کورونا وائرس: اس غیر معمولی خطرے کا شکار کون اور کیوں؟

0 5

نیا کورونا وائرس آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں تیزی سے پھیل جائے گا اور جرمنی کی دو تہائی آبادی انفیکشن کا شکار ہو سکتی ہے۔ برلن کے ریسرچ انسٹیٹیوٹ شیریٹے کے معروف ماہر وائرولوجسٹ کرسچن ڈروسٹن کا کہنا ہے کہ جب موسم گرما پوری طرح آ جائے گا اور کلاسیکی سردی یا فلو کا موسم ختم ہو جائے گا تب بھی کورونا کے اثرات میں خاطر خواہ تبدیلی کا امکان کم ہی نظر آ رہا ہے۔ تاہم گرمیوں میں اس انفیکشن کی شدت کم ہو گی اور جب موسم خزاں میں اگلی سردی کی لہر آئے گی تب تک ان افراد کے اندر SARS-CoV-2 یا سارس کووی 2 کے خلاف پہلے سے ہی اینٹی باڈیز پیدا ہو چُکی ہوں گی۔

عمر رسیدہ افراد کیوں زیادہ خطرے سے دوچار؟

بڑی عمر کے افراد بیماریوں کے سلسلے میں ہمیشہ ہی خطرے سے دوچار رہتے ہیں کیونکہ ان کے اندر قوت مدافعت کمزور پڑ چُکی ہوتی ہے۔ اس لیے ان افراد میں اموات کی شرح 65 سال کی عمر کے بعد سے تیزی سے بڑھ جاتی ہے۔ مثال کے طور پر چین میں کورونا وائرس سے متاثر 40 سال تک کی عمر کے افراد کی اس وائرس کے سبب ہونے والی اموات کی شرح 0.2 فیصد ہے جبکہ 70 سے 79 سال کے درمیانی عمر کے افراد کی اموات کی شرح آٹھ فیصد ہے اور 80 سال سے اوپر کی عمر کے انسانوں کی اموات کی شرح 14.8 فیصد بنتی ہے۔

ان حقائق کے پیش نظر خاص طور پر عمر رسیدہ افراد کو آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں خود کو محفوظ رکھنا چاہیے۔ بالخصوص ایسے افراد جو ماضی میں بیماریوں میں مبتلا رہے ہوں۔ اس ‘رسک گروپ‘ کو حقیقت میں لوگوں کے اجتماعات، محافل موسیقی یا کلب وغیرہ جانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

کونسی سابقہ بیماریوں سے کورونا انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے؟

اب تک کورونا وائرس کے سبب مرنے والوں میں تقریباً تمام افراد اس وائرس سے متاثر ہونے سے پہلے ہی بیمار تھے۔ چین میں ایسے کیسز کے بارے میں ڈبلیو ایچ او کے تجزیے کے مطابق، دل کی بیماریوں، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، سانس کی کہنہ بیماریوں اور کینسر کے شکار بوڑھے افراد کو خاص طور پر خطرات لاحق ہیں۔

عورتوں کے مقابلے مرد اکثر کیوں زیادہ متاثر ہوتے ہیں؟

ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار کے مطابق SARS-CoV-2 کا شکار ہو کر مرنے والے مریضوں میں خواتین کے مقابلے میں مردوں کی تعداد نمایاں طور پر زیادہ تھی۔ چین میں فروری کے وسط میں مردوں کی اموات کی شرح 2.8 فیصد اور خواتین کی 1.7 فیصد تھی۔ 2003 ء میں ہانگ کانگ میں سارس پھیلنے کے بعد اسی قسم کے اعداد و شمار سامنے آئے تھے اور یہاں تک کہ عام فلو بھی عورتوں کے مقابلے میں مردوں پر زیادہ شدت سے حملہ آور ہوتا ہے۔

ایک اور وجہ یہ کہ خواتین کا مدافعتی نظام مردوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ سب سے بڑھ کر، مادہ جنسی ہارمون ایسٹروجن عورتوں کے مدافعتی نظام کو متحرک کرنے اور بیماریوں کے خلاف مزاحمت کرنے کے نظام کو مضبوط بناتا ہے اور یوں خواتین بیماریوں کا مقابلہ تیز رفتاری اور زیادہ بڑے پیمانے پر کرتی سکتی ہیں۔ اس کے برعکس مردوں کے اندر پائے جانے والے ہارمون ٹیسٹوسٹیرون مدافعتی نظام کو روکتا ہے۔

مالیکیولر وائرولوجسٹ تھامس پِٹس مین نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ خواتین اور مردوں کے مدافعتی نظام میں فرق کی ایک بڑی وجہ ”جینیاتی‘‘ بھی ہے۔ مثال کے طور پر وہ جین جو بیماریوں کا سبب بننے والے عناصر کو پہچاننے کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور یہ ’ ایکس کروموسوم‘ پر انکوڈ ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ خواتین میں دو ایکس کروموسومز ہوتے ہیں اور مردوں کے پاس صرف ایک۔ یہ خواتین کو قدرت کی طرف سے دیا گیا فائدہ ہے۔

جینیاتی نوعیت کے علاوہ طرز زندگی بھی بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ خواتین اکثر مردوں کے مقابلے میں صحت مند زندگی بسر کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر چین میں تقریباً 52 فیصد مرد تمباکو نوشی کرتے ہیں جبکہ خواتین کی کُل تعداد کا محض تین فیصد تمباکو نوشی کے عادت میں مبتلا ہے۔ یاد رہے کہ سگریٹ نوشی سے پھیپھڑے بہت کمزور ہو جاتے ہیں اور سانس کے انفیکشن کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔

کورونا سے بچوں کو خطرہ کم کیوں ہے؟

حیرت کی بات یہ ہے کہ جب کورونا وائرس کے خطرات سے دوچار انسانوں کی بات کی جاتی ہے تو معاشرے کے سب سے کمزور اور نازک عناصر یعنی بچے اس میں شامل نہیں ہوتے ہیں۔ بے شک بچے بھی اس وائرس کا شکار ہوجاتے ہیں لیکن وہ بیمار نہیں ہوتے ہیں یا ان میں صرف ہلکی علامات ہی نظر آتی ہیں۔ اس کی وجہ کے بارے میں اب تک واضح اور حتمی بات نہیں کی جاسکی ہے۔ ڈاکٹروں کا ماننا ہے کہ چھوٹے بچوں میں پہلے سے ہی پیدائشی ایک ”غیر مخصوص نظام‘‘ کام کرتا ہے۔

پہلے تو رحم مادر میں جینین کو تمام تر بیماریوں کا سبب بننے والے پیتھوجینز سے تحفظ قدرت کی طرف سے فراہم ہوتا ہے۔ پیدائش کے بعد ماں نوزائیدہ کو چھاتی کے دودھ کے ذریعے اپنا مخصوص مدافعتی نظام تحفظ منتقل کرتی ہے۔ اس فطری قوت مدافعت کے نظام میں مثال کے طور پر سفید خون کے خلیات شامل ہیں، جو جلد کے ذریعے بچے کے جسم میں داخل ہونے والے قاتل جرثوموں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔

یہ "غیر فعال حفاظتی نظام ” عام طور پر بچے کے لیے اس وقت تک کافی ہوتا ہے، جب تک کہ اُن میں اپنا مدافعتی نظام تشکیل نہ پا جائے۔ بچے 10 سال کی عمر تک اپنے مخصوص مدافعتی نظام کو تیار کرتے رہتے ہیں اور اس کے بعد بھی بچوں کا مدافعتی نظام پوری زندگی نئے پیتھوجینز یا بیماریوں کا حملہ کرنے والے جراثیموں اور بیکٹیریاز سے جنگ کرنے کے لیے خود کی تربیت کرتا رہتا ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو