Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

کورونا وائرس اور ہومیوپیتھی: انڈیا کی وزارت کی جانب سے ’کورونا وائرس کے ہومیوپیتھک علاج کے دعوے‘ پر وضاحت

IMG_20190630_195052.JPG

انڈیا میں متبادل طریقۂ علاج کے فروغ کی وزارت ’آیوش‘ نے کہا ہے کہ اس نے کبھی بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ کورونا وائرس کا ہومیوپیتھی میں علاج ممکن ہے۔ لیکن اس کے باوجود انٹرنیٹ پر اس طرح کے پیغام پھیلائے جا رہے ہیں کہ متبادل طریقۂ علاج سے کورونا وائرس سے نمٹا جا سکتا ہے۔
آیوش کی وزارت میں آیوروید، یوگا، نیچروپیتھی، یونانی، سدھ، سووا رگپا اور ہومیوپیتھی کے ذریعے علاج کو فروغ دیا جاتا ہے۔ انڈیا کی اس وزارت پر تنقید کی جاتی ہے کہ اس کے کام کی بنیاد سائنسی نہیں جبکہ ہندو قوم پرست گروہ اس کی حمایت کرتے ہیں۔
">وزارت کی طرف سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کی مسلسل غلط تشریح ہو رہی ہے کہ ہومیوپیتھی سے کوروناوائرس کا علاج ممکن ہے۔ جبکہ اس میں کہا گیا تھا کہ ہومیوپیتھی کو کورونا وائرس کی علامات کے علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

آیوش کے بیان کی حقیقت کیا ہے؟

29 جنوری کی پریس ریلیز کی سرخی تھی کہ ’کورورنا وائرس انفیکشن سے بچاؤ کے لیے ہومیوپیتھی کا استعمال: یونانی ادویات کورونا وائرس انفیکشن کی علامات سے نٹنے میں کارآمد۔‘

اس میں صفائی ستھرائی کے بارے میں مفید مشورے دیے گئے تھے اور پھر کورونا وائرس انفیکشن سے بچاؤ کے لیے ایک دوا آرسینکم ایلبم 30 (Arsenicum album30) کا ذکر کیا گیا تھا۔

آیوش پر جب تنقید کی گئی کہ ہومیوپیتھی کو کوروناوائرس کے علاج کے لیے پیش کیا جا رہا تو اس وزارت کے وزیر شریپد نائیک نے گذشتہ ہفتے کہا کہ بیان میں ’صرف ان ادویات کا ذکر تھا جو جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہیں اور اس میں یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ یہ پیتھوجن کا علاج کرتی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ ایک عام ہدایت تھی اور اس کا مقصد علاج تجویز کرنا نہیں تھا۔

اس کے بعد وزارت کی طرف سے ایک پریس ریلیز بھی جاری ہوئی کہ ان پر کچھ تنقید ایجنڈے کے تحت کی گئی۔ اس پریس ریلیز میں کہا گیا تنقید کے ذریعے ’آیوش‘ اور متبادل طریقہ علاج کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔‘انڈیا کے اخبار ’دی ہندو‘ نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا۔

ان کی ایک رپورٹ کے مطابق آیوش کی پہلی پریس ریلیز انتہائی ’غیر ذمہ دارانہ‘ تھی۔ انھوں نے کہا کہ خود سے دوا لینے سے مراد ہے کہ مریضوں کی مانیٹرنگ نہیں ہو سکے گی اور ممکن ہے کہ ایک شخص سے دوسرے شخص میں وائرس پھیلنے کے خطرات زیادہ ہیں۔

واٹس ایپ پر وائرل میسج

ان وضاحتوں کے باجود پہلی پریس ریلیز کے کچھ حصوں کو اس مقصد کے ساتھ انڈیا میں سوشل میڈیا، خاص کر واٹس ایپ پر، شیئر کیا جا رہا ہے کہ متبادل طریقہ علاج سے اس وائرس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔

