بدنام ہو جیسے نوٹوں کو تھوک لگا کر ٹیک ٹوک ویڈیو بنا نا، اور یہ کہنا کے کورونا وائرس اللہ کی این آر۔ سی ہے یہ سب باتیں بکواس اور یعنی ہے انکا حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ اللہ سے دعا ہے جلد۔ سےاس موزی مرض کو اس دنیا سے پاک کردے امین

خان خرّم زبیر عبدالغفار

پی ایچ ۔ ڈی ریسرچ اسکالر

ڈیپارٹمنٹ آف بوٹنی ،

اسکول آف لائف سائنس،

سوامی رماناند تیرتھ مرا ٹھوا ڈا یونیورسٹی،

ناندیڑ