انڈیا میں کووڈ 19 کی وبا کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور وہاں سے سامنے آنے والے خوفناک مناظر کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران کی عکاسی کرتے ہیں۔

انتباہ: اس خبر میں موجود چند تصاویر کچھ لوگوں کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتی ہیں!

گذشتہ سات دنوں میں انڈیا میں کورونا کے جتنے نئے مریض سامنے آئے، اس کی نظیر دنیا بھر میں موجود نہیں۔

ہسپتالوں کے باہر ایسے لوگوں کی اموات ہو رہی ہیں جو بستر خالی ہونے کے منتظر تھے یا آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے چل بسے۔

اب شمشان گھاٹوں میں بھی جگہ ختم ہو رہی ہے اور کچھ تو 24 گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ وہاں کام کرنے والوں کے مطابق میتیں جلانے کا عمل مسلسل جاری ہے اور اس کام میں ابھی تک وقفہ نہیں آیا ہے۔

ہندو مذہب میں میت کو نذرِ آتش کرنے کا عمل آخری رسومات کا سب سے اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ ہندو عقیدے کے مطابق جسم کو تباہ کرنا ہوتا ہے تاکہ روح اس میں سے نکل جائے۔

ملک کے دارالحکومت نئی دہلی کے کچھ پارکوں اور خالی پلاٹوں میں عارضی شمشان گھاٹ قائم کیے جا رہے ہیں اور اطلاعات ہیں کہ حکام پارکوں سے درخت کاٹ کر میتوں کو جلانے کے لیے استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

کئی خاندانوں کو اپنے پیاروں کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کچھ کو تو لکڑی لگانے اور دیگر رسومات میں مدد کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔
ملک کے مختلف شمشان گھاٹوں پر جلتی چتاوں کی تصاویر

ب

ی بی سی اردو ڈاٹ کام