ان وائرل میسجز کا نوٹس لیتے ہوئے انڈیا کی فیکٹ چیکنگ ویب سائیٹ ’بوم‘ نے گذشتہ ہفتے کہا کہ ’انھیں اس طرح کی کوئی شائع شدہ سائنسی تحقیق نہیں ملی جو اس تھیوری کی حمایت کرے کہ یہ گولیاں کووِڈ 19 کے حالیہ پھیلاؤ سے بچنے میں مدد دے سکتی ہیں۔‘

اس کے ساتھ انڈیا کے ذرایع ابلاغ میں نشر ہونے والی خبروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک میں ہومیوپیتھک ادویات کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔

اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ نے خبر دی کہ انڈیا کی جنوبی ریاست تلنگانا کے اندر 3500 افراد میں 11500 ادویات تقسیم کی گئیں۔

’نیوز منٹ‘ ویب سائیٹ سے بات کرتے ہوئے ایک میڈیکل آفیسر نے کہا کہ ’یہ ادویات صرف کورونا وائرس کے لیے نہیں بلکہ فلو کے لیے بھی ہیں۔ ان کی افادیت ہر وائرس کے لیے مختلف ہے۔ یہ علاج کے لیے نہیں بلکہ بچاؤ کے لیے ہیں۔‘

تاہم درست معلومات اور تعلیم کی کمی کی وجہ سے لوگ ہومیوپیتھی کی ادویات لینے پر تیار تھے۔

ایک شخص نے ’نیوز منٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کورونا وائرس کے بارے میں بہت افراتفری ہے۔ میرے خیال میں ہمیں ہر ممکن تیاری کرنی چاہیے اور ویسے بھی لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس دوا کے کوئی منفی اثرات نہیں ہیں۔‘

کیا کورونا وائرس کا علاج ممکن ہے؟

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اس بات کے کوئی شواہد نہیں کہ موجودہ ادویات کی مدد سے کورونا وائرس کا علاج ہوسکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کووِڈ 19 سے بچاؤ یا علاج کے لیے خود سے ادویات لینے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔تاحال اس کا علاج بنیادی طریقوں سے کیا جا رہا ہے، مریض کے جسم کو فعال رکھ کر، سانس میں مدد فراہم کر کے، تاوقتکہ ان کا مدافعتی نظام اس وائرس سے لڑنے کے قابل ہو جائے۔

اس کے لیے ویکسین کی تیاری کا کام جاری ہے اور امید ہے کہ اس سال کے آخر تک اس کی دوا انسانوں پر آزمانی شروع کر دی جائے گی۔

ہسپتالوں میں وائرس کے خلاف پہلے سے موجود دواؤں کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کے آیا ان کا کوئی اثر ہے۔

انڈیا میں متبادل طریقۂ علاج کی وزارت ہی کیوں؟

انڈیا میں آیوش کی وزارت علاج کے متبادل طریقوں کی نگرانی کرتی ہے۔ ان میں سے بعض علاج روحانی عقائد پر مبنی ہیں۔

یورپ میں 18ویں صدی کے آخر میں ہومیوپیتھی کی بنیاد رکھی گئی تھی اور یہ انڈیا میں اپنی جگہ بنا چکی ہے۔امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے 2019 میں دعویٰ کیا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی روایتی ادویات کے فروغ کے ذریعے ماضی کے انڈیا کو حال کے جدید ملک میں رائج کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم انڈیا میں 2017 کی ایک حکومتی رپورٹ کے مطابق ملک کی اکثریت آیوش کو نہیں مانتی اور ملک کی 93 فیصد آبادی کا جدید ادویات پر انحصار ہے۔لیکن یہ مسئلہ صرف انڈیا میں سامنے نہیں آیا۔کورونا وائرس کی ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے برطانیہ، امریکہ، گھانا جیسے کئی ممالک میں سوشل میڈیا پر متبادل طریقہ علاج کی تشہیر کی جا رہی ہے۔

بہ شکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام