لکھنؤ:ہندوستان میں اس وقت کورونا نے ایک بار پھر اپنا قہر برپا کر دیا ہے۔ کورونا کی دوسری لہر ہندوستان کی کئی ریاستوں میں اپنی رفتار پکڑ چکی ہے۔ متعدد شہروں میں اموات کا گراف بھی انتہائی تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ اس درمیان لکھنؤ میں پیر کی شب رات 8 بجے تک 130 لاشیں دو شمشان گھاٹ پر پہنچیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس میں بیشتر لاشیں کورونا متاثر مریضوں کی تھیں۔ شمشان گھاٹوں پر حالات ایسے پیدا ہو گئے ہیں کہ لکڑیوں کی بھی قلت محسوس کی جانے لگی ہے

امر اجالا کی خبر کے مطابق آخری رسومات کے لیے پیر کی صبح لکڑی کی کمی پڑ گئی تھی جس سے لوگوں کو نشاط گنج، رحیم نگر اور ڈالی گنج وغیرہ سے لکڑی خرید کر لانی پڑی۔ یہاں لوگوں سے لکڑی کی منمانی قیمت وصولی گئی۔ میونسپل کمشنر اجے دویدی کا کہنا ہے کہ بیکنٹھ دھام پر لکڑی کا کام پنڈے ہی کرتے ہیں۔ اس کی قیمت طے ہے۔

صبح لکڑی کم ہونے کی جانکاری ملنے پر جائزہ لیا گیا۔ پنڈا نے عیش باغ سے کم لکڑی آ پانے کی بات کہی تو لکڑی منگوائی گئی۔ کسی کو کوئی مسئلہ نہ ہو، اس کے لیے ایک کاؤنٹر بھی بنا دیا گیا ہے۔ الیکٹرک کریمیٹوریم کے پیچھے جو اضافی جگہ کورونا متاثرہ لاشوں کو جلانے کے لیے مقرر ہے، وہاں لکڑی کی کمی نہیں ہے۔ وہاں نگر نگم خود لکڑی دیتا ہے۔