’میں خود بھی وائرس سے متاثرہ تھی اور میرے والدین بھی ہسپتال میں داخل تھے۔ ساتھ میں کئی لوگوں کے فون آ رہے تھے کہ آپ بہت لوگوں کو جانتی ہیں، آکسیجن اور آئی سی یو کے لیے ہماری مدد کر دیں۔ میں سوچتی تھی کہ میں صحافی ہوں اور مجھے اپنے لیے تو معلومات مل نہیں رہیں میں ان کی مدد کیسے کروں۔ یہ لاچار ہونے کا احساس تھا، جو بہت تکلیف دہ تھا۔‘

یہ ہے انڈین صحافی ارچنا شکلا کی کہانی۔

انڈیا میں کورونا کی دوسری لہر کے دوران بہت سے صحافی اس وبا کی کوریج کرتے کرتے خود ’کہانی‘ کا حصہ بن رہے ہیں۔

ارچنا کا کہنا ہے کہ شاید ہی کوئی ایسا خاندان ہو جس نے کورونا کے مریض اور اس وائرس سے ہونے والی اموات نہ دیکھی ہوں اور ایسے غیر معمولی حالات میں انڈین صحافی رپورٹنگ کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔

’ہمیں ہسپتال کے بستر کی تلاش میں 200 افراد کو فون کرنا پڑے‘

ارچنا شکلا سی این بی سی چینل میں صحت اور دیہی علاقوں کی کوریج کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ہیں۔

بی بی سی اُردو سے ہونے والے اِس انٹرویو کے لیے وہ تیار ہو ہی رہی تھیں جب انھیں ایک ساتھی صحافی کی کورونا سے ہلاکت کی خبر ملی۔

وہ یہ خبر سننے کے بعد گفتگو کے لیے تیار تو تھیں لیکن ان کا کہنا ہے ایسی اچانک اموات کی اطلاع انھیں ہلا کر رکھ دیتی ہے۔

،تصویر کا کیپشن
صحافی ارچنا شکلا خود اور ان کے والدین کورونا وائرس سے متاثر ہوئے

وہ بتاتی ہیں کہ ’پہلی لہر کے دوران ہم ڈرتے تھے لیکن اتنا نہیں، بس احتیاطی تدابیر اختیار کر کے کام کے لیے نکل پڑتے تھے۔ لیکن اب اس تیسری لہر کے دوران ہر دوسرے دن کسی ساتھی کے وائرس سے متاثر ہونے یا اچانک مرنے کی اطلاع آتی ہے تو حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے۔ لیکن ہم پھر ہمت جمع کر کے خبر پہنچانے کا کام کرنے لگ جاتے ہیں۔‘

ہندوستان ٹائمز کے لیے صحت کے معاملات پر رپورٹنگ کرنے والی صحافی انونا دت کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس سے قبل ہسپتالوں کے اندر اور باہر وہ مناظر کبھی نہیں دیکھے تھے جو اب انھیں دیکھنا پڑ رہے ہیں۔

’لوگ ادویات اور بیڈز کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ ایک ماں نے فون پر مجھ سے اپنے بیٹے کے لیے مدد کے لیے کہا جو وینٹیلیٹر پر تھا اور اسے آکسیجن نہیں مل رہی تھی۔ میں نے عمر پوچھی تو اس نے کہا 24 سال۔ بعد میں اس جوان کی موت کی اطلاع ملی۔ اس ماں کی آواز میرے ذہن میں پیوست ہو کر رہ گئی ہے۔ ہٹتی ہی نہیں۔‘

انڈیا میں انسٹیٹیوٹ آف پرسپشن کے اعداد و شمار کے مطابق صرف اپریل کے مہینے میں ملک بھر میں 81 صحافی کورونا سے متاثر ہو کر ہلاک ہوئے ہیں۔

بڑی تعداد میں صحافیوں کے گھروں میں اور عزیز و اقارب میں کورونا کے متاثرین ہیں۔ اس پر دن رات کی کوریج اور ڈیڈ لائنز کا دباؤ الگ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

صحافی انونا دت کا کہنا ہے کہ وہ دن بھر کوشش کرتی ہیں کہ اطلاعات اور معلومات بر وقت پہنچاتے رہیں کہ کس ہسپتال میں آکسیجن، بیڈز اور ادویات کی صورتحال کیا ہے کیونکہ ان کی اطلاع سے کسی کی مدد ہو سکتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’لیکن جب رات کو میں گھر داخل ہوتی ہوں تو موت کا خیال آتا ہے کہ جنھیں مرتا دیکھ کر آیا ہوں بھی میری ہی عمر کے لوگ تھے اور میرے جیسے ہی تھے۔‘

’ہم صحافیوں کو لگتا ہے کہ ہمیں ہر موقعے پر ہر اہم مقام پر موجود ہونا چاہیے۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ ہمیں صرف گھر میں رہنا چاہیے۔‘

آسام ٹریبیون کے کلیان بروہا کی وفات بھی کووڈ 19 سے ہوئی تھی۔ ان کی وفات سے چند دن پہلے ان کی صحافی اہلیہ نیلاکشی بھٹا چاریا بھی اسی وائرس کے ہاتھوں ہلاک ہوئی تھیں۔

،تصویر کا کیپشن
صحافی انونا دت

اس صحافی جوڑے کے مشترکہ دوست جارج کلیا والی، جو خود بھی ایک صحافی ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کا دوست کلیان آخری دنوں میں وینٹیلیٹر پر رہا اور انھیں امید تھی کہ واپس لوٹے گا۔ ’اب میرے پاس صرف ان کے ساتھ لی ہوئی تصویریں ہیں اور ساتھ کیے ہوئے سفر کی یادیں ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ‘صحافی صرف ماسک اور سینیٹائزر کے ساتھ کوریج کر رہے ہیں، یہ کافی نہیں ہے۔ حکومت کو اور بھی کچھ کرنا ہو گا۔’

جو صحافی گھروں میں رہ کر کام کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ خود کو ہر لمحے کسی ساتھی کی بیماری یا موت کی خبر کے لیے تیار رکھتے ہیں، اور جوں جوں کیس بڑھ رہے ہیں اُن کے دلوں میں موجود خوف بھی بڑھ رہا ہے۔

دوسری جانب بہت سے صحافیوں نے دوسرے شہریوں کی طرح مدد کی اپیل کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا ہے۔

پہلے ان کی جانب سے کسی اور کی مدد کی اپیل کی گئی جو دیکھتے ہی دیکھتے اپنی یا اپنے خاندان کے کسی فرد کی مدد کی اپیل میں بدل گئی۔

معروف صحافی برکھا دت نے چند روز قبل ایک برطانوی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ انھیں کہنے کو الفاظ کم پڑ گئے ہیں جو ان کے 25 سالہ کرئیر میں کبھی نہیں ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشن
صحافی برکھا دت نے چند روز قبل ایک برطانوی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ انھیں کہنے کو الفاظ کم پڑ گئے ہیں جو ان کے 25 سالہ کرئیر میں کبھی نہیں ہوا تھا

برکھا دت کے والد وائرس سے متاثر ہونے کے بعد ہلاک ہوئے ہیں۔ برکھا کا کہنا ہے کہ ایمبولنس جس میں ان کے والد کو لے جانا تھا اس میں امدادی طبی عملہ نہیں تھا۔ انھیں اپنے تمام تر رابطوں اور اثر رسوخ کے باوجود آئی سی یو میں بیڈ کے لیے منت سماجت کرنا پڑی اور ایسی ہی صورتحال والد کی آخری رسومات کے وقت پیش آئی۔

انڈیا میں وبا کی دوسری لہر کے دوران مسلسل کئی روز سے یومیہ کیسز کی تعداد کا ریکارڈ ٹوٹ رہا ہے۔ تین لاکھ سے بڑھ کر اب یومیہ کیسز کی تعداد چار لاکھ کو پہنچ رہی ہے اور یومیہ اموات چار ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔

ایسے میں ہسپتالوں میں عملہ، آکسیجن، ادویات، بیڈز سب کم پڑ چکے ہیں۔ ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں لوگ منت سماجت کرتے اور مدد کے لیے چلاتے نظر آئے لیکن ان کے پیاروں نے ان کے ہاتھوں میں دم توڑ دیا۔

،تصویر کا ذریعہREUTERS

،تصویر کا کیپشن
کووڈ متاثرین کی لاشوں کی تعداد میں بدستور اضافے کے ساتھ ہی بڑے پیمانے پر آخری رسومات ادا کی گئیں

شمشان گھاٹ اور جنازہ گاہیں بھر چکے ہیں۔ سڑکوں پر تدفین اور آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں۔

یہ تمام مناظر دکھانے والے اور خبر کو ناظرین اور قارئین تک پہنچانے والے صحافی ڈیڈ لائنز میں لاشیں گنتے گنتے خود متاثرہ اور ہلاک شدہ افراد کی گنتی میں خاموشی سے شامل ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

نازش ظفر

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد